سید احمد شاہ شہیدؒ ۔۲۔ آخری

کامیابی اور شہادت


اللہ کے بے برگ وسامان بندے صرف اللہ کی توفیق کے بھروسے پر سید صاحبؒ کی قیادت میں ، مولانا شہیدؒ کی رفاقت میں گھر بار چھوڑ چھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور گھومتے گھومتے پنجاب کی دوسری جانب پہنچے۔اس طرح انہوں نے اپنی مرضی کا محاذ جنگ منتخب کیا اور بہترین جنگی سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا ۔خوب خوب معرکہ آرائیاں ہوئیں ، شمشیر زنی  اور توپ افنگنی کے جوہر دکھائے گے۔جانیں لیں اور جانیں دیں۔ سر کاٹے اور سر کٹوائے ۔ کفار کے مردار خون سے زمین رنگین کرنے والوں نے آخر اپنے حیات بخش خون سے زمین کو لالہ زار کر دکھا یا۔


ہوا یوں کہ پشاور کی سرزمین نے اطاعت میں سبقت کی۔امکان پیدا ہو چلا تھا۔ کہ سارا پنجاب اور سرحد کا تمام علاقہ اسلامی نظام کے نور سے جگمگا اٹھے ۔ اور ایک بار پھر خلافت راشدہ کا عملی  نمونہ سامنے آجائے۔ مگر ابھی نام کے مسلمانوں کے برے دن لکھے تھے۔اور سچے مسلمانوں کی ابھی آزمائش باقی تھی۔۔۔برا ہو نسلی غرور کا ، برا ہو قبائلی عصبیت کا ، برا ہو جہالت کا ، اور ستیاناس ہو علماء سوء کی پھوٹ ڈالنے والی حرکات کا ، اور خدا معاف کرے مخلصین کی  بےصبر ی ، بے تد بیری اور نا تجربہ کاری کو ، سب نے مل ملا کر کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ حنفیت اور وہابیت کے جگھڑے کر دیئے گئے۔قبر پرستوں نے سر فروشان اسلام پر کفر کے فتوے داغے ۔ سرحد کے پٹھانوں نے غداری کی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف پشاور ہاتھ سے نکل گیا۔ بلکہ سید صاحبؒ اور مولانا اسمعیل شہیدؒ دونوں بالاکوٹ میں شہید ہو گئے۔


انا للہ و انّ الیہ راجعون


  بنا کر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن


خدا رحمت کند ایں عاشقاں پاک طینت را


بالا کوٹ کی تربیت میں آرام کرنے والو! تم پر اللہ کی رحمت اور سلام ! تماری ہڈیاں پھولوں میں رہیں ۔ اور اللہ تمہیں شہداء اور صالحین کی صف میں جگہ دے۔ آمین اللّہم آمین۔



پیغام عمل


سید صاحب کی دعوت خالص کتاب و سنّت کی طرف تھی ۔ بد عت اور شرک کو مٹانا آپ کا مشن تھا۔ وہ دین کی شوکت چاہتے تھے۔دین کا غلبہ چاہتے تھے۔ اقامت دین ان کا نصب العین تھا۔شہادت حق کی خاطر وہ اٹھے تھے۔اور اسی کی خا طر انہوں نے اپنی اور اپنے رفقاء کی شہادت کا نذرانہ بارگاہ خداوندی میں پیش کیا۔


آپ کے عہد میں شرک کا زور تھا۔باطل پرستوں ، انگریزوں اور سکھوں کا اقتدار تھا۔قبر پرستی اور تعزیہ داری کا رواج تھا عام تھا۔ بیوہ کا نکاح گویا جرم بلکہ گناہ تھا۔عقیدہ و فکر ، سیاست و مذہب ، معاشرت اور معشیت کی ان تمام خرابیوں پر آپ کی نگاہ تھی۔ آپ نے ہمہ جہتی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ تو حید خالص کی دعوت ، قبر پرستی  اور تعزیہ داری کا استیصال ، نکاح بیوہ گان کی تر ویج آپ کی کوششوں کی ہدف تھے۔عامہ خلائق کو امن وامان کی نعمت سے مالامال کرنا ، مظالم کی روک تھام اور اللہ کے کلمہ کو بلند کر نا دین محمدﷺ کوغالب کرنا ، شریعت اسلامیہ کا نفاذ یہ تھا۔ آپ کا مشن اسی کا پیغام دیتے ، اسی کی طرف آپ کی دعوت تھی۔ اسی کے لئے آ پ نے تحریک چلائی۔ اور اسی کیلئے آپؒ اور آپؒ کے رفقاء نے تن من دھن تج دیا۔


شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن


نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی


سردار سلطان محمد خان اور سردار سعید محمد خان کو خود سید صاحبؒ نے تحریر فرمایا۔رب غیور جو کہ دلوں کا حال اچھی طرح جانتا ھے۔ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ھے۔کہ منصب امامت کے قبول کرنے سے اس کے سوا میری کوئی دوسری نفسانی غرض نہیں کہ جہاد کو شرعی طریقے پر قائم کیا جائے اور مسلمانوں کی فوجوں میں نظم قائم ہو۔۔۔۔ہاں ااس قدر آرزو رکھتا ہوں کہ اکثر افراد انسانی بلکہ تمام ممالک میں ربّ العلمین کے حکام جن کا نام شرع متین ھے بلا کسی کی مخالفت کے جاری ہو جائیں۱



ناکامی کے اسباب


حضرت نوح علیہ اسلام ساڑھے نو برس کام کرنے کے بعد بھی ظاہری ناکامی کے با وجود حقیقی اعتبار سے کامیاب وبامراد رہے تو سیّد صاحبؒ کو بھی ناکام نہیں قرار دیا جاسکتا۔ مومن کا تو معیار کامیابی و ناکامی نرالا ہی ھے۔البتہ ظاہری طور پر ناکامی کا جو آ پ کو منہ دیکھنا پڑا تو اس کے بھی کچھ اسباب تھے۔ سیّد صاحبؒ اور مولانا شہیدؒ اور آ پ کے رفقاء کار کے خلوص اور تقوی کے پیش نظر یا آپ سے عقیدت مندانہ جذ بات کی خاطر اگر ان اسباب سے صرف نظر کیا جائے تو یہ در حقیقت آپ کے مشن کی طرف سے ناقابل معافی جرم کا ارتکاب ہو گا۔ جو غلبہ اسلام کیلئے کوشش کو لوگوں کی نظر میں بیکار ٹھہرائے گا۔ اور امت کے اندر ایک مایوسانہ ذہنیت کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔کہ ایسے بزرگوں کی کوشش ناکام رہی تو ہم کیا اور ہماری کوشش کیا؟


۱۔آپ نے جس علاقہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا تھا۔یعنی صوبہ سرحد اور آزاد قبائل کا علاقہ وہاں کے عوام کی تعلیم وتربیت کا انتظام آپ نہ فرما سکے۔فوری اور اقتی تبلیغ سے کچھ قبیلے آپ کے ہمنوا ہو گئے۔مگر جس قدر جلد وہ آپ کے ساتھ ہوئے اتنی ہی جلد وہ پھٹ بھی گئے۔اور غداری کا ارتکاب کر نے میں بھی انہون نے اتنی ہی چستی کا ثبوت دیا۔


۲۔اسلامی حکومت کے لئے اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے اسلامی ذہن رکھنے والے عوام بھی درکار ہیں۔اور عوام کا ذہن بنانے کے لئے مدّت دراز تک دعوت و تبلیغ کی بھی ضرورت ہے۔صبر اور پہیم جان گھلائے بغیر یہ کام ناممکن ہے۔خود حضورﷺ نے اسی تدریج سے کام لیا۔تیرہ سالہ مکّی زندگی کی آزمائشیں اور ان آزمائشوں کی بھٹی میں تپنے کے بعد کندن بن کر نکلے ہوئے کارکن بھی درکار ہیں۔ عجلت اور بے صبری سے کام  بگڑتا ہی ہے۔بنتا نہیں ہے۔ واقعہ یہ ھے۔ کہ اسلامی قوانین کے نفاذ میں تدریج سے کام نہیں لیا گیا۔



کارنامے


۱۔  آپ کا پہلا کارنامہ یہ ہے۔کہ ولی اللہی خاندان کی علمی اور فکری کوششوں کو فروغ آپ کی تحریک سے حاصل ہوا۔ اور ہندوستان کے مسلمانوں کی دینی حالت پر خاصہ اچھا اثر نمایاں ہوا۔


۲۔ مثلاً نکاح بیوگان کا رواج ہوا ، اسلامی آداب کی طرف سے جو غفلت عام تھی ، حتی کہ اسلام و علیکم کے بدلے ، آداب عرض کرتا ھے ، کا رواج خواص تک کے گھروں میں تھا ۔ اس شعار اسلامی کا رواج عام ہوا۔


۳۔ شرک وبد عت کی بھیانک تاریکی چھٹی اور توحید خا لص کا نور پھیلا اور اسلام  کا چہرہ نمایاں ہوا۔


۴ـ امت مسلمہ کے تن مردہ میں آپ نے روح جہاد پھونکی اور مجاہدین مخلصین کا ایک عظیم گروہ اسی امت کے اندر سے حاصل کر لینے میں کامیاب ہو گئے۔


۵۔ دین و شریعت کے اصل ماخذ قرآن و سنّت سے خواص اور عوام کو قریب قریب لانے میں خاصی کامیاب کو شش فر مائی۔


۶۔ امت  مسلمہ کو نہ صرف نماز ، روزہ ، کی پابندی کا خوگر بنانے کی کی فکر کی بلکہ حج کا فریضی جو تقریباً ساقط ہو چکا تھا اسے زندہ کیا اور حبّ دنیا میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کے عوام اور خواص کو مالی قربانی کی طرف متوجہ کرنے میں بھی آپ نے کامیابی حاصل فرمائی۔


ما خوذ از  کربلا سے بالا کوٹ تک از محّمد سلیمان فرحّ۔



یہاں مزید تفصیلات دیکھئے


 

سید احمد شاہ شہیدؒ ۔۲۔ آخری سید احمد شاہ شہیدؒ ۔۲۔ آخری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:24 AM Rating: 5

2 تبصرے:

سعد کہا...

میں نے آج یہ ساری تحریریں پڑھی ہیں۔ چلیے صاحب ہم سے بہتر تو وہ تھے جنھوں نے غلامی کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا اور محدود وسائل کے باوجود ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔ اور ہم ہیں کہ جو مرضی اٹھے اور ہمارے منہ پر کالک مل کر چلا جائے ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ ہم غلام ابنِ غلام ابنِ غلام ہیں اور ہمیں اس بے غیرتی کی زندگی پر فخر کا اظہار کرتے ہیں، اپنی تحریروں اور اپنے افعال سے۔

ارتقاءِ حيات کہا...

کاپی کیا ہے
پرنٹ نکال پر پڑھوں گی

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.