صراط مستقیم اوربھولے بھالے لوگ

جب سے ہوش سنبھالاھے۔ملک کے حالات مخدوش ہی دیکھے۔کیونکہ ہم نہایت غریب گھرانے سے بھی ہیں۔بعض اوقات ڈنر نوش فرمانے کیلئے کچھ نہ ہوتا تھا تو ہمیں یاد بلکہ بہت اچھی طرح یاد ھے۔کہ ہم مکئی کےدانے چبا کر سو جاتے تھے۔

اور وہی دانے سا تھ والے کمرے کی بکری بھی چباتی تھی۔

لیکن جناب وہ بکری دودھ بابا الم دین کی گائے سے بھی زیادہ دیتی تھی۔

اس بکری کا جو پہلا بیٹا تھا ہمارا بڑا بیلی یار تھا جہاں ہم وہاں وہ بکرا ہمارے پیچھے پیچھے جیسے گھر کا پالتو کتا ہوتا ھے۔

ہم بھی اپنی ننھی منی پسلیاں نکلتی چھاتی مزید نکال کر بکرے کی کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتے تھے۔

اس بکرے کی وجہ سے ہم اپنے گاوں اور علاقے میں کافی مشہور تھے۔کیا زبردست بکرا ھے اور کیسا اپنے مالک سے مانوس ھے۔جب وہ بکرا خوب موٹا تازہ ہو گیا تو عید الضحی پر ہمارے ظالم ابا جی نے اس ہمارے بیلی یار کو پکڑ کر ذبحہ کر دیا۔

تین دن تو ہمیں غش پڑتے رہے پھر چوتھے دن مزے لے لے کر بیلی یار کے بوٹی تکے کھائے۔

ہمیں اطمینان تھا کہ ابا جی سچے ہیں۔کہ ہمارا بیلی یار صراط مستقیم پر ہمارا منتظر ہوگا جب سب دھکے کھا رہے ہوں گے ہمیں کمر پر بیٹھا کر جنت میں لے جائے گا۔

اور آج تک ہم اسی یقین پر قیامت کے منتظر ہیں۔

کبھی کبھی تھوڑا سا خیال آتا ھے۔کہ بیلی یار نے اگر پوچھ لیا کہ تو نے میرے بوٹی تکے کیوں کھائے تھے۔تو اس کیلئے ہم عموما جواب کی تیاری کر لیتے ہیں۔

کہ سب کھا رھے تھے مجھے بھی مجبورا کھانا پڑ گیا۔

مزے لے لے کر جو کھائے وہ تو دل کے اندر کی با ت ھے اسے تھوڑی پتہ چلے گا۔

وہ دن بڑے ہی پیارے دن تھے۔

ہمیں اپنی غربت کے وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔اور یقین مانئے دل کر تا ھے وہی دن واپس مل جائیں۔

اب احساس ہوتا ھے وہ غربت نہیں تھی نعمت خداوندی تھی۔

آپ کا ہم سے متفق ہونا لازمی نہیں ھے۔

پاکستان کے حالات کیسے مخدوش ہیں؟

ہمیشہ سے اللہ میاں کی رحمتیں برستی ہیں۔

ایک کے بعد دوسرا بندوبست ہو جاتا ھے۔

تیس سال سے افغانیوں کیلئے آنے والی  امداد  نوش فرمائی جا رھے ہیں۔

پھر زلزلہ متاثرین کے بوٹی تکے نوش فرمائی جا رھے ہیں۔

اب سیلاب متاثرین کیلئے آنے والا من وسلوی نازل ہو نے والا ھے۔

واہ رے مولا !!!۔

تو بھی کیسا رحیم و کریم ھے۔

اس لئے ہمیں اللہ میاں کا شکر گذار ہو نا چاھئے۔ہمیشہ سے اللہ میاں کوئی نہ کوئی بندوبست کر دیتا ھے۔

ہم نے اپنی گنہگار آنکھوں سے مولوی صاحبان  فوج کے اعلی افسران اور عمومیہ تک کو اس امدادی مال کو مستحقین تک پہونچا نے کی نسبت خود زیادہ مستحق ہوتے دیکھا۔اور بے چاروں کو اس امدادی مال کو گوداموں میں محفوظ کرتے دیکھا۔

بعد میں بازار میں  نہایت سستے داموں فروخت کر کے عوام کی بے لوث خدمت کرتے دیکھا۔



یہ لوگ اب  بھی اسی جذبے سے جمع ہیں اور شکایت کر رھے ہیں کہ پاکستانی  عوام  اوردیار غیر میں مقیم پاکستانی بے حس ہوگئے ہیں۔

اس لئے برائے مہربانی اپنے مال کو اللہ میاں کی راہ میں لگائیں اور صراط مستقیم پر آرام سے چہل قدمی کرتے ہوئے گذر جائیں۔
صراط مستقیم اوربھولے بھالے لوگ صراط مستقیم اوربھولے بھالے لوگ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:29 PM Rating: 5

18 تبصرے:

Jafar کہا...

کٹیلی تحریر!

بلوُ کہا...

بس جی ہمارا اللہ ہی حافظ ہے

سعد کہا...

ان فوجی افسران کے زلزلہ زدگان کی امداد والے سامان پر ہاتھ صاف کرنے والے واقعات کا میں خود عینی شاہد ہوں۔
حرامخوروں کو ذرا بھی خدا کا خوف نہیں آیا۔

محمداسد کہا...

بات جتنی کھری بھی ہے اور کڑوی ہے. ماضی کے واقعات جو آپ نے بیان کئے وہ اور لوگوں کے ذہنوں میں بھی جوں کے توں موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بار امداد کا وہ جذبہ اندرون ملک سے ہے نہ بیرون ملک سے.

یاد رہے کہ مستحق کی مدد خود اپنے ہاتھ سے کرنا افضل ہے. تو کیوں نا ہم دوسروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے، تھوڑی تحقیق سے اپنے مال خود مستحقین تک پہنچائیں؟

عثمان کہا...

یہ یار لوگ بھی بکرے ہی ہیں. حکومت کے.....، فوج کے....بلکہ جس کا بھی دا لگ جائے اس کے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اصل بات جو میں کہنا چاہتا تھا.وہ عثمان جی سمجھ گئے.
ویسے نائن الیون کے بعد کی ایک پوری کہانی ھے اور ہے بھی بڑی زبردست سوچا رہا ہوں ترجمہ کرکے لگا دوں یہاں پر.
ہیرو ہم ہی ہیں جی .اس فلمی سٹوری کے.
بس تھوڑا سا ڈر لگتا ھے. بڑی مشکل سے جان بچی تھی :?

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ کی تحرير پڑھتے پڑھتے پرانا دور ياد آ گيا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قائدِ عوام بننے سے پہلے ٹيکسلا ميں تقرير کرتے ہوئے کہا تھا "جب ميری حکومت ہو گی کوئی غريب پياز سے روٹی نہيں کھائے گا"۔ اس نے سچ کر دکھايا جو پياز ايک روپے کا دو کلوگرام ملتا تھا وہ پانچ روپے کا کلوگرام بکنے لگا ۔ غريب پھر پياز سے روٹی کھانے کی بجائے پانی کے ساتھ کھانے لگے ۔ کچھ ماہ بعد نالہ لئی گلے سڑے پيازوں س بھر گيا ۔
پھر سوات ميں زلزلہ آيا ۔ لبيا کے کرنل قذافی نے ايک کروڑ ڈالر بھيجا قائدِ عوام نے مولانا کوثر نيازی کو سرکاری خرچ پر سوٹزرلينڈ بھيجا اور وہ ايک کروڑ ڈالر قائد عوام کے ذاتی اکاؤنٹ ميں جمع کرا آيا مگر مرنے سے پہلے مولانا نے اپنے گناہ کا اقرار کر ليا تھا
قائد عوام کے زمانہ ميں سيلاب آيا ۔ ترکی نے کمبل بھيجے ۔ ميں بڑے افسروں کی محفل ميں بيٹھا تھا کہ ايک بڑے افسر کی بيگم دوسرے افسر کی بيگم سے کہنے لگی "ترکی سے اتنے عمدہ کمبل آئے تھے ۔ ميرے مياں تين لے آئے اور کہنے لگے اپنے پرانے تين کمبل دے دو سيلاب والوں کيلئے"
اس کے بعد اس سے زيادہ ہی ہوا ہو گا کم نہيں ۔
پانچ سال قبل والے زلزلے مں جن لوگوں نے درست معنوں ميں خدمت کی تھی وہ جيلوں ميں پڑے ہيں کيونکہ وہ انتہاء پسند ہيں

میرا پاکستان کہا...

دل کی بات چرا لی ہے آپ نے۔ لگتا ہے ہمارا اور آپ کا بچپن بہت ملتا جلتا تھا۔ بات واقعی درست ہے کہ چیلیں پنجے کھولے تیار بیٹھی ہیں بس جونہی خوراک پہنچے گی نوچ کھائیں گی اور مدد کے طلبگار دیکھتے رہ جائیں گے۔

فرحان دانش کہا...

لوگوں کو نقصانات کا اندازہ نہیں یا پھر لوگوں میں حکومتی اداروں پر اعتماد کا فقدان بڑھ گیا ہے اوراُنھیں شک ہے کہ ان کا پیسہ سیلاب زدگان تک پہنچنے سے پہلے ہی کہیں پہلے سے بھری تجوریوں میں ہی نہ چلا جائے۔

جاپاکی کہا...

مجھے حيرت ہے کہ پاک آرمی کو اگر جمہوری حکومت کو تہہ و بالا کرنا ہو تو ايک گھنٹے ميں پورے ملک ميں حرکت ميں آجاتی ہے مگر فوج کی امدادی کشتيوں اور ہيلی کاپٹروں کا ’کرايہ‘ کسی بھی کمرشل کشتی يا ہيلی کاپٹر سے زيادہ ہے۔ امدادی کاموں ميں حصہ لينے والے فوجيوں کو دگنی تنخواہ دينا بھی وفاقی يا صوبائی حکومت کے ذمہ ہے۔ ’نماياں‘ خدمات انجام دينے والے افسران ميں قيمتی پلاٹوں کی تقسيم اور اگلے عہدوں پر ترقی اس کے علاوہ ہے۔ مذيد يہ کہ امدادی کاموں ميں حصہ لينے والے فوجی جتنے روز مصروف رہيں گے اسی کی مناسبت سے انہيں چھٹياں دی جائيں گی (معلوم نہیں يہ کام کب کرتے ہيں)۔ ميرے خيال ميں ہنگامی حالات ميں مدد فوج کے فرائض ميں شمار ہونی چاہيے۔ :roll: :roll:

خاور کہا...

یارو ساریان گلاں اک پاسے
لیکن اب مسئلہ یه ہے که پھر ان لٹے پٹے لوگوں کی مدد کریں کیسے
یه وقت ان باتوں کا ہے تو نہیں لیکن کرنی هی پڑجاتی هیں
اب هونا کیا چاہیے؟؟

fikrepakistan کہا...

کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر تبصرہ کرنا اتنا ہی آسان ھے جتنا مشکل اپنا گھر بار اپنا سکون آرام چھوڑ کر ذاتی طور پہ ایسے مصیبت زدہ لوگوں کے لئیے عملی اقدام کرنا ھے، میری قبر میں میرے اعمال کا حساب لیا جائے گا فوج کے ملاوں کے یا سیاستدانوں کے اعمال کا نہیں۔ حیرت ھے کے خود کو عقل کل سمجھنے والے لوگ ابھی تک یہ ہی پوچھ رہے ھیں کے کرنا کیا ھے؟ اپنا آرام اپنا سکون برباد کرو کسی کا منہ دیکھنے کے بجائے خود اپنے زور بازو پر آگے آو لوگوں کو موٹیویٹ کرو کچھ اپنی جیب سے ڈالو کچھ لوگوں سے لو اور پہنچ جاو خود وہ سارا سامان لے کے متاثرہ علاقوں میں، یہ ھے کرنے والا کام کمپیوٹر کی اسکرین کے سامنے پیٹھ کر تنقید کرنا اس وقت کی ضرورت ھرگز نہیں۔ ہمارے گھر میں آگ لگتی ھے تو پہلے ہم آگ بجھانے کا بندوبست کرتے ھیں یا آگ لگنے کی وجہ تلاش کرتے ھیں؟ یا آگ لگانے والے پر تنقید کرتے ھیں؟ بھائیوں پہلے آگ بجھا لو آپس میں لڑنے جگھڑنے اور ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے لئیے عمر پڑی ھے، یہ ہی سب تو کرتے آئے ھیں ھم اور آگے بھی انشاءاللہ یہ ہی کرتے رہنا ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان صاحب کچھ آپ کی بات سمجھ نہیں آئی.
میرے خیال میں سب فعال ہیں اور جو طریقہ اچھا سمجھ رھے ہیں.سب کر رہے ہیں.اور مزید کریں گے.بھی ہم سب کے اس طرح کے لکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کچھ کرنا نہیں چاہتے.
یا کریں گے بھی نہیں.اور جتنا ہم کرائے بھاڑے میں اڑائیں گے. اتنا مزید اگر اچھی تنظیموں کو دے دیں گے تو کچھ مزید لوگوں کی مدد ہو جائے گی.اس طرح لکھنے کا مقصد صرف یہ ھے کہ ان مستحقین کا حق حرام خور نہ لیکر اڑ جائیں.
کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کر رہا.ذرا گہری سانس لیکر اطمینان سے دوبارہ سب کو پڑھیں اور مثبت پہلو دیکھئے.

وقاراعظم کہا...

بات تو ٹھیک لکھی ہے جناب. ابھی تو آغاز ہے. بڑے بڑے سنگ دل لوگ بھی متاثرین کے حالات دیکھ کر افسردہ ہوجاتے ہیں. لیکن جب اس مشکل سے نکل کر متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کا معاملہ ہوگا تو اس وقت کی کرپشن دیکھنے والی ہوگی جیسے اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین آج تک مصیبتوں کا شکار ہیں....

fikrepakistan کہا...

یارو ساریان گلاں اک پاسے
لیکن اب مسئلہ یه ہے که پھر ان لٹے پٹے لوگوں کی مدد کریں کیسے
یه وقت ان باتوں کا ہے تو نہیں لیکن کرنی هی پڑجاتی هیں
اب هونا کیا چاہیے؟؟ اس میں بلکل ہی واضع الفاظوں میں تحریر ھے کے پھر ان لٹے پٹے لوگوں کی مدد کریں کیسے؟ تو بھائی اس ہی بات کا جواب دیا ھے میں نے اور بتایا ھے کے کیسے کرسکتے ہیں مدد بغیر کسی پر اعتماد کئیے۔ عجیب ہی بات ھے کے کسی پر اعتماد بھی کرنے کے لئیے تیار نہیں ھیں اور خود جا کر دینے کی بات کرو تو پھر کرائے کی فکر آرہی ھے۔ بھائی یا تو کسی پر اعتماد کر لو اور اگر کسی پر اعتماد نہیں کرنا تو پھر خود چلے جاو بس یہ ہی حل ھے۔

محمودالحق کہا...

سچائی ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے . جسے نگلے جان بچتی ہے . مدد تو بحرصورت اپنے بھائیوں کی ہم سب کو مل کر کرنی ہے . لیکن کیسے کریں ایک سوالیہ نشان ہے . دیار غیر سے پاکستانی اپنے بھائیوں کی مدد میں جزباتی ہو رہے ہیں . لیکن ایک تسلی چاہتے ہیں کہ کسی با اعتماد ادارے کے ذریعے رقم کی فراہمی یقینی ہو . جس پر مقامی رشتہ دار شش و پنج کا شکار دیکھائی دیتے ہیں . بہت گھمبیر صورتحال کا سامنا ہے وطن عزیز کو . اعتماد کی فضا دھندلا گئی ہے . خاص طور پر حکومتی ادارے اپنا اعتماد کھو چکے ہیں .
کالا باغ ڈیم کی جو چالیس سال سے مخالفت کرتے آ رہے ہیں . اگلے چار سال ان لوگوں کی آباد کاری کے لئے انہیں وہاں چھوڑ دینا چاہئے .

Maria khan کہا...

Its really very great post. i like it very much..

Lane Denty کہا...

titanic account you take

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.