دھواں بس تاریکی

ہر فرد کو اپنی قوت برداشت کے مطابق اپنے ظرف کے مطابق تکالیف و مصائب برداشت کر نے پڑتے ہیں۔


انسان کا پیما نہ تکلیف کبھی خالی نہیں رہتا۔نہ ہی پیمانہ جذبات خالی ہو تا ھے۔ یہ پیمانہ چھلکتا بھی نہیں۔ان جذبات سے ان مصائب و تکالیف سے انسان جو دکھ محسوس کر تا اس  سے جو دل و دماغ  پر بوجھ جو دباو پڑتا ھے ۔اس  سےنہ ہی انسان کا دل پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوتا ھے  نہ  ہی دماغ پھٹتا ھے۔


جب ایک مصیبت ایک تکلیف دور ہوتی ھے۔جب ایک جذبے کی تسکین ہوتی ھے۔تو پھر بھی چھاتی پر ایک بوجھ ایک دباو موجود ہی رہتا ھے۔انسان کے مصائب یا تکلیف دور ہونے تک یا خواہش پوری ہونے تک انسان کو اس کی  منتظر خواہش اسکی منتظر تکلیف یا مصیبت کا شعور نہیں ہوتا۔


یہ شعور انسان کو اس لئے نہیں ہوتا کہ اس وقت اس میں مزید بوجھ اٹھانے کی قوت نہیں ہوتی۔جب انسان کو زندگی کچھ دن خواہشات اور مصائب سے سکون دیتی ھے۔


تو انسان کے اندر کا شر ابلنا شروع ہو تا ھے۔انسان جب اپنے اندر کے خیر سے اس شر کو دباتا ھے۔پھٹتا نہیں!۔


جب یہ تکا لیف یہ مصائب یہ دل و دماغ کا دباو انسان کا پیمانہ برداشت پھاڑ دیتا ھے تو انسان جنونی ہو جاتا ھے۔


پھر جہاں زور چلتاھے اپنے جیسے پر پل پڑتا ھے۔


جنونی سے اچھے اخلاق کی امید رکھنا بے وقوفی ھے۔


جنونی سے تعمیری سوچ کی امید رکھنا،جنونی سے اصلاح کی امید رکھنا بے وقوفی ھے۔


جنونی سے اچھے معا شرے کی تعمیر کی امید رکھنا انسانیت کی امید رکھنا۔


بے وقوفی ھے۔


خواہشات کے غلام جذبات کے پجاری تخریب کاری دہشت گردی نہ کریں تو انہیں تسکین کہاں سے ملے؟


جنونی کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں تباہ حال ہوتی ہیں۔


جنونی کے اخلاقیات کا دیوالیہ نکلا ہوتا ھے۔


یہ دیوالیہ گلیوں کوچوں کو غلیظ کر رہا ہوتا ھے۔


ان جنونیوں ان وحشیوں سے یہ  امید رکھنا کہ یہ بد عمل کر تے وقت سوچتے ہونگے کہ ان کے بد عمل سے کتنے انسانوں کے راتیں بے چین کتنوں کے حلق خشک کتنوں کی بھوک اڑ جا ئے گی۔


بے وقوفی ھے۔


بے وقوفی ھے۔


دھواں بس تاریکی دھواں بس تاریکی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:50 PM Rating: 5

6 تبصرے:

نغمہ سحر کہا...

جناب یہ ہی انتہا پسندی ہے کیوںکہ اس کا تعلق انسان کے مزاج سے ہو تا ہے اور مزاج بنانے میں انسانی فطرت کا بڑا دخل ہوتا ہے جب اس طرح کے انسان مزہب کا رخ کرتے ہیں تو فرقہ پرست بن جاتے ہیں اپنے آپ کو سہی ثابت کرنے کیلئے سچ اور جھوٹ ،اچھے اور برے ک فرق ختم کردیتے ہیں اور جب سیاست کا رخ کرتے ہیں تو قوم پرست بن جاتے ہیں اپنی قوم اعلٰی دوسری تمام حقیر نظر آتی ہیں۔دراصل یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جب اپنے عروج پر پوہنچتی ہے تو انسان کو انسان سے حیوان بنا دیتی ہے جو معاشرے کے لئے ایک عزاب سے کم نہیں۔

سعد کہا...

آپ تو عظیم فلاسفر ہیں :|

عثمان کہا...

پاء جی...
اتنا اوکھا فلسفہ 8O

کاشف نصیر کہا...

شوووووووووووووووو
یاسر بھائی میرے تو اوپر سے گزر گئی

عادل بھیا کہا...

سعد‘ عثمان اور کاشف بھیا! میں بھی آپکا ہی بھائی ہوں :( مُجھے تو اِس اپنے جاپانی چھیا کی نفسیات پر شک ہو رہا ہے۔ بھیا صحت تو ٹھیک ہے نا؟

عادل بھیا کہا...

معزرت کے ساتھ۔۔۔غلطی۔۔۔۔ چھیا نہیں بھیا۔۔۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.