کچھ اداسی اداسی میں

انسان جذبات اور خواہشات کا غلام ھے۔اگر یہ غلام معقول ہوتا تو  مذہب اور قانون کا وجود بیکار ہو جاتا۔مذہب  اورقانون کا انسان سے ایسا ہی رشتہ ہے جیسا عقل کا جذبات اور خواہشات سے۔احساس محرومیت کا جذبہ خواہشات کو ابھارتا ھے تو انسان چوری ڈکیتی یاطاقت کےاستعمال سے اپنی خواہش پوری کرنا چاہتا ھے۔عقل روکتی ہے اور سمجھاتی ھے۔یہ خواہش کی تکمیل کا غلط طریقہ ھے اور اس کا رد عمل اپنے ہی لئے نقصان دہ ہوگا۔انسان کو غصہ آتا ھے تو تشدد پر اتر آتا ھے۔لیکن عقل کے سمجھانے سے ترک کر دیتا ھے۔

عقل اخلاقیات سیکھاتی ھے اور اخلاقیات خواہشات میں نظم ضبط پیدا کرتے ہیں۔

مذہب اسلام  وحدانیت کی تعلیم دیتا ھے اور ایک دوسر ے کی مال وجان عزت وعصمت کی حرمت کی تعلیم دیتاھے۔

مملکت اس لئے ہوتی ھے کہ انسان اخلاقی قوت کا مطیع ہو۔اور ہر فرد اخلاقی دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی طاقت و ذہانت و صلاحیت کا استعمال کرے۔ہر فرد کسی قسم  کےخوف وخطر کے بغیراطمینان اور سکون سے اپنی زندگی بسر کرے۔

سیاست  معاشرتی نظام کی تنظیم قائم کرتی ھے۔سیاست کا یہ کام نہیں کہ انسانوں کو وحشی درندوں میں بدل دے۔انسانوں کی عقل کو سیاستدانوں کی عقیدت کا مطیع بنا کر سیاستدانوں کےمفاد کیلئے استعمال کرے۔

لیکن ہمارے معاشرے میں ہر جماعت ہر نام نہاد لیڈر چاھے وہ سیاسی ہو یا مذہبی ہوان کیلئے ان عوام کا مطیع ہو نا ہی اچھی مملکت کا باعث ہوگا اچھی معاشرتی زندگی کی ضمانت ہو گا۔

برسوں سے معاشرتی نا انصافیوں کے حقوق کی پامالی کے شکار عوام ان جماعتوں ان نام نہاد  لیڈروں کو اپنا مسیحا سمجھتی ھے۔اور پھر دھو کہ کا شکار ہو کر ایک دوسرے کا گلہ کاٹتی ھے۔

پھر عوام کا ہر کوئی فرد دھائی دے رہا ہوتا ھے کہ وہ مظلوم ھے۔کوئی یہ نہیں مانتا کہ اس نے ظلم کیا۔

بس ہر کوئی حق پر اور ہر کوئی مظلوم ہو تا ھے۔

جن کے یہ عوام عقیدت مند ہوتے ہیں۔وہ ان سے دور عوام کا  ھلاگلا ختم ہو نے تک سیر سپاٹے کر رہے ہو تے ہیں یا ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے آرام کر رہے ہوتے ہیں۔

ان سیاستدانوں ان حکمرانوں کو معلوم ہو تا ھے۔چند سو مر مار کر کاٹ پیٹ کر اس عوام کے دل کی بھڑاس نکل جائے گی۔ یہ عقیدت مند تو ہیں ہی پھر نئے سرے سے یہ ان کے مزید عقیدت مند ہو جائیں گے۔

عوام کیونکہ مظلوم ہوتی ھے۔ظاہر ھے فوج یا پولیس انہیں تھوڑی مار کاٹ رہی ہوتی ھے کہ یہ حکومت کو الزام دیں۔ان عوام کو تو ظا لم مار کاٹ رھے ہو تے ہیں۔

اس لئے یہ ظالموں کے خلاف ہتھیار اور آواز اٹھاتے ہیں۔

یہ ظالم ان کے آس پاس ہوتے ہیں۔

بس زبان اور علاقے کا فرق ہوتا۔

اس لئے انہیں ایک دوسرے پر ترس نہیں آتا۔

یہ صرف خود مظلوم ہوتے ہیں اور انہیں صرف ا پنے آپ پر ترس آتا ھے۔

نہ سیاست نہ مملکت نہ اخلاقیات نہ معاشرت نہ معاشیعت نہ مذہب

نہ دین نہ دنیا

اس کا نام

اسلامی جمہوریہ پاکستان
کچھ اداسی اداسی میں کچھ اداسی اداسی میں Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:02 PM Rating: 5

11 تبصرے:

جعفر کہا...

ایک بات یاد رکھیے
نہ تو پاکستان اسلامی ہے
نہ جمہوریہ ہے
اس لئے ان الفاظ کی بے حرمتی نہ کریں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہمممم..........جعفر بات تو آپ کی ٹھیک ھے.
ایسا کرتے ہیں اگر آپ میری حفاظت کی ذمہ داری لوتو......
منافق جمہوریہ پاکستان کیسا رھے گا؟ :lol: :lol: :lol:

جعفر کہا...

پھر جمہوریہ۔۔۔
منافق دوغلیہ پاکستان ۔۔۔

کاشف نصیر کہا...

بہت دلچسپ تحریر ہے، تبصرہ کچھ دیر بعد کے لئے موقوف کررہا ہوں.

عادل بھیا کہا...

ارے یاسر بھیا کی تحاریر پڑھ کر جنابِ والا کے سڑھے پن کا خوب اندازہ ہوتا ہے... میں نے تو پہلے دن ہی جناب کا بلاگ وزٹ کر کے ان باتوں کا اندازہ لگا لیا تھا.. لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہر بندے کا یہی حال ہے. اس میں کسی کا کیا قصور... عوام کو جب ساڑھ دیا گیا... تو اُس نے تو سڑھنا ہی ہے نا...
آہاہا... اوپر سے جعفر باغی میاں کے پُر اعتماد تبصرے پڑھ کر تو مزہ ہی دوبالا ہوجاتا ہے... :lol:

فرحان دانش کہا...

مشرف نے کہا تھا نا "پاکستان کا خدا حافظ" :mrgreen:

عثمان کہا...

جاپانی خوامخواہ اداس
:lol:

وقاراعظم کہا...

فرحان بھیا: مشرف تو خود پاکستان کو خدا حافظ کہہ گئے ہیں. :mrgreen:
اور دوستو! اس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کیا قصور ہے. منافقت اور دوغلاپن تو ہم پاکستانیوں میں ہے جی......

شگفتہ کہا...

السلام علیکم

یاسر بھائی ، کیا یہ ممکن ہے کہ آپ آزادی کی اہمیت اور آزادی کی حفاظت کے حوالے سے کوئی تحریر اپنے بلاگ پر لکھیں اور پاکستان میں موجود تعمیری رویوں اور سوچ کو موضوع تحریر بنائیں ؟ اگر ایسا ممکن ہو تو ضرور لکھیے گا ، مجھے خوشی ہو گی بہت . اسے فرمائش یا درخواست سمجھ لیں .

شکریہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شگفتہ بی بی سوچ ہی رہا تھا.کہ آپ کا حکم آگیا.
آزادی اور اپنا ملک یہ ہی تو ہمارا دل پسند موضوع ھے.
ہمارے معاشرے میں اچھائیاں بہت ہیں.
مغرب کے معاشرے سے پھر بھی بہتر ہیں.

دانیال دانش کہا...

مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھ
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.