ہمارے سائیں جی۔ کشتوں کے پشتے لگاو!!۔

ہمارے ایک سائیں جی ہیں۔سائیں جی یعنی حقیقتا مجنون ہیں

انہیں جو چائے پانی دیتا ھے۔وہ اسی کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور انہیں سے بہت مانوس ہو جاتےہیں۔

جو انہیں چائے پانی دے اس سے حد سے زیادہ مانوسیت میں ان کی ہر بات کو ٹھیک سمجھتے ہیں۔

کوئی ان کے مہربانوں کے خلاف ہو یا ان سے زیادتی کرے تو سائیں جی کا غصے سے برا حال ہو جاتا ھے۔

کیوں کہ سائیں جی مجنون ہیں انکا کسی مسلک یا سیاسی و دینی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ھے۔

جیسا کے ہمارے معاشرے میں ہوتا ھے۔ہر کوئی ایسے سائیں جی سے دعاوں کا طلبگار ہوتا ھے۔

سائیں جی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں اور چائے پانی دینے والے کو دعائیں دیتے ہیں۔

اب ہمارے معاشرے میں خاندان کنبے قبیلے میں ہر قسم کے مذہبی نظریات کے رشتہ دار واقارب ہوتے ہیں۔

نظریاتی مخالفت اور دھینگا مشتی کے باوجود سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔

ایک دن ہمارے سائیں جی کو کچھ رشتہ دار کسی تاریخی محفل میں لے گئے۔

سائیں جی نے محفل میں کھایا پیا اور بہت خوش ہوئے سب کو دعائیں دیں۔

لیکن سائیں جی کے ساتھ کچھ دماغی قسم کی گڑبڑ ہو گئی۔

سائیں جی گھر واپس آئے تو پہلے تو انہوں نے لات مار کر دروازہ کھولا! ۔

جو چیز سامنے آئی اس کی توڑ پھوڑ شروع کردی۔گھر کی خواتیں بھاگ کر کمرے میں بند ھو گئیں۔

گالی گلوچ تو آپ کو معلوم ہی ھے کہ سائیں جی قسم کے حضرات خوب کرتے ہیں۔تو ہمارے سائیں جی بھی گالی گلوچ خوب کر رھے تھے۔

سائیں جی کے غصے میں جو نقصان ہوتا ھے وہ تو ہوتا ہی ہے۔

ایسی حالت میں اگر سائیں جی کو روکا جائے تو پھر جناب سمجھ لیں سب کچھ خانہ خراب تے ستیاناس ہو جائے گا۔

سائیں جی کے چھوٹے بھائی جو سائیں جی کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔سائیں جی ان سے سب سے زیادہ مانوس ہیں۔

وہ سائیں جی کا غصہ ٹھنڈا ہو نے کا خاموشی سے انتظار کر رھے تھے۔

اچانک سائیں جی نے ان سے پوچھا۔

یہ ابو بکر اور عمر کون ہیں :twisted: :twisted: ؟

ان کے چھوٹے بھائی سائیں جی کے غصے کہ وجہ سمجھ گئے!!۔

انہوں نے نہایت پیار سے کہا۔

سائیں جی یہ اپنے ہی آدمی ہیں!!۔

چائے پانی بھی یہی بندے دیتے ہیں!!۔

سائیں جی یک دم ٹھنڈے ہو گئے!!۔

اور بولے اچھا ! 8O اپنے بندے ہیں پھر ٹھیک ھے!!۔

چلو مجھے چائے دو!!۔

بس ہمیں تو انہیں مرشد سائیں جی نےیہ سبق سکھایا ھے۔

کہ اپنے بندے ہیں تو سب ٹھیک ھے۔ دوسروں کے ہیں تو ان کی ایسی کی تیسی!!۔

سارے پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا  ہےنا؟!!۔

سارے سائیں جی ہی لگتے ہیں مجھے تو!!۔

توڑ پھوڑ کی حد تک!!۔

خصماں نوں کھاو تے سانوں کی!!۔
ہمارے سائیں جی۔ کشتوں کے پشتے لگاو!!۔ ہمارے سائیں جی۔ کشتوں کے پشتے لگاو!!۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:04 PM Rating: 5

6 تبصرے:

خاور کہا...

بڑی گوڑی گل لکھی جے
اس کو سمجھنے کے لیے ایک خاص ماحول کاادراک چاہیے
لیکن
سانوں کی!!!!-

عدنان کہا...

بڑی بات کی ہے آپ نے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

درست نقشہ پيش کيا ہے ہمارے معاشرے کا ۔ اس سے بہتر کچھ نہيں لکھا جا سکتا

سعد کہا...

بلا تبصرہ

عین لام میم کہا...

آپ اپنے بندے ہیں اس لئے آپ نے ٹھیک ہی لکھا ہو گا.... :roll:

کاشف نصیر کہا...

یاسر، آپ نے موضوع کا حق ادا کردیا. بھئی کیا خوب تحریر ہے، ناصرف مزا آیا بلکہ نصیحت بھی ہوئی.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.