میری مرضی ھے ایسا ہی ہو نا چاھئے؟

جب بعض حضرات اپنے مقاصد یا اپنی خواہش کے مطابق آیات کریمہ کو توڑ موڑ کر استعمال کرتے ہیں۔ تو ہمیں اس پر بات کر نے کا حق ھے۔

اگر آپ عورت کی حکمرانی چاھتے ہیں۔اور ثابت کرتے ہیں کہ عورت حکمران ہو سکتی ہے تو جو سوالات اٹھتے ہیں ان کا جواب تو دیں۔

عصر حاضر میں اگر  عورت جنگی جہاز اڑا سکتی ہے تو اسلام کے ابتدائی ادوار میں جب جنگجو نفوس کی کمی تھی اس وقت تیر اندازی تو کر سکتی تھیں۔

سفارتی وفود بھی مرد حضرات ہی ہوتے تھے۔زکات کی وصولی کیلئے مرد ہی جاتے تھے۔کسی نو مسلم قبیلے کو دینی تعلیم وتربیت  دینےکیلئے مرد حضرات ہی جاتے تھے۔

کیا عورتیں یہ تعلیمی و تربیتی کام نہیں کر سکتی تھیں؟

میرے خیال میں تعلیمی و تربیتی کام میں ہتھ پنجہ کر نے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

لیکن یہ کام عورتوں سے نہیں لیا گیا۔زخمیوں کی دیکھ بھال یا عیادت کو عورت کی حکمرانی کی اسلام میں اجازت ہے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں بھی بنگلہ دیش میں بھی اورانڈو بیشیا میں  بھی عورت نے حکمرانی کی اور کر رہی ہے۔یہ ممالک مسلم  ہیں اور آبادی میں زیادہ ہیں۔

حکمرانی کر تی تھیں اور کر رہی ہیں۔اگر عورت حکمرانی کرناچاہتی ھے تو اس کے لئے دین کو نہ توڑیں موڑیں۔

اگر کہا جائے کہ عصر حاضر کے معا شرتی  تقا ضوں میں اور قرون اولی کے معاشرتی تقاضوں میں زمین آسمان کا فرق ھےاس وقت کی عورت کے اور اس زمانے کی عورت کے حقوق میں فرق ھے۔اور اسلام ان تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔

تو کیا اسلام ایک مکمل مذہب نہیں ھے؟

عصر حاضر کے حالات کے مطابق تبدیلی کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں؟

ظاہر ھے جب آپ قرآن اور حدیث سے بات کرتے ہیں تو مسلمان ہی(ہم بغیر ثبوت کے الزام تراشی نہیں کر سکتے) ہیں۔

لیکن عورت کے حکمرانی کے قائل حضرات نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ سوائے اس کے  کہ عصر حاضر اور قرون اولی کے تقاضوں میں فرق ہے۔

ا لنسا کی آیت ۳۴ سے کیا مفہوم لیا جائے گا۔

یا اس آیت کو بھی مخصوص عورتوں اور مردوں کیلئے سمجھا جائے؟

صرف خانگی برتری؟

تو جناب حکمران عورت کے شوہر کے متعلق مسٹر ٹین پرسنٹ کیوں کہا جاتا ھے۔

اگر یہ صرف الزام  ہی ھے تو کسی مسز ٹین پرسنٹ کا نام ابھی تک ہمارے معاشرے میں کیوں سامنے نہیں آیا۔

کہ شوہر صاحب حکمران ہیں اور بیگم صاحبہ مسز ٹین پر سنٹ۔

اگر خانگی معا ملات میں شوہر کو برتری حاصل ھے۔ اور آپ بھی مانتے ہیں۔

تو ایسا کونسا کلیہ ھے کہ گھر سے باہر نکلتے ہی نیچے والا اوپر اور اوپر والا نیچے ہو جاتا ھے؟

اس آیت کے بارے میں کہا جائے کہ اس سے مرد کی حکمرانی ثابت نہیں ہوتی۔

تو میرے خیال میں پھر ان کے لئے سب ٹھیک ھے۔

یہ کچھ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ اولاد والدین کے نافرمان نہیں ہوتی۔ والدین اولاد کے نافرمان ہوتے ہیں۔

اگر حدیث کو نہیں مانتے تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن میں شراب حرام نہیں ھے۔

اور کئی حضرات کو ہم نے خود یہ کہہ کر شراب نو شی کرتے دیکھا بھی ھے۔

منیر عباسی صاحب نے لکھ دیا جو میں لکھنا چاہتا تھا۔ کہ

مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اپنے آپ کو اتنا بڑا عالم کیسے سمجھ لیتا ہے کہ وہ دنیاوی تقاضوں کے مطابق دین کو ڈھالنے کے بات کرتا پھرے؟؟؟

اگر بفرض محال ایسی بات ہے، اور ہونی چاہئے، تو پھر ہمیں عیسائیوں کی پیروی کرنے میں کیا امر مانع ہے کہ انھوں نے بائیبل کے موجودہ تحریف شدہ احکامات کی پیروی کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے. اور ان کی معاشرتی زندگی، اور ان کے معاشرتی اصول کسی طور بھی بائیبل سے میل نہیں کھاتے. غالبا بائیبل کی تعلیمات بھی فرسودہ ہیں اور موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔

بائیبل میں حسب ضرورت تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں ۔

ایک واقعہ ھے جو میرے خیال میں سب نے خبروں میں دیکھا ہو گا۔

جی ایٹ کی کانفرنس میں  سابقہ شہنشاہ عالم حضرت بش لعنت اللہ نے جرمنی کی خاتون وزیر اعظم کے کندھوں کا مساج کیا بس فرینڈلی فرینڈلی کے کھیل میں ۔

وہ مغرب کی خاتون وزیر اعظم تھیں۔لیکن انہوں نے اسے برا محسوس کیا اور ان کے چہرے سے نہایت  کراہیت  کا تاثر دیکھنے کو ملا۔

اس کے بعد  اخبارات و دیگر میڈیا  کےتبصرے بھی پڑھے  اور سنے ہوں گے۔

اگر یہاں پر مسلمان حکمران خاتون ہوتی توپھر ؟

آپ کے پاس کوئی ضمانت نہیں ھے کہ بش خیال رکھے گا کہ یہ مسلمان عورت ھے اسے جپھی ڈالنا ممنوع ھے۔

یا بعد میں اس کی وضاحت قابل قبول ھوگی کہ میں تو دوستانہ ماحول میں ذرا ہنسی مذاق کر رہا تھا۔

اگر کہا جائے کہہ اتنی سی بات میں کیا حرج ھے۔

تو پھر اسلام سے اس حکمرانی کا کیا جوڑ۔

میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آیات کریمہ یا حدیث مبارکہ لکھنا نہیں چاہتا ایک تو میں صرف قرآن اور حدیث پڑھتا ہوں اپنے لئے۔ نہ ہی میرے پاس کوئی اصلی یا نقلی عالم اون لائن قسم کی ڈگری ھے۔

دوسری بات یہ کہ بحث شروع ہو جاتی ہے۔ منکر حدیث کی یا پھر قرآن کی تفسیر سے اپنے پسند کا مطلب نکالنے کی۔

ایک شخص کہتا ھے عورت کی حکومت جائز ھے۔دوسرا کہتا ھے ناجائز ھے۔

دونوں ایک دوسرے کی نہ مانیں تو ایک  نہ ختم ہو نے والی بحث شروع۔

اگر علما کرام کی تحریر کاپی کر کے پیسٹ کر دی جائے۔تو کیا کوئی اسے من وعن تسلیم کر لے گا؟

جو قرآن کی آیات کو اپنے مقصد کے لئے تو استعمال کرتے ہیں۔

اگر کہا جائے یہ آیت بھی ھے۔

تو یہ کہہ کر رد کر دیں کہ یہ تو خانگی معاملات کیلئے ھے۔

اس سے مرد کی عورت پر حکمرانی کہاں ثابت ہوتی ھے۔

صرف شوہر ہی کی فوقیت  ثابت ہوتی ھے!!۔

تو کیا عورت کو حکمرانی کیلئے غیر شادی شدہ رہنا چاھئے؟

تو اگرقرآن ہی مانتےہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ

عورتوں کو اللہ تعالی نے مردوں پر قوام  کیوں نہیں لکھا۔

میں نے ان خاتونہ کی تحریر پر جو تبصرہ کیا تھا اس کا انہوں جواب دیا  لیکن کچھ تسلی نہ ہونے کی وجہ  سے دوبارہ  سوالات کئے تھے لیکن انہوں نے جواب دینا گورا نہیں کیا۔

نہ ہی کسی اور نے جو ان خاتونہ کی تضاد والی تحریر کی حمایت کر رہے ہیں۔

عورت کو نچوایں یا حکمرانی کروایں۔

اگر آپ کی چیز ہے تو جو دل میں آئے کریں۔

اگر کچھ لکھتے ہیں تو ساتھ ساتھ وضاحت بھی کرتے جائیں۔کہ ہم مردوں نے آپ کی حکمرانی میں آنا ھے تو کچھ پوچھنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔

لکھا آپ نے ہے ہم نے تھوڑی لکھا۔
میری مرضی ھے ایسا ہی ہو نا چاھئے؟ میری مرضی ھے ایسا ہی ہو نا چاھئے؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:49 PM Rating: 5

28 تبصرے:

کاشف نصیر کہا...

آپ کی بات سو فیصد درست ہے. لیکن وہ قرآن کی آیت ہے نہ "کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اپنے خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے" ہمارے یہاں بہت سے لوگوں کا یہی مسئلہ ہے وہ اپنی فرمابرداری اور سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنی مرضی کا اسلام چاہتے ہیں. اسلام صرف یہ ہے کہ جب اللہ اور اسکے رسول صلہ اللہ و علیہ وسلم کا حکم آجائے تو سر تسلیم خم کردیا جائے، عوامل اور عناصر کی بات کرنا، احکامات کا تمسخر اڑانا ہے. اگر فرمابرداری ہماری سوچ کے تابع ہوگئی تو فرمابرداری کب رہی، فرمبابرداری یہ ہے کہ بات سمجھ آئے یا نہیں بس "سمع و اطاعنہ اور امن و صدقنہ"

خواتین کی حکومت کے حوالے سے سب سے مناسب جواب محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے دیا تھا، کاش میرے پاس اسکی ریکارڈینگ موجود ہوتی. محترم داکٹر زاکر نائیک نے بھی اچھا جواب دیا تھا جو یو ٹیوب پر موجود ہے.

جعفر کہا...

اصل میں جی میں اس موضوع پر کچھ کہتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ پہلے ہی منافق اور دوغلے کا خطاب حاصل کرکے خان بہادری حاصل کرنے کے قریب ہوں۔
ذہن میں مغربی عورت کا تصور بٹھا کے اسے پاکستانی معاشرے پر لاگو کرنا، ذہنی عیاشی تو ہوسکتی ہے، قابل عمل چیز نہیں۔۔۔ پہلے تو عورت کا بھوت سر سے اتارنا پڑے گا، جیسے مغرب والوں نے اتارا۔۔ فری سیکس کے ذریعے، اس کے بعد برابری، حکومت، وغیرہ کی طرف جائیں۔۔۔ اب فری سیکس کا پرابلم یہ ہے کہ ہم اس سے خود تو متمتع ہونے کی بہت آرزو رکھتے ہیں لیکن روشن خیالی کے اس درجے تک پہنچنے کے لئے تیار نہیں کہ بیٹی، شام کو آتے ہوئے بوائے فرینڈ کے ساتھ وارد ہو اور پاپا کو کہے کہ یہ آج میرے ساتھ سوئے گا ۔۔۔۔
بس اسی آدھے تیتر آدھے بٹیر کی حالت میں ہم ہر اس چیز کو توڑ مروڑ کر اپنے مطلب کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو ہمیں۔۔۔۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ۔۔۔۔والی حالت میں برقرار رکھے۔۔۔۔
جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بدتر ہوتی ہے۔۔۔۔ اسے نرگسیت کہہ لیں یا صائمیت کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔

کاشف نصیر کہا...

جعفر تمہارا تبصرا پڑھ کر مزا آگیا.

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جس مسئلہ سے آج آپ نپٹنا چاہ رہے ہيں ۔ ايسے مسائل سے مجھے پانچ سے سال قبل واسطہ پڑا تھا ۔ يہ تھلی کے بيگن يا بے پيندے کے لوٹے روشن خيال بحث نہيں کرتے صف چھلانگيں لگاتے ہيں ۔ ان کو صرف اتنا بتاتے رہنا چائيے کہ يہ غلط ہيں

سعد کہا...

ہمیں تو وہ معاشرہ چاہیے جس میں مزے ہی مزے ہوں :wink:

کاشف نصیر کہا...

افتخار اجمل صاحب ٹھیک کہ رہے ہیں.
ایک بات اور کہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا ڈھنگ یہ ہے کہ اس بات کا زیادہ چرچہ ہو جو سب کے درمیان متفقہ ہیں. جیسے نماز، روزہ، زکوۃ اور حج. جو پنج وقتہ نماز کی طرف آجائے گا اسے باقی باتیں خود بخود سمجھ آتی جائیں گی لیکن جو دین کی بنیاد پر بھی عمل نہیں کررہا ہوگا اور صرف جزیات پر بحث کرے گا اسکا وبال بھی کہیں ہمارے کاندھوں پر نہ آئے کہ ہم نے انہیں بحث میں الجھا رکھا ہے. قرآن کریم کا حکم ہے کہ پہلے "ان باتوں کی طرف آو جو سب ہمارے اور تمہارے درمیان متفقہ ہیں". جو اس پر بھی نہ آنا چاہے سمجھ لو کہ اس نے عمل نہیں کرنا ہے صرف بہانے بنانے ہیں....
پچھلی تحریر مٹادیں، 'اس میں املا کی غلطیاں ہیں.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کاشف آپ کی بات سو فیصد درست ھے اسی لئے میں نے انہی کی باتیں انہی پر لوٹا رہا ہوں.کہ یہ لوگ یہ مانوں اور یہ نہ مانوں کے فلسفہ پر ہو تے ہیں.
میں الاحزاب کی آیت نبمر ۵۹ لکھ سکتا تھا۔یہ کہہ دیتے یہ تو پردے کا حکم ھے وہ بھی نبی صلی اللہ وعلیہ وسلم کی خواتین کیلئے۔
النور کی ۳۱ نمبر کی آیت لکھ کہہ سکتا تھا کہ نیچی نظریں کر کے کیسے حکمرانی کرو گی۔
یہ کہہ دیتے اس کا حکمرانی سے کیا تعلق۔
ان سے کوئی پوچھے حکمرانی کے اصولوں میں کیا ایسا ہو سکتا ھے کہ نیچی نظریں ہوں وضاحت بھی کی جائے میں تو مسلمان عورت ہوں۔ انکھیوں میں انکھیاں ڈال کے بات نہیں کر سکتی۔ یہاں پر تو کان سے کان ملا اور ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے آپ کو جدید دور کا مسلمان ثابت کرنے پر کمر بستہ ھو گئےتھے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

اسر صاحب اور تمام مبصرين ۔ السلا عليکم
ميں نے نام نہاد روشنی ميگزين اور آپ کے بلاگ پ بھی ديکھا ہے کہ ايک بات پر سب متفق ہيں جو کہ قرآن شري کی آيت ہے جس کے معنی ہيں کہ مرد عورتوں پر قوام ہيں ۔ اس کا مطلب کوئی حاکم ليتا ہے اور ايک يا کچھ درجے بہتر ۔ چند لوگ کہتے ہيں کہ يہ صرف خاوند اور بيوی کے سلسلہ ميں ہے ۔ فرض کيجئے کہ يہ استدلال درست ہے تو ہر خاوند اپنی بيوی پر ہکم رکھے گا تو گويا کوئی بيوی اپنے خاوند پر حکم نہيں چلا سکتی ۔ تو پھر کيا کنواری عورتيں حاک بنيں گی يا کچھ عورتوں کو حاکم بنانے کيلئے کنوارہ رکھا جائے گا جيسے جيسے گرجا کی خدمتگار عيسائی عورتيں شادی نہيں کر سکتيں ؟
اس طرح ان کی دليل خود ہی مر جاتی ہے

اللہ مجھے اور آپ سب کو سيدھی راہ دکھائے اور اس پر چلنے کی توفيق عطا فرمائے ميں ان دنوں بمشکل لکھ رہا ہوں ۔ نہ حوالے دے سکتا ہوں نہ کاپی پيشٹ کر سکتا ہوں کہ يہ سہوليات ميرے پاس نہيں ۔ پاکستان واپس آؤں گا تو کسی حد تک بحث کے قابل ہو جاؤں گا ۔

وقاراعظم کہا...

کچھ بھی کرلیں جی، یہ روشن خیال نہیں مانیں گے...
ویسے جفر صاحب کا حقیقت پسندانہ تبصرہ پسند آیا... :wink:

عادل بھیا کہا...

یاسر بھیا مزہ آگیا پڑھ کر. اُمید ہے کہ ہر کوئی اس تحریر کو مثبت پہلو میں ہی لے گا. ہم آپکی بات سے متفق ہیں. بس اللہ ہم سب کو ہدایت دے. دراصل اب ہر کوئی اپنی مرضی کا اسلام چاہتا ہے جو کہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے. آپ اچھا کرتے ہیں کہ زیادہ اسلام کے موضوعات پر بحث نہیں کرتے کیونکہ ہم کوئی عالم مفتی نہیں لیکن جو بات غلط ہو تو اُسکو ہاتھ سے روکنا‘ نہیں تو زبان سے بُرا کہنا یا پھر دل میں ہی بُرا سمجھنا ہمارا فرض ہے. یہ میرے اور آپکے ایمان پر منحصر ہے.
جعفر بھیا کے تبصرے کی تو کیا ہی بات ہے. اُنہوں نے واقعی ایک حقیقت بیان کی ہے جو سو فیصد دُرست ہے.

خرم ابن شبیر کہا...

یہ روشن خیالی والے پہلے اپنے گھر کو آگ لگا کر روشنی کریں تب ہی روشنی ہوگی ورنہ خیالی ہی خیالی رہ جائے گی

راشد کامران کہا...

ایک سوال میرے ذہن میں تھا کہ
ایک ملک ہے وہاں عورت حاکم ہے اور انتہا درجے کی عادل ہے اور اپنے ملک میں انصاف کا بول بالا کررکھا ہے یا عادلانہ نظام قائم کررکھا ہے. دوسرا ملک ہے وہاں مرد حاکم ہے اور ہر درجے کا ظلم اس نے اپنے ملک میں روا کررکھا ہے.. آپ لوگوں کے خیال میں اللہ تعالی کی رحمتیں کس ملک میں نازل ہونگی ؟

fikrepakistan کہا...

میرے خیال سے تو یہ بحث ہی فضول ھے کیوں کے اٹھاون مسلم ممالک جن میں کہیں ایک آدھ میں عورت کی حکمرانی ھے، تو باقی ممالک کے مرد حکمران کونسے اسلام کے مطابق حکمرانی کر رہے ھیں؟ ویسے تو اماں آئیشہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی جنگِ جبل میں لیڈ کر چکی ہیں، فطری برتری اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت ھے کے اگر کسی کو کسی پر برتری حاصل ھے تو اسے اپنے عمل سے ثابت بھی کرنا پڑے گا اس برتری کو، باقی کے پچپن چھپن مسلم ممالک کے ایک آدھ جیسے ایران یا کسی حد تک ترکی کے حکمران کے علاوہ کسی ایک حکمران کا نام بتا دیجئیے جو اس برتری کی عزت رکھ رہا ھو یا اس برتری کا حق ادا کر رہا ھو اور دین کے مغز کے عین مطابق حکمرانی کر رہا ھو۔ تو جب سب نے طے ہی کرلیا ھے کے اسلامی تعلیمات کے مطابق کچھ کرنا ہی نہیں ھے تو پھر یہ بات ہی فضول ھے کہ یہ ستیاناس عورت کے ھاتھوں ھونا چاہیئے یا مرد کے ھاتھ سے ھونا چاہیئے،

خاور کہا...

جعفر نے اپنے تبصرے میں ،یه نرگیست کے ساتھ صائمیت ڈال کر محاورے کو پاک اور ماڈرن ماحول میں فٹ کردیا هے که اپ نے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عنیقہ جی. زندہ باد
آپ کی فرمائش پر تالیاں :D

محب علوی کہا...

مبارک ہو حعفر تمہاری خواہش سرعت سے پوری ہو گئی ہے۔

جس لفظ کا تذکرہ جعفر تمہارے تبصرے میں دو دفعہ تھا اس کا ذکر خیر عنیقہ نے ایک درجن سے زائد دفعہ کیا اور بات کو سمجھنے کی بجائے حسب معمول اپنا لیکچر سنایا ، تالیں بجائی اور اپنی راہ لی۔

عورت کے حکمران بننے کے مسئلے کو اسلام سے ثابت کرنے کی پاکستان میں ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے جبکہ دو دفعہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم ہو بھی چکی ہیں اور آیندہ بھی کوئی موقع آیا تو اسلام سے دلیل پکڑنے کی کوئی وجہ محسوس نہیں ہوتی۔

جاپاکی کہا...

سب تِرے سوا کافر آخر اس کا مطلب کيا
سر پِھرا دے انسان کا ايسا خبط مذہب کيا‘

ايک بات تو طے ہے کہ عقيدہ چاہے مذہبی ہو، سياسی ہو، وراثتی ہو، جينياتی ہو، قانوني ہو، معاشرتی ہو يا کوئی اور، وہ ذہانت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسکی نشونما ميں روڑے اٹکاتا ہے۔
يہ ہمارے دينی مفکرين، علماء، خطيبوں، نظام تعليم اور ملائيت کا کمال ہے کہ انہوں نے عقل دشمنی کيلیے کوئی کسر نہيں چھوڑي۔

جعفر کہا...

محترمہ علم دریاؤ۔۔۔
چونکہ میں جان چکا ہوں کہ آپ یہ سب کیوں کرتی ہیں۔۔۔
اس لئے لگی رہیے۔۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عورت کے حکمران بننے کے مسئلے کو اسلام سے ثابت کرنے کی پاکستان میں ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے جبکہ دو دفعہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم ہو بھی چکی ہیں اور آیندہ بھی کوئی موقع آیا تو اسلام سے دلیل پکڑنے کی کوئی وجہ محسوس نہیں ہوتی۔

میرے خیال میں علوی صاحب نے ساری بات سمجھا دی.

وقاراعظم کہا...

سورہ احزاب کی ایک آیت ہے "اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھری رہو اور پچھلی جاہلیت کے سے تبرج کا ارتکاب نہ کرو"
استانی جی کے فیورٹ غامدی صاحب کے خیال میں یہ حکم کو نبی کریم کے گھر کی خواتین کو دیا گیا تھا. مگر ہم پوچھتے ہیں کے آپ کےخیال مبارک میں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی خواتین کے اندر کوئی نقص تھا جس کی وجہ سے وہ بیرون خانہ کی ذمہ داریوں کے لیے نااہل تھیں؟ اور کیا دوسری خواتین کو اس لحاظ سے ان پر فوقیت حاصل ہے؟ پھر اگر اس سلسلے کی ساری آیات اہل بیت نبوت کے لیے مخصوص ہیں تو کیا دوسری مسلمان عورتوں کو تبرج جاہلیت کی اجازت ہے؟..... اور کیا اللہ اپنے نبی کے گھر کے سواہر مسلمان کے گھر کو رجس میں آلودہ دیکھنا چاہتا ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وقار جی اورں کو ہو نہ ہو انہیں ھے.
جب یہ کہہ دیں

سینکڑوں سال پہلے اگر کسی مسلمان عورت نے اپنے لئے اس تفسیر کو پسند کیا تو سینکڑوں سال بعد ایک مسلمان عورت کو یہ تفسیر پسند نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اس حق کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔

تو بحث کرنا ختم ہی کر دینا بہتر ھے.
انہی کی کسوٹی پر اگر سوالات کریں تو یہ الٹا سیدھا کر جاتے ہیں.

عثمان کہا...

یہ جو سورہ احزاب کی آیت کی تاویل نو کی گئی ہے تو اس کی رو سے پنجاب کے دیہاتوں میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرتی عورتیں تو ہوں گی رنڈیاں
اور وہ بچیاں جو پڑھنے اور پڑھانے گھر سے نکلتی ہیں وہ ہو گئی کنجریاں...
...کہ "عورت" ذات تو وہ ہے جو گھر کی چار دیواری کے اندر ہے. باہر نکلی تو رنڈی.
رنڈی اور عورت...دو پہلو ہیں اس "چیز" کے جسے کچھ لوگ ایک فرد ، اور ایک باشعور شخص تسلیم کرنے کو تیار نہیں.
دلچسپ بات ہے کہ اس عورت اور رنڈی کے سی سا کا فلکرم قائم ہے ایک اور چیز پر جو مرد کی شہوت ہے.
مردوں کو نگاہیں نیچی کرنے کا حکم کبھی سنا ہے؟؟
مسلمان تو سنا ہے. کبھی مسلمہ سنا ہے؟؟
اینجلا مرکل کو مالش کرواتے دیکھا...
دنیا کے ایک کامیاب ترین ملک جرمنی کو سالہا سال چلاتے نہیں دیکھا؟؟

عورت کی حکمرانی تو بڑی دور کی بات ہے میری جان
ادھر مناظرے کا چیلنج درپیش ہے کہ ثابت کرو کہ وہ چیز جو عصر حاضر کے ہر دوسرے شعبہ میں مرد کے شانہ بشانہ کامیاب ہے....وہ دراصل مرد سے آدھی عقل نہیں رکھتی ہے.

میرے ساتھ یونیورسٹیوں میں پڑھتی اور شعبہ زندگی میں کامیاب عورت کو جا کر بولوں کہ اے " چیز" تیری عقل میری عقل سے ناقص ہے؟
اس بہتر تھا کہ میں کوا "حلال" کر کے کھا لیتا.
اس وقت صرف تاتاری مار رہے تھے.
آج ہر غیر تہذیب مار رہی ہے.

مسلمان کو تو منکر حدیث ثابت کر کے "پوائنٹ سکورنگ" کر لی.
کافر کو کیسے ثابت کرو گے کہ دین فطرت...فطرتی اصولوں پر قائم ہے؟؟
ادھر تو محض آیات کا حوالہ بھی کام نہ دے گا. کہ بات صرف دلیل سے ہی ثابت کی جائے گی.
کیا خیال ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تو بھائی کوا حلال ھے کھائیں . کس نے منع کیا ھے.

عثمان کہا...

سر جی۔۔۔
حیرت ہے!۔۔۔ کہ پورا گھنٹہ گذر گیا ہے۔ لیکن آپ نے حسب معمول کوئی Reactionary Post نہیں لگائی؟

کہیں آپ کے "ٹھنڈے" مزاج کی تاثیر بھی ٹھنڈی تو نہیں ہوگئی؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یار آج جاپان میں برفباری ہو رہی ھے.ماحول ٹھنڈا ہو جائے گا .تو ذرا آرام سے کچھ پوسٹی کروں گا.ابھی تو پاکستان کی طرف سے آنے والے دھواں سے ہی اندر باہر سے کالا چٹا ہو رہا ہوں. :? :? :?

وقاراعظم کہا...

محترم عثمان صاحب، سورہ احزاب کی تاویل نو نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ تاویل تو سینکڑوں سال پرانی ہے. تاویل نو تو آج کے روشن خیا ل کررہے ہیں. میں نے یہ سورۃ غامدی صاحب کی اس سورۃ اور اس سلسلے کی تمام سورتوں کی تاویل کو بیان کرنے کے لیے کی تھی. ان سورتوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ خواتین کو گھروں میں مقید کرکے رکھ دیا جائے. لیکن جیسا کہ آپ حضرات کا وتیرہ ہے، اسے مزید الٹا سیدھا کردیا....
بہر حال آپ نے جو سوالات کیے ہیں اور الزامات لگائے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے تو ایک الگ بلاگ کی ضرورت ہوگی. فی الحال تو میں اپنے شہر کے غم میں مبتلا ہوں. اس سے فارغ ہوکر آپ کی تشفی کی کوشش کرونگا. اگر میری کیسی بات سے آپ کی دل آزاری ہوئی ہو تو اس کے لیے معذرت.

خاقان شاطی کہا...

موضوع پر تو تبصرہ نہیں کر رہا کہ میرے لیے بھی یہ موضوع کئی حوالوں سے الجھن کا باعث رہا ہے اور اس میں کلیدی کردار مرد حضرات کی آراء ہی رہی ہے-

خیر کام کی بات یہ ہے کہ یاسر صاحب شرعی مسئلہ بغیر تصدیق کے بیان نہ کیا کریں۔۔۔۔
کوا حلال نہیں ہے چاہیں تو یہ ربط دیکھیں--
http://mufti.faizaneattar.net/Answer.php?Q=21502
آللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین

راحیل کہا...

اسلام میں نہ تو سیکس جائز ھے نہ مشت زنی مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ھے زنا کرنے والا اللہ سے جنگ کرتا ہے یہودی اور عیسای تو جانوروں سے بھی بد تر ھے یہ ان کی لڑکیاں تو سور اور کتے سے زنا کرواتی ھے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.