سخت جان قوم

جب ہم اسی کی دھائی میں جاپان آئے توٹوکیو میں اسلامک سنٹر جاپان اور سعودی عرب کا اسلامی انسٹیٹیوٹ اورٹوکیو سے باہر کوبے مسجدصرف یہ تین جگہیں ہی دینی مراکز ہوتیں تھیں۔جمعہ کی نماز،صلوات التراویح اور عیدین کی نمازیں بھی انہی جگہوں پر ہوتی تھیں۔یا پھر مختلف جگہوں پر سٹی ہال بک کرکے عید کی نماز کیلئے بندوبست کیا جاتا تھا۔رمضان یاعید کی معلومات کیلئے سب اسلامک سینٹر سے رابطہ کرتے تھے اور ہمیشہ اسلامک سینٹر کا فون بزی ہوتا تھا۔بڑی مشکل سے کسی ایک کو معلومات ملتی تھیں تو وہ سب کو آگے اطلاع دیتا تھا۔

اس طرح ہمارا رمضان شروع یا عید ہوتی تھی۔صلوات التراویح پڑھنا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ایک تو سب مزدور لوگ ہوتے تھے یا طالبعلم ان تین مراکز میں جانا بہت مشکل ہوتا تھا۔بعض جگہوں پر اگر کوئی حافظ قرآن موجود ہوں تو دوست لوگ اپنے اپارٹمنٹ میں صلوات التراویح کا بندوبست کرتےتھے۔اس وقت زیادہ تر پاکستانی یا پھربنگلہ دیشی مسلمان ہوتے تھے اور زیادہ تر غیر قانونی طورپر جاپان میں  مقیم تھے۔یا کچھ حضرات نے جاپانی خواتین سے شادی کی ہوئی تھی اور ان حضرات نے ڈیرے بنائے ہوئے تھے۔

ان ڈیرے والے حضرات  کی خدمات کچھ اس طرح کی تھیں کہ نوکری کا بندوبست کر کے دیتے تھے اگر فیکٹری میں رہائش کا بندوبست ہوتو وہاں پر بسا دیتے تھے۔فیکٹری میں بندوبست نہ ہونے کی صورت میں اپارٹمنٹ کرائے پر لے کر وہاں پر دو کمروں کے ڈربوں میں بیس سے تیس افراد کو رہائش فراہم کرتے تھے۔چاھے بندہ فیکٹری میں ہو یا ان ڈربے نما رہائش میں پر بندہ ایک مخصوص رقم اپنے مالک کو دیتا تھا۔اور مالک اسے رہائش نوکری اور حلال فوڈ دالیں مصا لحے گوشت  وغیرہ فراہم کرتا تھا۔مالک اس لئے کہ یہ حضرات ان مزدور لوگوں کو میرا بندہ کہتے تھے۔اگر ایک مالک کابندہ دوسرا مالک توڑ لے تو پھر ایک جنگ شروع ہو جاتی تھی جس میں ھڈی پسلی ٹوٹنا ایک عام سی بات تھی۔اسی جنگ میں ایک آدھ قتل بھی ہوا تھا۔عام مزدور مجبور بندہ ان مالکان کے مفاد کیلئے مجبورا لڑائی جھگڑے میں شامل ہو جاتا تھا۔کہ نہ شامل ہونے کی صورت میں رہائش اورنوکری سے ہاتھ دھونے کے خدشات ہوتے تھے۔

یہ مالک حضرات ان مزدور لوگوں کے پیسے بھی بذریعہ ہنڈی پاکستان بھیجتے تھے۔کچھ لوگ جنہیں تھوڑا بہت شعور تھا وہ ان پنگوں سے دور رہتے تھے اور اللہ ان کا مدد گار ہوتا تھا۔لیکن حلال فوڈ وغیرہ یا ہنڈی وغیرہ انہی مالکان کے ذریعے سے ہوتی تھی۔اگر کوئی ان گروہ بندی  وغیرہ میں حصہ نہ لے یا کسی اور قسم کی رنجش ہو جائے تو امیگریشن کا چھاپہ پڑوا دینا بھی ایک دہشت قائم رکھنے کا گر ہوتا تھا۔ان مزدور اور مجبور بندوں کو بعض اوقات تنخواہ والے دن لوٹ بھی لیا جاتا تھا۔لیکن یہ اتنا عام نہیں تھا۔کبھی کبھار سننے میں آتا تھا۔پھر نوے کی دھائی میں آہستہ آہستہ غیر قانونی لوگ کم ہوتے گئے کچھ نے شادیاں کر لیں اور کچھ نے بزنس کر لیا۔بزنس میں ریسٹورنٹ استعمال شدہ گاڑیوں کی برآمد قالینوں یا پتھر وغیرہ کی فروخت شا مل ھے۔اس کے علاوہ میں نے کوئی بزنس نہیں سنا جو پاکستانی یہاں پر کر رھے ہوں۔خاص کر استعمال شدہ گاڑیوں کے کاروبار نے جاپان کے پاکستا نیوں کو خوب مالدار کیا۔کچھ  اپنی اہلیت کی بنا پربہت ہی مالدار ہوگئے اورکچھ بس گذارہ کر رہے ہیں۔اس وقت اندازہ ہے کہ پاکستانی صرف دس ہزار کے لگ بھگ جاپان میں ہیں۔

میں نے جو شروع میں دیکھا جن میں بھی شامل ہوں۔ہم پاکستانیوں میں ہر اخلاقی بیماری تھی۔شراب عورت لڑائی جھگڑا سب اخلاقی یا معاشرتی برائیاں پاکستانی مسلمانوں میں موجود تھیں۔اب بھی ہیں کہ انسان ہیں۔جیسے جیسے یہ پاکستانی مسلمان آسودہ حال ہوتے گئے۔ان سے رب العزت نے دین کا کام لیا اور خوب لیا کہ اس وقت  جاپان کے ہر چیدہ چیدہ شہر میں مسجد موجود ھے اور آباد بھی ھے۔اگر کسی جگہ مسجد نہیں ھے تو مصلہ ضرور ہوگا۔میں یہ دعوی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ ان مساجد کو بنانے اور آباد کرنے میں پاکستانی مسلمانوں کا کردار بہت اہم اور سب سے زیادہ ھے یا انہی پاکستا نی مسلمانوں نے یہ مساجد بنائیں اور آباد کی ہوئی ہیں۔ٹوکیو جامعی مسجد جو ترکی حکومت کے زیر انتظام ھے۔یہاں پر ترکی کی حکومت ترکی کا کلچر سینٹر بنانا چاہتی تھی۔لیکن پاکستانی مسلمانوں نے لڑ جھگڑ کر ترکی سے یہاں پر مسجد بنوائی۔ دوسرے ممالک کے مسلمانوں  بنگلہ دیشی، سری لنکن  یا انڈین مسلمانوں کو ساتھ لیکر بھی یہی پاکستا نی مسلمان چلے اور مساجد  تعمیر کیں اور آباد رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔جاپان میں اسلام کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو پاکستانی مسلمانوں کی برائیوں کے ساتھ ان کے دین  اسلام کیلئے تعمیری کاموں کا ذکر بھی ضرور ہو گا۔

ہمارا پاکستان اور ہم پاکستانی بے شک مشکل وقت سے گذرتے آئے ہیں اور گذر رہے ہیں۔ میں ہمیشہ پاکستان اور پاکستانی قوم کے حالات دیکھ کر دکھی ہو جا تا ہوں۔اور بعض اوقت انتہائی مایوس بھی ہو جاتا ہوں۔لیکن جب اس سخت جان جہد مسلسل کرنے والی قوم کی ہمت دیکھتا ہوں تو پر عزم ہو جاتا ہوں۔کیا اس وقت کوئی ہم جیسی قوم ہے؟ مسلسل مصائب برداشت کررھے ہیں حالت جنگ میں بھی ہیں۔کوئی ہمارا ایسا اہم راہنما بھی ہمیں نظر نہیں آتا کہ ہم اس کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل دیں۔ہم انپڑھ ہیں جاہل ہیں بھوکے ننگے ہیں۔بھیڑیوں کے  چنگل میں ہیں۔مفاد پرست سیاستدانوں کیلئے استعمال بھی ہورہے ہیں۔ بعض اوقات آسمان نا راض زمین تنگ محسوس ہوتی ھے۔ لیکن اگر ہم دیار غیر میں اپنی ہزاروں کمزوریوں ہزاروں تنگیوں ہزاروں خامیوں کے باوجود ایک تاریخ لکھ سکتے ہیں تو  ہم کیوں نہ پر عزم اور پر امید نہ ہوں  کہ اتنے پر آشوب اور مشکل حالات  سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں۔میں جب اپنی سخت جان پاکستانی قوم کوجینے کی جدوجہد کرتے دیکھتا ہوں۔تو محسوس کرتا ہوں کہ یہ قوم دریا میں بہ جانے والی نہیں ھے۔یہ قوم انشا اللہ دریاوں کا رخ موڑنے والی ھے۔

پاکستانی زندہ اور جاندار قوم ھے۔

بے شک ہم امید رکھتے ہیں ہماری تمام برائیوں ہماری تمام سیاہ کاریوں کے باوجود ہم سے محبت کر نے والا ہمارا رحیم  و کریم مالک ہمیں کامیاب کرے گا۔
سخت جان قوم سخت جان قوم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:58 PM Rating: 5

11 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

آمین

سعد کہا...

آپ کی باتیں سن کر میں بھی حوصلے میں ہو گیا ہوں۔ پاکستانی قوم چاہے تو کچھ بھی کر سکتی ہے، ضرورت صرف مخلص رہنماؤں کی ہے جن کی بدقسمتی سے کمی ہے یہاں۔

امتیاز کہا...

جناب بہت خوب ..
ہم نے تو ہمیں یاد دلا دیا کہ ہم کیسی قوم ہیں
اور اس وقت میں بجائے مایوسی اور الزام تراشی کے ہمیں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے والی باتوں کو پھیلانا چاہیے

عثمان کہا...

جاپان میں مسلمانوں کے حالات خوب بیان کیے ہیں. آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ اس بارے میں تحریر لائیں. آپ توجہ ہی نہیں دیتے.

یاسر عمران مرزا کہا...

ایک بہت اچھی تحریر، پڑھ کر اچھا لگا۔ لیکن اپنی اچھائیوں پر فخر کرنے کی بجائے ہمیں اپنی برائیوں کو ختم کرنا ہو گا۔

جعفر کہا...

انشاءاللہ

کاشف نصیر کہا...

اچھی تحریر ہے

عدنان شاہد کہا...

جزاک اللہ
اچھی تحریر ہے جناب

محمداسد کہا...

اچھی تحریر ہے یاسر صاحب. اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ نہیں تو کم ضرور ہوگئی ہوں گی جو پاکستانی مسلمانوں کے متعلق پھیلائی جاتی ہیں.

پاکستانیوں کے بارے میں میرا نظریہ بھی آپ سے زیادہ مختلف نہیں. ان لوگوں میں نیک بھی ہیں اور برے بھی. ضرورت ہے ان کو لیڈر کی. جو ان کو لے کر چلے. ہم میں سے اکثر ایک ایسی منزل کی جانب چل پڑتے ہیں جس کا انجام خود انہیں پتا بھی نہیں ہوتا.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں ہمیشہ محسوس کرتا ہوں۔جب بے زاری یا اداسی میں کچھ لکھتا ہوں تو سب پڑھ کر گذر جاتے ہیں۔اور شاید بڑبڑاتے بھی ہوں گے۔کہ کھسک گیا ھے :lol:
لیکن جب امید اور عزم کے ساتھ مثبت سوچ کے ساتھ لکھتا ہوں تو سب حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
واقعی ہم سب ایک ہیں انتھک اور نہایت پرعزم قوم ہیں۔
انشا اللہ رب العزت ہمیں کامیاب کرے گا۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ۔

عثمان جی ۔ایک دفعہ میں سب لکھ دیا تو مزا نہیں آئے گا۔
آہستہ آہستہ لکھوں گا۔آپ کی بات ہمیشہ ذہن میں ہوتی ھے۔

یاسر بھائی آپ کی بات بجا ھے۔بے شک برائی فخر کیلئے نہیں ہوتی۔

عادل بھیا کہا...

انشاءاللہ۔۔۔ ماشاءاللہ یاسر بھائی۔ بہت خوب۔
کاش آپ قریب ہوتے تو جپھی پا لیتے اور ایڈوانس عید مل لیتے۔

یاسر بھیا نے بھی خوب کہا۔ ہمیں اپنی اصلاح کئیے بغیر کسی سے کوئی اُمید نہیں ہونی چاہئیے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.