بد تمیز اور ناقابل معافی!۔

ہمارا آج دوسرا روزہ تھا۔رمضان کے پہلے دن ہمیں کچھ خاص دقت نہ ہوئی۔بلکہ کچھ چاک وچوبند ہی تھے۔

نہ کچھ خاص بھوک تھی اور نہ ہی پیاس کا شدید احساس۔

پہلے دن ہمارے دل میں نہ جانے کیا آیا۔ہم نے افطار سے ایک گھنٹہ پہلے ورزش شروع کردی۔

ایک گھنٹے میں ہم نے خوب پسینہ نکالا اور افطار کی کوئی خاص تھکن بھی نہ ہوئی۔

آج سحری کی اور فجر کے بعد کچھ دیر آرام کرکے کام وغیرہ کیا۔

دن کے گیارہ بجے کے بعد کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔

ایک تو سارا جسم دکھنا شروع ہو گیا اور بھوک نے تنگ کرنا شروع کردیا۔

ظہر کی نماز کے بعد تو ہمارا برا حال ہوگیا۔

ہمارا شمار بھی ان لوگوں میں ھوتا ھے۔جن کے بارے میں بزرگوار اجمل صاحب نے لکھا تھا۔کہ ٹائم پاس کر نے کے طریقے ایجاد کرتے ہیں۔

تو جناب ہم نے نیٹ پر اخبار پڑھنی شروع کردی۔

روزنامہ ایکسپریس میں ایک تصویر دیکھی کہ ایک بچہ چنگیر میں نان لئے کھڑا ھے۔

نان دیکھ کر جو کافی مزیدار لگتے تھے۔

ہمارا دل کیا کہ اس ننھے منے سے چھین لیں۔بھوک تو بھوک ہوتی ھے۔جہاں روٹی ملے چھین کر کھا لینے کو دل مچلتا ھے۔

ویسے سیلاب کے متاثرین کو ہم نے رمضان سے پہلے چند پیسے بھیج کر اپنے ضمیر کو مطمعین کر لیا تھا۔

ہم نے تو اللہ کی راہ میں دے دئے اگر مستحقین تک نہیں پہونچتے تو کیا اللہ میاں کو تو ہمارا صدقہ پہنچ ہی جائے گا۔بحر حال سارا دن بڑا تکلیف میں گذرا بھوک پیاس سے بری حالت تھی۔

افطار کے وقت ہم نے کچھ فرمائش کر کے اور کچھ خود اپنی ہوس کے ھاتھوں مجبور ہو کر کافی تیاری کی پکوڑے سموسے جوس لسی کھجوریں۔

ریسٹورنٹ سے تل والے نان بھی لے کر آئے۔

دعا کی اور پل پڑے نعمتوں پر اسی حالت مد ہوشی میں ٹھسکا لگا اورتصویر والا بچہ ہماری ننھی منی کھوپڑی کے پردہ سکرین پر نازل ہو گیا۔

کچھ ایسےکہتا محسوس ہوا ۔کہ دن کو تو میرے روکھے سوکھے نانوں پر للچائی ہوئی نظر ڈالی تھی۔

اب مجھے بھول گئے؟۔واہ جی! کیا نعمتیں تناول فرما رھے ہو۔

آپ کے چند پیسے مجھے نہ ملے تو؟

اللہ میاں کو کیا آپ کے پیسوں کی زیادہ ضرورت ھے؟

ایک دفعہ صدقہ کر کے احسان کر دیا؟

اچھا جی نیک صاحب آپ تناول کرو،مجھے لائن میں لگ کر روٹی وصول کرنی ھے۔

اور بھی کچھ اول فول بک رہا تھا۔

بڑا ہی بد تمیز بچہ ھے جی۔

افطاری کا سارا مزا خراب تے ستیاناس کر دیا۔

اس کی آنکھیں دیکھیں کیسی ہیں؟

کچھ الجھن میں سوچتی ہوئیں!۔

مذاق اڑاتی ہوئیں!۔

اس کی آنکھیں مت دیکھئے گا۔

آج کی افطاری کا مزا خراب ہو جائے گا۔

بحر حال یہ بچہ کہیں ملے تو اس کی خوب پٹائی کریں۔

سکون  سےافطاری کر نے نہیں دیتا بد تمیز کہیں کا۔

بد تمیز اور ناقابل معافی!۔ بد تمیز اور ناقابل معافی!۔ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:15 PM Rating: 5

11 تبصرے:

سعد کہا...

بچے کی پٹائی تو بعد میں کی جائے گی پہلے آپ تو کہیں ملیں! اب سارے روزوں کا ثواب زائل ہوتا محسوس ہو رہا ہے :(

جعفر کہا...

جان توڑ کے افطاری کرنے اور تراویح کا احسان خدا پر دھرنے کے بعد ہم اپنے سب فرائض ادا کردیتےہیں
آپ ایسی تصویریں اور ایسی تحریریں لکھ کے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔۔۔ ایسے ہی خوامخواہ۔۔۔

fikrepakistan کہا...

بہت خوبصورت انداز میں یاسر بھائی آپ نے اپنا میسج کنوے کیا ھے اللہ کرے اپکا یہ میسج سب تک پہنیج جائے۔

عثمان کہا...

پاء جی...
نہ لگاؤ ڈراؤنی پوسٹیں. عیاشیاں کرنے دو ہمیں.

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ بچہ ایک سوال ہے جس کا جواب پوری پاکستانی قوم ہے پہ لازم ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

تصیح:
یہ بچہ ایک سوال ہے جس کا جواب پوری پاکستانی قوم پہ لازم ہے۔

امتیاز کہا...

آپ ہمیں جنجھورنے کی ناکام کوشششیں مت کریں۔۔ ہماری نیند اتنی کچی نہیں کہ رات ہمارے خواب میں بچہ آیے اور ہم جاگ جائیں اور اٹھ کر اس کی مدد کو روانہ ہو جائیں۔۔

کاشف نصیر کہا...

ہ بچہ کیسا بچہ ہے
جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے
نا اس کے پیٹ میں روٹی ہے
نا اس کے تن پر کپڑا ہے
نا اس کے سر پر ٹوپی ہے
نا اس کے پیر میں جوتا ہے
نا اس کے پاس کھلونوں میں
کوئی بھالو ہے، کوئی گھوڑا ہے
نا اس کا جی بہلانے کو
کوئی لوری ہے، کوئی جھولا ہے
نا اس کی جیب میں دھیلا ہے
نا اس کے ہاتھ میں پیسا ہے
نا اس کے امی ابو ہیں
نا اس کی آپا خالہ ہے

یہ سارے جگ میں تنہا ہے
یہ بچہ کس کا بچہ ہے

عمران اشرف کہا...

اگر میں اپنے اردگرد دیکھوں تو ایسی بےشمار مثالیں ہیں جو دراصل ھمارے معاشرے کے منہ پر سوالیہ نشان ہے. آج پاکستان پر برا وقت ہے اور ہم آج بھی متحد نہیں ھو سکے.

بلوُ کہا...

چھوڑیں جی ایسے کتنے ہی بچے بچیاں آئے اور گئے ہم نے تب بھی کچھ نہیں کیا اب کیوں کریں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تمام حضرات کا شکریہ.
خوامخواہ کی تعریف کا.
ہم نے صرف یہ گذارش کی تھی، کہ اس بچے نے ہماری افطاری کا ستیاناس کردیا تھا.
اس کی معصوم صورت اور الجھی پیاری اآنکھوں نے
ماہ رمضان کا مزا خراب کر دیا تھا.
اور ہمارے پیارے صدر صاحب کے دورے کا مزہ بھی کرکرا کردیا.
ہماری نہیں اس بچے کی پٹائی کریں.
کہ اس نے آپ سب کی افطاری بھی بدمزہ کردی.
بحرحال حسب توفیق سیلاب کے متاثرین کی مدد کریں.
ایک دفعہ ہی نہیں باربار مدد کرنی پڑے گی.کہ ڈھائی کروڑ کے یہ متاثرین ہماری ریڑھ کی ھڈی توڑ دیں گے.
اللہ ہم پر رحم فرمائے آمین

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.