مرعوبیت اور احساس کمتری

اگر کوئی ہمارے مزاج کے مطابق بات نہ کرے تو برا لگتا ھے۔اور اگر عقائد اور نظریات پر تنقید کرے تو نہایت ہی برا لگتا ھے۔


لیکن اگر کوئی حسین صنف نازک ایسا کرے تو قابل برداشت ہوتا ھے۔ہماری تو یہ حالت ہوتی تھی کہ اگر کوئی حسین نہ بھی ہو صنف نازک ہی ہو تو ہم گانا شروع کردیتے تھے۔


تیرا لال ڈوپٹہ ململ دا


او جی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او جی


آپ ہمیں تھرکتا ہوا بھی تصور کر سکتے ہیں:D ۔


تو انہی دنوں ہم ایک ٹکنیکل کورس کر رھے تھے۔شام کے اوقات میں ہماری کلاس میں کافی خواتین حضرات تھے۔پاکستان کا جن صرف ہم تھے۔


اس لئے سب کے لئے کچھ عجیب عجیب تھے۔اس خصوصیت کی وجہ سے کلاس فیلو دوست کافی بن گئے۔


پاکستان کا جن کی وضاحت کردوں کہ جاپانی ہمیں عرف عام میں پاکستانی نہیں کہتے پاکستان کا جن ہی کہتے ہیں۔


نہیں یقین تو کسی جاپانی سے تصدیق کر لیں۔


ہم ۱۰۰فی صد سچے ثابت ہونگے۔


انہی کلاس فیلو میں ایک خاتونہ تھیں۔جنہیں سیاحت کا بہت شوق تھا اور وہ بھی پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت چلاس سکردو وغیرہ بہت جاتی تھیں۔


ہمارا منہ متھا شاید شمالی علاقاجاتی ھے۔اس لئے ان خاتونہ سے کافی بے تکلفانہ دوستی ہوگئی۔


لیکن ایک مسئلہ ہمیشہ درپیش رہتا تھا۔کہ وہ پاکستان کی برائیاں گنواتی تھیں۔ان برائیوں میں اسلامی قسم کی برائیاں بھی شامل تھیں۔


خاص کر شخصی آزادی اور حقوق نسواں پر ہمیں ایسا ایسا شرمندہ کرتیں تھیں کہ ہم بغیر کچھ سوچے سمجھے ان سے معذرت کر رہے ہوتے تھے۔


جیسے کہ یہ برائیاں ہماری پیدا کردہ ہیں۔


خاص کر انہیں اسلام آباد کے رہائشی سیکولر دو میاں بیوی جو ان کے نہایت قریبی دوست تھے انکا بڑا خیال رہتا تھا۔


کہ وہ پاکستان کے نہایت انتہا پسندانہ ماحول میں کھلے عام پینا پلانا نہیں کر سکتے تھے۔


جب یہ جاتیں تو ان کے لئے جاپان کا مشروب مغرب لے کر جاتی تھیں۔تینوں خوب انجوائے کرتے تھے۔


دوسری چیز جو انہیں بے چین رکھتی تھی۔وہ پاکستانی عورتوں کی بے بسی تھی۔عموما اس معاملے میں وہ اسلام کو مورد الزام گردانتی تھیں۔


ان کے مطابق پاکستان کے غیر سیکولر مسلمان نہایت جاہل ہیں اور ان کی عورتیں سخت پردے میں رہتی ہیں۔


اور کسی جگہ پر بھی عورت اور مرد مل جل نہیں سکتے۔جس سے معاشرے میں فرسٹریشن بہت ھے اور خاص کر  ہم جنس پرستی قسم کی جنسی برائیاں بہت زیادہ ہیں۔


ہم واقعی شرمندہ شرمندہ سے رہتے۔شر مندہ اس لئے کہ مسلمانی تو ہم چھوڑ نہیں سکتے اور مسلمان سے جان نہیں چھڑا سکتے!!۔


اور کہیں بس نہیں چلتا تو مولویوں کو گا لیاں دیتے کہ انہوں نے ہمیں مسلمان رکھا اور آج ہم ان حسینہ کے سامنے شرمندہ ہو رہے ہیں۔


عورت کے پردے کی بات آتی تو جناب ان کی آنکھیں ہمیں ماتھے پر لگی ھوئی لگتی تھیں۔اور یہ انگاروں جیسی نشیلی شعلے اڑا تی ہوئی!!۔


وہ پاکستان کی مسلمان عورت کی بے بسی اور پردوں میں چھپی زندگی کیلئے نہایت دکھی ہوتی تھیں۔


شادی بیاہ کی تقریبات میں عورت اورمرد علیحدہ علیحدہ!۔


کسی دعوت میں چلے جاو تو عورتوں کے آنے جانےکا دروازہ  اور مردوں کے آنے جانے کا دروازہ علیحدہ!۔


سفر کریں توبس ٹرین میں عورت کیلئے علیحدہ ڈبہ یا سیٹیں!۔


جب وہ اس طرح کی باتیں کرتیں تو یقین مانئے ہم تو شرم سے پانی پانی ہو جاتے تھے۔


ایک تو جاپانی تھیں اوپر  سےبڑی حسین بھی تھیں۔ظاہر ھے ہم جیسے نے ان سے مرعوب ہی ہونا تھا۔


اسی مرعوبیت میں ہم اپنی مسلمانی پہ شرمندہ ہوتے تھے!!۔


پھر بھی کچھ جوش میں آکر کہہ جاتے کہ یہ تو عورتوں کی حفاظت کیلئے ہے۔مردوں  میں جائیں گئیں تو پریشانی ہو گی نا!!!۔


ہمارا ایسا کہنا اور ہمیں اسلام کی عصر حاضر میں فضولیت پر ایک لمبا چوڑا لکچر سننا پڑتا۔


یہ لکچر سن کرہم  مسلمان ہونے پرشرمندہ تو ہوتے ہی تھے لیکن اسلام کی جان بھی  نہ چھوڑتے تھے۔


ہم کافی بل کھاتے لیکن اپنی جہالیت میں دیواروں سے سر ٹکرا کر رہ جاتے۔


ہم عموما انسٹیٹیوٹ گاڑی میں جایا کرتے تھے۔ایک دن کسی وجہ سے ہم ٹرین پر انسٹیٹیوٹ گئے۔


واپسی پر ان خاتو نہ کا اور ہمارا راستہ ایک ہی تھا اس لئے اکٹھے واپسی کا پروگرام بنا۔


ساتھ میں حسین ہو اور جاپان کی ٹرین ہو تو جناب میلہ میلہ ہوتا ھے۔


نہیں سمجھے؟


سمجھا دیں گے جی!!!۔


بس جناب ہم ذرا مست مست تھے۔


جب اسٹیشن پر پہونچے تو وہ ایک گلابی ڈبہ میں چڑھ گئیں!۔


اور ہمیں بائے بائے کردیا!۔


ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئی!۔


جب سمجھ آئی تو راز زندگی پایا ہم نے!!۔


وہ اس طرح جناب کہ جاپان میں بھی انتہا پسندانہ سوچ آگئی تھی۔کہ رش آور میں عورتوں کیلئے ٹرین میں علیحدہ ڈبہ رکھا جانا شروع کردیا  گیا تھا۔


یعنی عورت اور مرد کے برابری کے حقوق پر ڈاکہ ڈال دیا گیا تھا۔


جناب رات کو تھکاوٹ ہو اور مشروب مغرب گلے تک چڑھایا ہوا ہو اور جاپان کی ٹرین ہو!!۔


کسی قسم کی پابندی بھی نہ ہو اور عورت بے چاری بھی سارا دن کام کاج کر کے تھکی ہاری گھر واپس جا رہی ہو۔


تو نشہ دوبالا ہی ہو گا نا!!۔


کچھ اسی طرح کے کٹیلے الفاظ میں جب ہم نے دفاع کرنا شروع کیا۔اور ان خاتونہ سے کہا کہ آو پھر اس رش آور میں ٹرین میں ایک ہی ڈبے میں سفر کرتے ہیں کہ جنگل میں منگل ہوگااور عورت کو برابری کے حقوق دینے کا آپ نے ہمیں قائل بھی کردیا ھے۔


اس دن سے وہ خاتونہ ہم سے سخت ناراض ہیں۔دو ھفتے پہلے ہماری ان سے اتفاقا گھر کے قریب ملاقات ہو گئی لیکن وہ ابھی بھی ہم سے ناراض ہی لگتی تھیں۔


جاپان کے رش آوور کی وڈیو دیکھئے۔ برائے مہر بانی پاکستانی مرد ہمیں جاپان میں ملنے کیلئے آنے  کی خواہش مت کریں۔


میلہ میلہ



مرعوبیت اور احساس کمتری مرعوبیت اور احساس کمتری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:23 PM Rating: 5

24 تبصرے:

وقاراعظم کہا...

آپ کی اس میلہ میلہ کے پس پردہ مقاصد کا ہمیں کچھ کچھ اندازہ ہورہا ہے۔۔۔
:lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol:
حضور آپ سے ملاقات کو بہت دل چاہ رہا ہے. ابھی سے پیسے جوڑنا شروع کردیتا ہوں، آپ سے گذارش ہے کہ بس ویزہ بھجوادیں...

امتیاز کہا...

ہا ہا ہا
یہ تو خواہ مخواہ میں بہت کچھ دھکوں کی نظر ہو جاتا ہو گا یہاں....ا

سعد کہا...

ہاہا یہ انسانوں کا ڈبہ ہے یا جانوروں کا؟ 8O

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ابھی ایک بی بی آئیں گی ۔ کہنیاں چڑھا کر کہ آپ کی یہ جرآت؟۔۔ درس دیتی ہوئیں۔

پاکستان کا لبرل۔ لبرل سے مراد لبرل ہی ہے۔ اسے مادر پدر آزاد سمجھا جائے تو اس میں ہمارا قصور نہیں، وضاحت کر دی یے تانکہ سند رہے۔ تو پاکستان کے لبرل طبقے کو پاکستان کی ہر خامی ، ہر برائی کا قصور اسلام پسندی میں نظر آتا ہے۔اور کاں اسقدر چٹا کہ دودھ بھی شرماجائے۔

ان سب لبرلوں سے یہ پوچھا جائے۔ یارو جب سے پاکستان بنا ہے ۔ تب سے اس ملک میں حرامخوروں، ڈکٹیٹروں، چوروں لٹیروں کرپشن مافیا۔ پرسنٹیجیڈ صدروں اور مادر مشرف جیسے سیکولروں نے اس ملک پہ حکومت کی ہے اسے نچوڑا ہے ، اسے بھبھوڑا ہے۔ اسے چُوساہے۔ ان سب ننگ ملت ، بے غیرت اور قوم فروشوں کی لوٹ کھسوٹ کا سب سے زیادہ فائدہ اور حصہ انھی لبرل اور سیکولر طبقے نے ہر طریقے اور ہر حربے سے اٹھایا ہے اور نتیجے میں ملی ہر برائی کا الزام کمال ڈھٹائی سے اسلام یا عام مسلمانوں پہ ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ اس مملکت میں جسے بنایا ہی اس لئیے گیا تھا - یہ ملک اسلامی تجربہ گاہ ہوگی۔ اس ملک میں پچھلے باسٹھ ترینسٹھ سالوں میں ہر وہ قدم اٹھایا گیا۔ جس سے سیکولر لبرل طبقہ، فوجی جرنیل، لوٹے سیاستدان، کرپٹ مافیا ، جاگیردار ۔ وڈیرے نیز ہر ایرا غیرا نتھو خیرا تو بے محابا اور بے جا طور پہ اس ملک کے وسائل کو لوٹ کھسوٹ کر کے کروڑ پتی ، ارب پتی بن سکتا ہے۔ اور پچھلے باسٹھ تریسنٹھ سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ فوجی آمریت سے لیکر جمہوری آمریت تک کوئی ایک دوسر بھی اس ملک میں ایسا نہیں گزارا جسے اسلامی دور کہا جاسکے؟۔ اگر کسی نے اسلام کا نعرہ لگایا بھی تو محض اپنے گھٹیا ذاتی مفادات کے لئیے۔

اسلام تو کبھی بھی ریاستِ پاکستان میں بطور نظام لاگو ہی نہیں کیا گیا۔ مگر اسلامی تعلیمات کے برعکس بنائی گئیں تمام حکومتوں کے گند سے مستفید ہونے والے اس کا سارا الزام کمال ڈھٹائی سے اسلام پہ ڈالنے کا ڈھندورا پیٹتے ہیں۔یہ انتہائی نچلے درجے کی بے ایمانی اور بددیانتی ہے۔

محترم! جب تک آپکے ملک میں پاکستان کے تمام وسائل پہ بلا شرکت غیرے قابض لوگ جو نہ صرف پاکستان کے موجودہ وسائل پہ قابض ہیں بلکہ انہوں نے پاکستان کے اگلے پچاس تک کے وجود میں اںے والے وسائل بھی انہی طاقتوں کے ہاتھ بیچ رکھے ہیں جو طاقتیں مختلف حیلے بہانوں سے ان کو پاکستان جیسے درماندہ حالات کے ملک میں ہر صورت اس ملک پہ قابض رکھتے ہیں ۔ اور ریاست پاکستان کے آئیندہ پچاس سال کے وسائل پہ قرضوں کی شکل میں ملنے والی رقم بھی اسی قابض طبقے کی جیب میں جارہی ہے ۔ جب تک یہ لوگ پاکستان کے تمام وسائل پہ بلا شرکت غیرے قابض رہیں گے تو یہ لوگ حکومتوں اور ادروں کی عہدوں سے پاکستان کے عام عوام اور اسلام کی وہی تصویر فروخت کریں گے۔ جو غیر مسلموں اور اسلام بیر کی حد تک بغض رکھنے والوں کو انتہائی دلکش نظر آئے۔ جو آپ کے جاننے والی جاپانی خاتون کو پاکستان آمد ہم نوالہ و پیالہ لوگوں نے اسلام اور عام پاکستانی کی تصویر فروخت کی۔


گھٹیا مفادات کی خاطر پچھلے باسٹھ سالوں سے قوم فروشی میں مبتلاء یہ لبرل طبقہ فوجی آمریت سے لیکر جمہوری امریٹ تک ہر قسم کے بھیس بدل کر پاکستان کی تصویر فروختگی کر رہا ہے۔

انٹر نیٹ پہ بھی آپ کو چند ایک بزعم خویش دانشور سوقیانہ طریقے سے یہ تصویر فروختگی کرتے نظر آئیں گے کہ کسی این جی او کی نظر میں آجائیں۔ کوئی سیاسی جمائت انہیں اڈاپٹ کر لے۔ اور کچھ نہیں تو کوئی الزام شزام لگ جائے تو امریکہ یا پھر یوروپ کا ویزا مل جائے۔

جاپانی خاتون کا کیا قصور؟۔

عنیقہ ناز کہا...

ایسی بے کار باتون پہ مجھے وقت تو نہیں لگانا چاہءیے مگر خدا کو آپکو ایک اور جنم اور دینا چاہئیے تاکہ آپکو پاکستان میں بن پئیے مست اور خوش رہنے والوں اور دوپٹے کے بغیر اور چادروں اور برقعوں میں لپٹی ہوئ خواتین کے ساتھ جو اسلامی سلوک ہوتا ہے مسلمان مومن مردوں کے پاتھوں بسوں اور ریل گاڑیوں میں وہ نظر آجائے اور آپ اسے محسوس کر سکیں. اور آپکا یہ پاکستانی نماءیشی دینداری کا غلاف اترتا ہوا نظر آئے.
غضب خدا کا جب انسان جھوٹ پہ کمر باندھ لے تو اس کے لئے دعا کرنے کا بھی دل نہیں چاہتا. چہ جائیکہ اس کی مسلمانیت پہ فخر کرنے کا.
اپنی تنگ نظری کو جب اسلام کا لبادہ پہناتے ہیں تو ایسے ہی منافقانہ کردار ہر جگہ پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں چاہے وہ بلاگنگ کی دنیا ہو، پاکستان ہو یا جاپان.
اسکے بعد رمضان میں اللہ ہر مسلمان کو نیکی کی توفیق دے کا ورد بھی رمضان کے آغاز میں شروع ہو جاتا ہے. خدا صرف مسلمان مرد کو سچ بولنے کی توفیق دے تو یہ اسکی مسلمان قوم پہ بڑی رحمت ہوگی.

کاشف نصیر کہا...

عبداللہ میاں نے مفت میں مجھے یورپ پہنچادیا ہے، کاش وہ مجھے جاپان پہنچاتے تو میں بھی رات کے پچھلے پہر کسی ٹرین میں سفر کرتا!

عنقہ جی، پاکستان میں جو سلوک ہوتا ہے وہ اسکا ایک فیصد بھی نہیں جو مغرب میں خواتین کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے. آپ رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں صرف امریکہ میں ہر پندرہ منٹ میں سو سے زائد ریپ ہوتے ہیں اور سعودیہ عرب جہاں اسلامی قوانین نافظ ہیں وہاں خواتین سے چیڑ چھاڑ اور ریپ کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں. مثال کہ طور پر دو جوڑواں اور حسین بہنیں ایک ساتھ نکلتی ہیں ایک نے اسلامی لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور دوسری مغربی اسکرٹ وغیرہ ملبوس کئے ہوئے ہے. اب راستے میں ایک لفنگا کھڑا ہے وہ کس کے ساتھ بدتمیزی کرے وہ جو اپنے حسن کی نمائش کرہی ہے یا وہ جس نے اسلامی حجاب کیا ہوا ہے.

جعفر کہا...

چلیں جاپان کو چھوڑیں آپ
یہاں یواےای میں خواتین سرتاپا حجاب سے لے کر ایک بالشت کی نیکر تک میں نظر آتی ہیں، لیکن جرات نہیں ہے کسی کی کہ سوائے آنکھیں سینکنے کے کچھ اور کرسکے۔۔
اب اس کی وجوہات پتہ نہیں کیا ہیں۔ کچھ ‘تعلیم یافتہ‘ لوگ روشنی ڈالیں تو میرے خیالات بھی روشن ہوں۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ جو پاکستان میں عورتوں کے ساتھ کچھ کچھ ہوتا ھے۔اس میں اسلام کا کیا قصور جی؟
اگر ہماری ماوں بہنوں کی عزت ان خبیثوں سے محفوظ نہیں ھے۔تو انہیں جنتی مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ کیوں دیا جارہا ھے؟انہیں زبردستی راسخ العقیدہ مسلمان ہی کیوں گنا جارہا ھے۔نام مسلمانوں جیسا ھے اس لئے؟جیسے نام ہو عبداللہ اور اللہ ،سبحان اللہ، ما شا اللہ کا ورد بھی کیا جائے۔اور اللہ میاں سے شکوہ بھی کیا جائے کہ میرے پسند کے انسانوں کو کیوں تخلیق نہ کیا۔ان ناپسندیدہ انسانوں کی تعداد کیوں زیادہ کردی۔
باقی ایک لسٹ بنائی جائے کہ کیسی خبیث قسم کی زیادتیاں پاکستان میں پاکستانی عورت کے ساتھ ہوتی ہیں۔اور میرے ساتھ آئیں بمعہ ثبوت تجربہ کروا دوں گا۔کہ سیکولر معاشرے میں یہ برائیاں زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہیں۔اور کچھ برائیاں تو ایسی ہیں جنہیں یہ لوگ برا سمجھتے ہی نہیں۔راستہ میں کھڑے لفنگے یا راہ چلتے لفنگے اس معاشرے میں عام سی بات۔ اور راہ چلتے چلتے لفنگیوں کا ایک دو بچے پیدا کر نا بھی عام سی بات ھے۔
ہمیں بھی معلوم ھے کہ ہمارے معاشرے میں پانچ سے پچاس سال کی عورت اور بچی کو ہم اکیلے باہر نہیں بھیج سکتے۔ اگر مجبورا ایسا ہو جائے تو پریشا نی ہی ہوتی ھے۔لیکن اس کا اسلام سے کیا تعلق؟
مسلمانی سے شرمندہ ہیں تو مسلمانی چھوڑ دیں۔ہماری ہزارا خا میوں کے باوجود ہم سے تو یہ مسلمانی کمبل نہیں اترتا۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ سب مل کر جو جی چاہے کہيں جتنا جی چاہے شور کريں لکھوکھہا عملی مثاليں پيش کريں جس نے نہيں ماننا اس نے نہيں ماننا کيونکہ وہ سب کچھ جانتے ہيں ان کے پاس سب کچھ جاننے کے شايد سرٹيفيکيٹ بھی ہوں گے جو نہ ميرے پاس ہيں اور نہ آپ کے پاس ہيں
ميں يورپ امريکا لبيا سعودی عرب اور دبئی ميں رہ چکا ہوں اور ان سب کے معاشروں کا اچھی طرح مطالعہ کيا ہے ليکن بات تو وہی ہے کہ ميں نہ مانوں

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ہم نے تو پہلے ہی اطلاعاََ عرض کی تھی کہ۔۔۔۔۔
کاں چٹا ہے۔۔۔۔

کچھ لوگ مسلمانوں کو صرف اپنی طرح کے “لائٹ“ مسلمان دیکھنا چاہتے ہیں اور جو انکی طرح کے مسلمان نہ بننے پہ بضد ہوں انھیں دقیا نوسی ، بنیاد پرست مسلمان یوں کہتے ہیں جیسے گالی دے رہے ہوں۔ یا حیرت العجائب۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ جو پاکستان میں عورتوں کے ساتھ کچھ کچھ ہوتا ھے۔اس میں اسلام کا کیا قصور جی؟۔۔۔۔۔۔اگر ہماری ماوں بہنوں کی عزت ان خبیثوں سے محفوظ نہیں ھے۔تو انہیں جنتی مومن ہونے کا سرٹیفیکیٹ کیوں دیا جارہا ھے؟ یاسر خوامخواہ جاپانی

یہ انکا اور انٹر نیٹ پہ انکے کچھ پیٹی بند برادران کا اپنی طرح کا طرزِ تخاطب ہے جب انکی دانست میں اسلام کو رگڑا لگانا مقصود ہوتا ہے تو ہر لچے، لفنگے کو مسلمان اور مومن کہہ کر اپنے جذبات ٹھنڈے کئیے جاتے ہیں۔ کیا سمجھے آپ؟۔

سائیں محمد سلیم شیرو کہا...

سائیں سلیم شیرو کی کمیونٹی سے فریاد

میرے پیارے بھائی مولانا آپ کو سکون نہیں ہےکیا ؟ کیوں اس عمر میں پاکستانیوں کے پیچھے پڑ گئے ہو ؟ ۔ ۔ ۔ ۔
کیا روزے زیادہ لگ گئے ہیں ؟ یا گرمی زیادہ لگ گئی ہے ؟ میں نے پہلے بھی بولا تھا کہ اپنی گاڑی میں 4 ہزار کا پٹرول زیادہ ڈالا کرو ، ابھی آپ 8 ہزار کا ڈلواو ، اور اپنے دماغ کو کول کریں :roll:
میں عوام سے فریاد کرتا ہوں ، اس لئے کہ اس سے پہلے اپیلیں بھی کی ہیں اور حمائتیں بھی کرکے دیکھ لیا ہے ، آج سوچا کہ اب فریاد کرکے دیکھ لیتا ہوں ، ۔ ۔ ۔ ۔
یہ رمضان کا مہینہ ہے ، اس رمضان کے مبارک مہینے میں اگر کسی ایک نے بھی میری فریاد پر عمل کرلیا تو جنت کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کھائے گا ۔ یہ رمضان کا مہینہ ہے ، سب دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں سیلاب آیا ہوا ہے اور ہمارے بھائی چھتوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، میری فریاد یہ ہے کہ سب لوگ اپنی زکوٰۃ نکالو اور پاکستان بھیجو ۔
ہر کوئی کسی نہ کسی پلیٹ فارم کا خزانچی ہے، ہم جتنا بھی چندہ کرتے ہیں ، ہمیں نہیں پتہ چلتا کہ وہ چندہ کہاں جاتا ہے ، ہمیں سب کو نظر آرہا ہے کہ ملک میں لوگ ہمارے لئے اپنی آنکھوں میں سپنے سجائے بیٹھے ہیں ، ہمارا انتظار کر رہے ہیں ، وہ سندھی ، بلوچی ، پٹھان اور پنجابی نہیں ہیں ، وہ ہمارے بھائی ہیں ، پاکستان تو ان کیلئے سمندر ہوگیا ہے ، وہ سمندر میں بیٹھے ہوئے ہیں ، میں سارے پاکستانی بھائیوں سے فریاد کرتا ہوں کہ جو زکوۃ کا پیسہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے ضرورت مندوں تک پہنچاو، ، یہ ان کا حق بنتا ہے ۔
خدارا اپنے ملک کیلئے کچھ کرو ، پیسہ نا دو لیکن اپنی زکوٰۃ تو نکال دو ۔ یہ ہمارے دین کا بھی سوال ہے ، ہمارے ملک کا بھی سوال ہے اور رمضان کا بھی سوال ہے ، آپ نماز پڑھ رہے ہو ، روزے رکھ رہے ہو ، نیک اور اچھے عمل کررہے ہو ، سیلاب والوں کی مدد کرو ، ڈبل ثواب ملے گا۔

عنیقہ ناز کہا...

پاکستان میں عورتوں کے ساتح جو کچھ ہوتا ہے اسکا تعلق ہے اور وہ یہ کہ یہاں کا ہر دوسرا مرد مومن ہے. یقین نہ ہو تو سارے تبصرہ نگاران کی تعداد گن لیجئیے. ان میں سے کوئ بھی اس سے کم درجے پہ جانا پسند نہیں کرے گا. میں بھی مغربی معاشروں میں رہ چکی ہوں. لیکن میں وہاں تن تنہا سفر کرتی ہوں بغیر کسی سوچ بچار کے. پاکستان میں، میں جس محلے میں پیدا ہوئ، اسی میں وقت دیکھ کر آنا جانا پڑتا ہے. کراچی پاکستان کا سب دے زیادہ لبرل شہر اس سے باہر نکلیں تو خاتون کی زندگی کا کوئ تصور نہیں. ہر عورت کسی مرد کے بغیر نکل ہی نہیں سکتی. کیونکہ باہر پاکستانی مومن مردوں کا راج ہے. وہ پوچھتے ہیں کہ نیکر پہنی ہوئ عورت کو سوائے آنکھیں سینکنے کے اور کچھ نہیں کرتے. شاید ابکو معلوم نہیں کہ دنیا کی بہترین شراب اور بہترین پیشہ ور عورت انکے پڑوس دبئ میں میسر ہے. اور دنیا کے عیاش ترین مرد عرب مسلمان مرد ہوتے ہیں. جنکے حرم ایک وقت میں سینکڑوں خواتین سے آراستہ رہتے ہیں. کیا ہے یہ سب؟
کاشف نصیر صاحب آپکو اپنا مشاہدہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے. یہ جو ہمارے کراچی سے باہر کے شہروں کی خواتین ہے ناں ی اپنے گحروں سے باہر سر سے پیر تک چادر لپیٹے بغیر نہیں نکلتیں. ان میں ذرا زنا بالجبر کے واقعات کی کہانیاں سنیں. یہ معلوم کریں کہ پاکستان کے کوڑے گحروں اور نالوں کے کناروں سے کتنے نوزاءیدہ بچوں کی لاشیں روز ملتی ہیں اور مزید معلومات کے لئے کسی گائناکولوجسٹ سے معلومات ھاصل کریں. کسی جرم کے ہونے کے اعداد و شمار جاری کرنا اور کسی جرم کو چھپا کر اسکے ہونے سے انکار کرنا یہ جھوٹ کے زمرے میں ہی آتا ہے.
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اسی فی صد بچے اوائل عمری میں جنسی زیادت کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں. اب یہ مت بیان کرنے بیٹھ جائیے گا کہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوا. یہ اسی فی صد بچے ہمارے درمیان رہتے ہیں اور بڑے ہوتے ہیں.
منشیات کے عادی انسانوں کو اسکی لت لگ جاتی ہے. ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اسکے بعد سب اچھا لگتا ہے. وہ بھی جو نہیں ہوتا، اسے ہیلوسینیشن کہتے ہیں. ویسے برسبیل تذکرہ آپ لوگ کس نشے میں دھت ہیں. آیا یہ کسی ایک چیز کا نشہ ہے یا ہر ایک کچھ مختلف چیزیں ٹرائ کرتا ہے.
میری طرف سے مزید تبصرے کرنے کی یہ تحریر بالکل مستحق نہیں. اب جس کا دل چاہے اپنے کالے کوے کی نمائیش کرتا رہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عنیقہ بی بی ہم نے کب اس کا انکار کیا ھے؟
یا آپ نے صرف ہم سے دشمنی ہی کرنی ھے؟کس بات پر دشمنی کرتی ہیں؟
کیا چاہتی ہیں۔کہ ہم اسلام کو چھوڑ دیں؟کیا ہم ان معاشرتی برائیوں کو اچھا کہہ رھے ہیں؟
آپ کی بتائی ہوئی تمام باتوں سے ہمیں اتفاق ھے۔ہم بھی یہی چاھتے ہیں کہ یہ برائیاں ختم ہوں۔
ہمارے معاشرے میں بھی ہماری بہنیں بیٹیاں حفاظت میں رہیں۔
ہم سب کو ان برائیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاھئے۔
آپ ان برائیوںکی وجہ اسلام کو کہہ رہی ہیں؟
کیا یہ سب برائیاں اسلام کی وجہ سے ہیں؟
کیا یہ سب اللہ اللہ کرنے والے منافقین آپ کی نظر سے اسلام کی وجہ سے یہ سب کچھ کرتے ہیں؟ اگر اسلام کو دل سے ماننے والے ہوں۔اللہ سے ڈرنے والے ہوں یا صرف انسان ہی ہوں تو کیا یہ سب کچھ کریں؟
مجھے آپ کی صلاحیتوں آپ کی قابلیت میں کوئی شک نہیں ھے۔ خواہش بھی یہی ھے کہ
آپ جیسی خواتیں معاشرے میں ہوں کہ اس معاشرے کی عورت کی زندگی آسان ہو۔
آپ کی قوم سے ہمدردی بھی سمجھ میں آتی ھے۔
لیکن خدا کیلئے مخصوص علاقے والوں یا آپ سے اگر نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو ہی سب برائیوں کا موجد نہ ثابت کیا کریں۔
ہم جب مغربی معاشرے کا اس معاشرے میں رہ کر مشاہدہ کرتے ہیں۔تو اس معاشرے کو ااپنے ملک میں مسلط کرکے مسائل کا حل نہیں سمجھتے۔اگر آپ ایسا سمجھتی ہیں تو دلائل دیا کریں۔نہ کہ صرف الزامات کی بارش کر یں۔
آپ جب جوش میں ہوتی ہیں۔تو ہمیں یہی محسوس ہوتا ھے۔کہ آپ تمام برائیوں کی جڑ اسلام یا پھر پنجابی پٹھان بلوچی سندھی کو ہی سمجھتی ہیں۔
کیا اس طرح مسائل حل ہو جائیں گے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سائیں شیرو صاحب۔
سب سے پہلی بات یہ ھے کہ میں مولوی نہیں ہوں۔اور نہ اتنی عمر ہوئی ھے۔کہ بابا جی بن جاوں۔
دوسری بات یہ ھے کہ سائیں شیرو جو اصلی ھے۔وہ بے چارہ لکھ پڑھ نہیں سکتا۔
بحرحال آپ جو کوئی بھی ہو۔
اتنا عرض ھے۔اگر جاپان میں ہیں تو میرے بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں۔
جب آپ ٹن ہو رھے تھے۔اس وقت میں زکاہً نکال چکا تھا۔
اور رمضان سے پہلے سیلاب متاثرین کو بھیج چکا تھا۔
میری زکاہً تین سو ستر مان بنتی تھی۔
اور میرے خیال میں جیسی آپ کی ذھنیت ھے اتنی آپ شراب میں بہا دیتے ہو گے۔
ثبوت چاھئے تو رابطہ کرکے مجھ سے بینک کی رسید دیکھ سکتے ہیں۔

جعفر کہا...

جیسے موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے
ویسے ہی واہی تباہی بکنا روح کا فضلہ ہوتا ہے
اور یہ فضلہ بکھیرنے والے خود ہلکے ہوجاتے ہیں
جبکہ دوسروں کو تعفن میں سانس لینے پر مجبور کردیتے ہیں
ایسے لوگوں کے لئے
بالکل ہی در شاباش

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

جیسے موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے
ویسے ہی واہی تباہی بکنا روح کا فضلہ ہوتا ہے
اور یہ فضلہ بکھیرنے والے خود ہلکے ہوجاتے ہیں
جبکہ دوسروں کو تعفن میں سانس لینے پر مجبور کردیتے ہیں
ایسے لوگوں کے لئے
بالکل ہی در شاباش ۔۔۔جعفر says

متفق اور اسی خوبی پہ ہماری طرف سے دو عدد در شاباش۔

کاں چٹا ہے۔ ساری تقریر خرابہ کے حساب سے تو آدھے سے ذیادہ پاکستان کو گائنی اسپیشلسٹ سے جاکر اپنا حسب نسب پتہ کرنا چاہئیے۔

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں انہوں نے اپنے سروے کے مطابق اسی فیصد لڑکیوں اور لڑکوں کو اوائل عمری میں جنسی ذیادتی کا شکار بتایا ہے۔ وہ پاکستان میں اپنے سروے کے مطابق سو فیصد لڑکوں اور لڑکیوں کو اوائل عمری میں جنسی زیادتی کا شکار بھی بتلا دیتیں تو یاسر جی آپ ، میاں جعفر جی!، یا دیگر قارئین سمیت ہم آپ انکا کیا بگاڑ لیتے؟۔

لگے ہاتھ دہمکی بھی لگا گئی ہیں کہ کوے کو کالا کہنے والوں کے لئیے انکے پاس مزید وقت نہیں۔

ہاں البتہ وقت مل سکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر سب مل کر بولو!!!!
بی بی! ہم آپ کا کاں چٹا مانتے ہیں۔۔۔۔


اگر نہیں توآپ تاوقتکہ سب پنجابی طالبان، شدت پسند، مومن وغیرہ وغیرہ ہیں، اس وغیرہ کی ایک لمبی فہرست انکے بلاگ کا ایک دورہ کر کے دیکھی جاسکتی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تو جعفر اینڈ گوندل صاحبان
اگر بعد میں آپ احباب ہماری بد اخلاقی پہ نارا ض ہوں تو ہم اپنا غصہ اتاریں؟
یقین مانئے غصہ اتارنا ہمیں خوب آتا ھے۔
:lol: :lol: :lol:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

:lol: :lol:

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

جانے دیں غصے کو،

بدتمیز کہا...

میرا بس اتنا سوال ہے کہ باقی سب نہ کہیں کہ وہ اسی فیصد سے نہیں آپ اپنا تو بتا دیتی اسی میں ہے کہ تسی میں ہیں؟
میرا نہیں خیال اسی فیصد غلط ہو سکتا ہے۔ ہاں آپ کو علم ہونا چاہئے کہ سروے کرنے والوں نے زیادتی کا کیا پیمانہ رکھا تھا۔ جیسے ایک باالرضا ہوتا ہے اور ایک بالجبر۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عبد تمیز ہم نے ہی شرم کی وجہ ایسا نہیں پوچھا تھا۔
پھر کسی وقت کیلئے اٹھا رکھتے ہیں اس تبصرے کو :lol:

وقاراعظم کہا...

80 فیصد جنسی زیادتی کا شکار، یعنی ہر 100 میں سے 80 افراد کبھی نہ کبھی جنسی زیادتی کا شکار ہوئے......
یااللہ خیر.....
میڈم یہ تعداد تھوڑی کم نہیں ہوسکتی، پلیز....
نہیں تو آدھے سے ذیادہ پاکستان کو گائنی اسپیشلسٹ سے جاکر اپنا حسب نسب پتہ کرناپڑے گا...........
:roll: :roll: :roll: :roll: :roll:

ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک کہا...

مسئلہ غور طلب ہے ۔
اس دن سے وہ خاتونہ ہم سے سخت ناراض ہیں۔دو ھفتے پہلے ہماری ان سے اتفاقا گھر کے قریب ملاقات ہو گئی لیکن وہ ابھی بھی ہم سے ناراض ہی لگتی تھیں ۔
آپ اپنا علاج کروائیں ۔ھا ھا ھا
مردانہ و زنانہ مسائل کا گارنٹی سے علاج
ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.