مدد خدارا مدد یہ ملک صرف ہمارا ھے ہمارے باپ دادا کا ھے

جنگ اخبار میں محترمہ فاطمہ بھٹو کا کالم پڑھا۔


ان کی پاکستانی قوم سے ہمدردی ہمیں بہت اچھی لگی کہ حکمران طبقے سے تعلق ھے اور بھٹو خاندان مسلمسل پاکستان کی سیاست میں شامل ھے۔ان کی بات دنیا میں سنی جاتی ھے۔


محترمہ فاطمہ بھٹو صاحبہ اپنی خاندان کی قربانیوں اور پاکستانی عوام کی قربانی کا ذکر کر نے کے بعد صدر مملکت جناب زرداری صاحب پر تنقید کرنے کے بعد بے چینی اور پریشانی کا اظہار کچھ ان الفاظ میں فرماتی ہیں۔














تاہم عالمی برادری پاکستان میں ہونے والی تباہ کاریوں کی جانب سے اپنی پیٹھ موڑ لے  ۔

تو ایسی صورت میں ریلیف کی تمام تر ذمہ داریاں عسکریت پسند سنبھال سکتے ہیں ۔

جو  بنیادی ضروریات کی فوری فراہمی کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

 وہ غذا کے علاوہ ادویات  اور خیمے بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

اگر آکسفیم، اقوام متحدہ اور مرلن جیسی تنظیموں  کی جانب سے

 پاکستان کو شفاف طریقے سے ضروری اور مطلوبہ امداد فراہم نہ کی گئی۔

 تو  عسکریت پسندوں کا کام آسان ہوجائے گا ۔
اور وہ بڑی کامیابی کے ساتھ اس خلا کو پرکر دیں گے۔

 تاہم ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے  پاکستان میں آنے والے سیلاب کو

 ”سلوموشن سونامی“ سے تعبیر کیا ہے۔ براہ کرم…میرے  ملک کو ڈوبنے سے بچا لیجئے۔

دیکھئے کیا درد بھری التماس ھے اور قوم کیلئے کتنی پریشان ہیں۔ پہلے تو میں صرف  محترمہ کے حسن کا پروانہ تھا۔

اب ان کی دوراندیشی  کا بھی قائل ہوگیا ہوں۔

آخر اپنے خاندان کے مستقبل کا بھی سوچنا ھے۔جیسے چور چوری سے نہیں جاتا ۔

اسی طرح جسے حکمرانی کا چسکا پڑ جائے وہ اس نشے سے جان نہیں چھڑا پاتا۔

جن میں لٹی پٹی انسانیت کی مدد کی صلا حیت ھے۔ انہیں یہ نہیں کرنے دیں گے۔عسکریت پسند جنہیں کہا جاتا ھے ۔وہ کون ہیں؟

بس جناب یہ  مسلمان ہیں اور یہ عسکریت پسند سیا ست اور دین کو علیحدہ نہیں کرنا چاہتے ۔

یہ ان مسلمانوں کا دین اور سیا ست کو ایک جگہ جمع کر نا ان کے خیال کے مطابق عصر حاضر میں جہالت اور بے وقوفی ہی ہو گا!!؟؟۔

جناب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون صاحب اور تمام عالمی برادری سے ہم بھی فیقرانہ و گداگرانہ التجا کر تے ہیں۔

کہ سیلاب متاثرین کو عسکریت پسندوں کی مدد امداد سے بچائیں۔

ان جاہل اجڈ عسکریت پسندوں میں امدادی کاروائیاں کرنے کی صلاحیت ھے۔لیکن ہم ان کو کچھ نہیں کرنے دیں گے۔

ہمیں عالمی برادری کی بھیک اور نظر کرم کی سخت ضرورت ھے۔اگر عسکریت پسند کامیاب ھو گئے ۔

تو ہمارا ملک ہمارا نہیں غریب غربا اجڈ گنوار جاہل  مسلمان عوام کا ہو جائے گا۔

ایسا ہو گیا تو ہمارا کیا ہو گا جی؟


خدا را

مدد

مدد


ہمیں ان کی تحریر سے ایسا ہی محسوس ہوا۔ جسے ہم نے اپنے دل کے حال کے ساتھ ملا کر یہا ں لکھ دیا۔






















مدد خدارا مدد یہ ملک صرف ہمارا ھے ہمارے باپ دادا کا ھے مدد خدارا مدد یہ ملک صرف ہمارا ھے ہمارے باپ دادا کا ھے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:37 PM Rating: 5

21 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

مطلب یہ ہوا کہ نہ خود مدد کرنی ہے اور نہ سچے مسلمانوں کو مدد کرنے دینی ہے.

سعد کہا...

ان کے مزید خیالات یہاں سے جانے جا سکتے ہیں
http://twitter.com/fbhutto

عادل بھیا کہا...

اللھم اغفر ورحم وانت خیرالراحمین

خاور کہا...

آگر اپ اس بات کو اس تناظر میں دیکھیں که
اٹلانٹک کے معاہدے کے بعد برطانوی کالونیون کا چارج امریکه کے پاس هے تو
اپ کو نظر آئے گا که امریکہ کے گماشتے حکمران خاندان اس ملک کے اصلی لوگوں کو اگے انے سے روکنے کے لیے اپنے اقاؤں سے درخواست کررهے هیں اور ان کو بتا رهے هیں که یه وھ لوگ هیں جن کو اکر معلوم هو گیا که هم ابھی تک غلام هیں تو ازادی کی ایک اور لہر بھی اٹھ سکتی هے
لیکن مزے کی بات هے که عوام کو تو معلوم هے هی نهیں سیاستدانوں کی ایک اکثریت کو بھی معلوم نهین هے که
پاکستان ابھی کالونی هے
جن کو معلوم ہے
ان کو اور ان کی اولادوں کو حکمرانی کی تربیت دی جاتی هے
جس کی مثال وھ تصویر بھی هے جس میں بلاول ،زرداری کے ساتھ ایک میٹنگ میں هے ، جهاں اس کے هونے کا تک نہیں بنتا

محمداسد کہا...

یہ بات پڑھ کر بہت ہنسی آتی ہے کہ عسکریت پسند اتنے طاقتور ہیں کہ وہ عوام کو غذا، خیمہ اور ادویات فراہم کرسکتے ہیں.

معلوم نہیں فاطمہ بھٹو کے پاس کونسی ڈکشنری میں عسکریت پسند کی تعریف لوگوں کی امداد کرنے کے لکھے ہیں. یہ بات بالکل غیر منتقی سی معلوم ہوتی ہے کہ چند باغیوں کا ٹولا عوام کو مدد کرنے کے لیے میدان میں آئے گا اور حکومت و دیگر اداروں کو پیچھے چھوڑ دے گا. نیز عسکریت پسندوں کے پاس اتنی دولت اور وسائل بھی نہیں جتنی کسی ملک کی حکومت کے پاس ہوتی ہے.

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت پر تنقید اور بیرون ملک زیادہ ہمدردیاں بٹورنے کے چکر میں نامعلوم عسکریت پسندوں کو زبردستی بیچ میں لایا گیا. ہم تو یہ مانتے ہیں کہ امداد کرنے والے عسکریت پسند نہیں ہوسکتے اور نہ عسکریت پسند بم دھماکوں کے علاوہ کوئی کام ڈھنگ سے کررسکتے ہیں.

کاشف نصیر کہا...

یاسر جی ایک وضاحت طلب کرنا چاہوں گا کہ خاور جی بلاگ پر میرے اور وقار جی سے متعلق آپکے نام سے جو تبصرہ شائع ہوا پے کیا وہ واقعی آپ نے کیا ہے؟

اور اگر آپ نے کیا ہے تو میں یہاں اپنا سخت احتجاج ریکارڈ کراتا ہوں اور اگر آپ نے نہیں کیا تو برائے مہربانی وہاں جاکر وضاحت کردیں.

شکریہ

جعفر کہا...

یار فاطمہ بھٹو کو کچھ نہ کہو۔۔۔ آہو۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وقار اعظم اور کاشیف نصیر دونوں جماعتئے ہیں۔
لیکن دونوں دو مختلف بندے ہیں۔
باقی خاور جی کی پوسٹ پر ہم بلاتبصرہ ہی گذریں گے۔
Thursday, 26 August 2010

یہ میرا ہی تبصرہ ھے۔
جماعتئے کا مطلب جماعت اسلامی سے ھے نہ کہ ایک دوسری جماعت جو خبیثوں کی ھے۔
اور نہ ہی ایسا لکھنے میں میرا کوئی خاص مقصد تھا۔
خوامخواہ میں تبصرہ کر دیا تھا۔
جاپان میں سخت گرمی کے رمضان ہیں اور ہم ایسے گرم رمضان کے عادی بھی نہیں تھے۔ یہ بھی ایک خوامخواہ تبصرہ کرنے کی وجہ ہوسکتی ھے۔
اگر میرے تبصرے سے کاشیف یا وقار بھائی کی دل آزاری ہوئی ھے تو میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔
اور نہایت ہی معذرت خواہ ہوں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر جی۔
آپ میرے رقیب رو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نورانی ہو۔

تانیہ رحمان کہا...

فاطمہ بھٹو پہلے اردو تو سیکھ لے پیسوں پر کالم لکھواتی ہیں ۔۔شرم نہیں آتی ۔۔۔۔ پاکستان کو اپنے باپ دادا کی قربانیوں کا نتیجہ کہتی ہے ۔۔۔ ساری زندگی ملک سے باہر رہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس کچھ نہیں کہتی اب

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یاسر بھائی!

میرے ایک عزیز ہیں جنہوں نے تقریبا دو دہائیاں قبل یہ پیشین گوئی کی تھی کہ بھٹو خاندان اور پاکستان اکھٹے نہیں چل سکتے۔دونوں کی سمت اور مقاصد مختلف ہیں۔

تانیہ بہن کی بات بھی قابل غور ہے۔

جعفر بھائی! کی یہ ۔۔ آہو۔۔ آہو جشم ۔۔۔ والی ۔۔ آہو۔۔ ہے یا اسے پنجابی کی ۔۔ آہو۔۔ سمجھا جائے ؟اگر یہ ۔۔ آہو۔۔ پنجابی والی ۔۔ آہو۔۔ ہے تو اس کا سلیس ترجمہ آسان لفظوں میں بیان کیا جائے۔

خاور کہا...

میرے خیال میں یه جاپانی والی آہو هے
جس کے معنے هوتے هیں کھسکا هوا
پاگل پن کے قریب

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہاہاہا
خاور جی میں پنجابی کے آہو کا اس طرح نہیں سوچا تھا۔ :lol:

ویسے امریکہ کے ریڈ انڈین
ہاتھ اٹھا کر آہو کہتے ہیں جس کا مطلب

سلام جی
ہوتا ھے۔

Jafar کہا...

D:
D:
D:

انجینئر احمد کہا...

اللہ کی شان دیکھو کس طرح صف بندی ہورہی ہے
یہ وقت کسی اور بات کا نہیں، دیکھنے والی یہی صف بندی ہے

زرا یہ بتانا پسند کریں گے کہ یہ محترمہ کہاں سے تعلق رکھتی ہیں؟ اگر پاکستان سے مخلص ہیں تو کس وجہ سے؟ پاکستان سے مخلص تو الطاف بھی ہے ، زرداری بھی ہے

اور دین سے محترمہ کا کیا تعلق ہے اور کونسے دین سے؟
یہ ملین ڈالر کا سوال ہے آسان نہیں ہوگا

مجاہدیں سے محترمہ کو کیا خطرہ لاحق ہے؟لوگوں کے جماعت اسلامی کی الخدمت سے کوئی اعتراض نہیں، اسکا نام بھی بس کیمو فلاج کرنےکو ساتھ لے دیتے ہیں جیسے کوریا اور ایران کا نام پاکستان کے نام کے ساتھ. اصل اعتراض جن اداروں پر ہے وہ یہ ہیں
الرحمت ٹرسٹ اور معمار ٹرسٹ
الرحمت ٹرسٹ مجاہدین کی جماعت جیش محمد کے تحت کام کرتی ہے اور جیش محمد صرف انڈیا اور افغانستان میں مصروف عمل . اب اس سے محترمہ کو کیا تشویس لاحق ہے؟
معمار ٹرسٹ جامعہ رشیدیہ کراچی کے تحت کام کرتی ہے .اس سے پہلے الاختر ٹرسٹ جس کی بنیاد مفتی اعظم مفتی رشید صاحب نے رکھی تھی اور بہترین تنظیم تھی مشرف دور میں بند کروائی گئی اب معمار ٹرسٹ کے تحت لوگوں کی مدد میں پیش پیش ہے. اس سے محترمہ کو کیا تکلیف ہے؟

امید ہے آپ جواب سے محروم نہیں رکھیں گے کیونکہ محترمہ نے آپکے دل کی بات کی ہے جواب آپ پر لازم آتا ہے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے انجنئیر صاحب
آپ نے تو ہماری ہی سرجری کردی.
ہمیں محترمہ سے جنون کی حد تک عشق ھے.اور خواہش ہے کہ ہم انہیں ہماری دوسری بیگم بنائیں.
اس کے لئے جعفر جی سے ایک زبردست جنگ لڑنی پڑے گی.
بحرحال آپ سے عرض ھے کہ ایک دفعہ پھر ہماری پوسٹ پڑھ لیں. دلچسپ نہ سہی لیکن اتنی لمبی نہیں ھے ہماری پوسٹ.

وقاراعظم کہا...

جعفر جی ثانیہ کا کیا ہوگا اس خبر کو سن کر..... :mrgreen:

Jafar کہا...

یار یاسر ساب
شادی کا رواج نہیں‌ ہے ان میں
آہو۔۔۔
ثانیہ؟؟؟
کون ثانیہ!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر جی
آپ بڑے وہ ہو...........
شادی کے بغیر تو کام نہیں چلے گا......

بے وفا کہیں کے
ثانیہ کو بھول گئے!!!.
:lol: :lol: :lol: :lol:

انجینئر احمد کہا...

حضرت یاسر صاحب

آپ خوبصورتی سے جواب گول کرگئے ، خیر!!

اور آپکا نکاح اس خاتون سے نہیں ہوسکتا البتہ متعہ ہوسکتا ہے مگر یقین ہے آپ کو قبول نہین ہوگا
نکاح کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو دیکھئے فتوا امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، حضرت عبدالقادر جیلانی اور بے شمار عرب و عجم کے علماء اور مفتیان

جتنی دیر تک آپ یہ دیکھتے ہیں ہم آپکی پوسٹ دوبارہ پڑھ لیں گے

:wink:

انجینئر احمد کہا...

حضرت یہ پڑھیں شاندار کالم
سو سونار کی ایک لوہار کی

http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101042539&Issue=NP_LHE&Date=20100831

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.