اسلام میں عورت کی حکمرانی کیوں نہیں؟

حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب ملکہ سبا کا علم ہوا تو ان کو اپنے پاس بلایا اور ملکہ سبا کو مسلمان کیا ملکہ سبا کو مسلمان ہونے کے بعد حکومت واپس کیوں نہ ملی؟
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نجاشی بادشاہ مسلمان ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی بادشاہ کی حکومت کو برقرار رکھا کیوں رکھا؟
نجاشی بادشاہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ میں اپنی جان کے علاوہ اور کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔آپ میرے لئے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالی مجھے استقامت بخشے میں کسی دوسرے کو مسلمان نہیں کرسکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جب تم کسی کو مسلمان نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دو بلکہ نجاشی بادشاہ کی حکومت کو برقرار رکھا۔اور باد شاہت کی حالت میں ان کا انتقال ھوا۔
لیکن سلیمان علیہ السلام نے ایک عورت ملکہ سبا کی حکومت کو برقرار نہیں رکھا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنگیں ہوئیں تو اسلامی افواج میں عورتوں کو بھرتی نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں جہاد میں شرکت نہ کر نے پر کسی قسم کی سختی کا سامنا کر نا پڑا۔
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  جنگوں میں خود شریک ہوئے تو کبھی بھی اپنا قائم مقام عورت کو مقرر نہیں کیا۔کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات  موجودنہیں تھیں ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور ہم مسلمانوں کی مائیں اس وقت کی مسلمان عورتوں سے ہزارہا درجہ بہتر تھیں۔اور سب سے بڑی بات کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ تھیں۔لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی حکومت کے کام ان کے سپرد نہیں کئے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد پہلے خلیفہ مرد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کیوں بنے؟
کیا اس وقت ازواج مطہرات میں سے کوئی حیات نہیں تھیں؟
یا قرون اولی کے مسلمان ابتدا سے ہی عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیتے تھے؟

وضاحت :۔  کیوںکہ ہم نے دین میں ریاضت نہیں کی اس لئے ہم نے کوئی بھی حدیث یا آیات کریمہ لکھنے  کی کوشش نہیں کی۔

لیکن بس اسلام اور اپنی مسلمانی ہمیں بہت عزیز ہے کچھ کچھ جنون کی حد تک ۔۔۔۔۔۔رمضان مبارک بھی آنے والا ھے اس لئے ایک مہینہ تک تو ہم  بس ہم ہی ہم ہیں۔

ویسے ہمارے گھر میں ہماری بیگم کی حکومت ہے اور ہم بس ایک کونے میں پڑے ہو تے ہیں۔

پاکستان جاتے ہیں تو اماں جی کی حکمرانی میں آ جاتے ہیں۔

کچھ دم بچتا ھے تو بہنوں کے احکامات کی تعمیل میں نکل جاتا ھے۔
اسلام میں عورت کی حکمرانی کیوں نہیں؟ اسلام میں عورت کی حکمرانی کیوں نہیں؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:08 AM Rating: 5

58 تبصرے:

سعد کہا...

لمبی بحث چھوڑیں صرف اتنی بات پر غور کریں، بینظیر یا دیگر خواتین سیاستدانوں یا حکمرانوں کا (جن کا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں ہے) کا موازنہ ملکہ سبا سے کیا جا سکتا ہے؟

عثمان کہا...

انتہائی غلط تحریر ہے.
جدید دنیا کے تقاضوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے محض ہزاروں سال پرانے معاشرے کی مثال لے کر جرنلائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے. ازدواج مطہرات کے زمانے میں عرب کا سیاسی ڈھانجہ کیا تھا یہ بلکل نظر انداز کردیا. خوامخواہ قرآن میں موجود ایک واقعہ سے آپ نے اپنی پسند کا ایک فلسفہ نکالنے کی کوشش کی ہے.
جنگوں کی بات اور ہے. یقنآ کچھ کام مرد کر سکتے ہیں عورت نہیں. اور کچھ کام عورتیں کر سکتیں ہیں مرد نہیں.
دوبدہ مرد کے ساتھ جنگ کرنا عورت کے بس کی بات نہیں. لیکن اب جنگیں تلواروں کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر نہیں ہوتیں. جنگی جہاز میں بیٹھ کر دشمن کے مورچوں پر بم پھیکنا مرد اور عورت یکساں صلاحٰت کے ساتھ کرسکتے ہیں. اسی طرح عصر حاضر کے سینکڑوں عوامل اور عناصر آپ یکساں عصر انداز کر گئے.
آپ میرے بیلی ہیں. یہ اپنی جگہ. لیکن اس تحریر سے سخت اختلاف ہے.

عثمان کہا...

تصحیح×
....عوامل اور عناصر آپ یکسر نظر انداز کرگئے.

جاپاکی کہا...

واہ جی واہ آپ کو جماعت والوں نے کرایہ کا گھر کیا دیا آپ تو جی مولوں بن گئےھو :lol: :lol: :lol:

فرحان دانش کہا...

نو کمنٹس 8)

عادل بھیا کہا...

میرے خیال سے میں نے آج پہلی مرتبہ کوئی ایسی تحریر آپکے بلاگ پر پڑھی جس میں مزہب کا زکر ہو۔
آپنے اپنے خیالات کا اظہار کر کے اچھا کیا۔ ہر کسی کی اپنی سوچ ہے۔ کوئی چاہے تو اختلاف کر سکتا ہے۔
بحرحال اب تو ہر گھر میں عورت کی ہی حکمرانی ںظر آتی ہے۔

محمداسد کہا...

غالباَ آپ نے روشنی بلاگ پر شائع ہونے والی تازہ تحریر کا جواب دینے کی کوشش کی ہے. گو کہ یہ انتہائی متنازع موضوع تھا، ہے اور رہے گا لیکن اس بارے میں لب کشائی کا انداز سوالیہ کے بجائے دلائل پر مبنی ہو تو زیادہ بہتر رہے گا. :)

ھارون اعظم کہا...

اس تحریر سے اتفاق ہے۔ ملکہ سبا کے واقعے کو عورت کی حکمرانی کے لئے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام میں اس کے لئے واضح احادیث موجود ہیں۔

عورت کی حکمرانی کے قائل صرف اس بات کا جواب دیں، کہ اسلام نے عورت کو نماز میں امامت کی ذمہ داری نہیں دی تو ملک کی حکمرانی کی ذمہ داری کیسے دے؟

تانیہ رحمان کہا...

یاسر لکھا اچھا ہے لیکن جیسے عثمان نے کہا کہ کئی باتوں کو چھوڑ کر ۔ جہاں تک عورت کو حکمرانی دی گئ ہے اس کی اصل وجہ وہی پرانی روایات ہیں ۔ پہلے مرد حضرات باہر کے کام کاج کرتے تھے ۔ اور عورت گھر داری ۔ گھر بھی ایک دفتر کی طرح ہوتا ہے جہاں ہر فائل کو اپنی اپنی جگہ ہونا چاہئے ۔ اس دفتر کو چلانے کے لیے باس ہوتا ہے ۔ بس سمجھ لو عورت کی بھی وہی جاب ہے ۔ اب وہ وقت نہیں رہا ۔ اور نا ہی پرانے زمانے والے تکالیف ۔ اس لیے اب مرد حضرات بھی کام کرنے لگے ہیں ۔ یعنی کہ اگر بیوی جاب کرئے گی تو میاں جی گھر میں بچوں اور کچن کو دیکھے گا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عوامل اور عناصر اس معاشرے میں رہتے ہو ئے ہمیں معلوم ہیں.میں نے سب حضرات کے تاثرات دیکھنے کیلئے یہ پوسٹ لکھی ہے.
برائے مہربانی کھل کر اظہا کیجئے.اختلاف ہو نا چا ھئے.
عثمان کا نقطہ نظر بھی بہت اچھا ھے.
عثمان اختلاف کر نے کے باوجود آپ ہمارے یار بیلی ہیں. :mrgreen:
اسد جی. اگر مذہب سے دلائل دئے جائیں تو بہت دئے جا سکتے ہیں. اگلی پوسٹ میں کوشش کرتا ہو غیر مذہبی طریقے سے :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہارون اعظم صاحب. عورت کی حکمرانی کے قائل امامت بھی کروا نا چاھتے ہیں.

باذوق کہا...

@ محمد اسد
موضوع متنازع سہی ، مگر روشنی میں محترمہ ثمرین شہباز کا مضمون "تحقیق" نہیں بلکہ اغلاط و جھوٹ کا پلندہ ہے۔
کسی حد تک دلائل کے ساتھ میں نے وہاں اپنے تبصروں میں لکھا تو ہے لیکن تفصیل کے ساتھ ان شاءاللہ فرصت ملتے ہی اپنے بلاگ پر تحریر کروں گا۔

باذوق کہا...

محترمہ ثمرین کی تحریر میں لکھا گیا ہے کہ : ان احادیث کا ایک تنقیدی جایزہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بتانے کی زحمت بالکل نہیں کی گئی کہ تنقیدی جائزہ کس "ماہرِ حدیث" کی جانب سے ہے؟ علمِ حدیث کوئی ٹام ڈک ہیری کا مضمون نہیں ہے کہ ہر کوئی اٹھ کر تنقید کرنا شروع کر دے۔ ناقد محترم کے نام کے انکشاف سے ہی تو علم حدیث کے میدان میں ان کی علمی حیثیت کے مقام کا تعین ہو سکے گا۔ ورنہ تو پرویز ، عمادی اور دورِ حاضر میں علامہ غامدی نے بھی ایسا ہی بہت کچھ کہہ رکھا ہے۔

کہا گیا ہے : اگر کوئی حدیث کسی قرانی آیات سے اتفاق نہ کرتی ہو تو اسے ‘صحیح’ نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اسے شریعت میں استمعال کیا جائے گا.
اس خودساختہ سنہرے “اصول” کا ذکر اصولِ حدیث کی کسی معتبر کتاب کے مکمل حوالے کے بغیر ہے۔
ور نہ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس من گھڑت اصول کی رو سے مَردوں کا سونا پہننا جائز قرار پائے گا کیونکہ قرآن نے زینت و آرائش کی چیزوں کو بلاتخصیص جنس ، حلال قرار دیا ہے (دیکھئے سورہ الاعراف -32) اور حدیثِ صحیح میں مَردوں کے لیے سونا حرام قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ امت کے علماء کا مشترکہ ایقان ہے کہ شریعت اسلامی میں "سونا" عورت کیلیے حلال اور مَرد کیلیے حرام ہے۔

محترمہ کی تحقیق کے مطابق :
ان آیات میں کسی بھی جگہ پر الله نے یہ نہیں فرمایا کہ بلقیس کی قوم تباہی کا شکار تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ الله نے سوره نمل کی ان آیات میں بلقیس کی ذہانت ، اسکی حکومت اور تخت کی عظمت اور اسکے ایمان کا ذکر کیا ہے.

جبکہ قرآن تو فرماتا ہے :
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لاَ يَهْتَدُون
میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ کی بجائے سورج کو سجدہ کرتے پایا ہے اور شیطان نے ان کے اَعمالِ (بد) ان کے لئے خوب خوش نما بنا دیئے ہیں اور انہیں (توحید کی) راہ سے روک دیا ہے سو وہ ہدایت نہیں پا رہے
حوالہ — سورہ النمل : 24

وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَافِرِين
اور اس (ملکہ) کو اس (معبودِ باطل) نے (پہلے قبولِ حق سے) روک رکھا تھا جس کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی۔ بیشک وہ کافروں کی قوم میں سے تھی
حوالہ — سورہ النمل : 43
(اردو تراجم : ڈاکٹر طاہر القادری)

سبحان اللہ !!
اللہ تو فرمائے کہ : بلقیس کی قوم گمراہی پر ہے اور ہدایت نہیں پا رہی
اور محترمہ کی تحقیق ہے کہ ۔۔۔۔ ان آیات میں کسی بھی جگہ پر الله نے یہ نہیں فرمایا کہ بلقیس کی قوم تباہی کا شکار تھی
آخر یہ کون سا اندازِ تحقیق ہے ؟؟

سلیمان علیہ السلام کے معجزوں کو دیکھنے کے بعد ملکہ ایمان لاتی ہے (آیت:44) ورنہ تو اس سے قبل کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسے واضح طور پر کافر کہا ہے۔

تفسیر الطبری ہی دیکھ لیجئے۔ اس آیت
إنَّها كانَتْ مِنْ قَوْمٍ كافِرِينَ
کی شرح میں امام طبری علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے : وقوله: { إنَّها كانَتْ مِنْ قَوْمٍ كافِرِينَ } يقول: إن هذه الـمرأة كانت كافرة من قوم كافرين.
یعنی ملکہ بلقیس کافروں کی قوم میں سے ایک کافر تھی۔

اب یہ نکتہ بھی ہم کو ضرور بتایا جانا چاہئے کہ ۔۔۔۔۔ قرآن میں کس جگہ ایسا لکھا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل شریعت کے آ جانے کے بعد بھی شریعتِ سلیمانی (ع) یا شریعتِ ملکہ بلقیس قابلِ اتباع ہوگی؟؟

اپنے ایک تبصرہ میں محترمہ نے عرض فرمایا ہے: یہاں بتانا ضروری ہوگا کہ حضرت آئشہ نے جنگ جمل میں ایک خلیفہ کے سامنے اپنی فوج لے کر آین. کیا اس سے نہیں دونوں کی برابری کا اشارہ نہیں ملتا؟
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام درست لکھنے میں شائد کوئی سہو ہو گیا ہو ان سے۔ اور ایسا لکھ کر معلوم نہیں انہوں نے تاریخ سے لاعلمی کا ثبوت دیا ہے یا ایک مخصوص طبقے کے نقطہ نظر کو مسلط کرنے کی کوشش کی ہے؟
اہل سنت و اہل تشیع کے تمام مفسرین و ائمہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنگ جمل میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا باہر نکلنا ان کی اجتہادی خطا پر مبنی فعل تھا۔ اور تاریخ سے ثابت ہے کہ اس پر وہ بعد میں نادم بھی ہوئیں اور انہوں نے اپنے اس فعل پر توبہ بھی کی۔ ہمیں اپنی ماں کی توبہ پر یقین ہے کہ اللہ تعالٰی نے انہیں اس اجتہادی خطا پر بخش دیا ہوگا۔
تو جس فعل کے سرزد ہونے پر خود ام المومنین (رضی اللہ عنہا) توبہ کریں ، کیسے وہ فعل قابل تقلید قرار پائے گا؟؟

خاور کہا...

پہلی بات کی وھ عورت حکمران هو گی کس ملک پر
برطانیه پر؟؟
مارگریٹتھیچر نے بڑا کام کیا
لیکن اگر پاک ملک کی بات ہے تو جی یهاں مردوں نے بلکه مرد مجاہدوں کیا کر لیا ہے ؟؟

عثمان کہا...

بازوق..
دوران بحث دلیل کو دیکھا جاتا ہے. کہ آیا یہ باوزن ہے یا نہیں. کس نے پیش کی ہے اس بارے میں بال کی کھال نہیں اتاری جاتی. اس قسم کی ذاتیات پر وہی اترتے ہیں جو دلیل کی کسوٹی پر ناکام ہوجائیں. دین اسلام یقینآ ٹام ڈک اینڈ ہیری کا کھیل نہیں ہے کہ اسے محض آپ کے پسندیدہ علماء کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے. ہر باشعور کو بات کرنے کا حق ہے.
احادیث کی کتب اس وقت میرے سامنے موجود نہیں۔ ورنہ تو میں آُپ کو عرض کر دیتا کہ وہ اصول کہاں درج ہے.
خود رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ اگر میری کوئی "حدیث" تمہیں قرآن سے متصادم نظر آئے تو اسے دیوار پر دے مارو۔
اگر آپ اس حدیث پر ایمان نہیں بھی رکھنا چاہتے تب بھی یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دین کا بنیادی ستون قرآن کریم ہے۔ اس کے آگے ہر حدیث ہر روایت ہیچ ہے!

اب آئیے ذرا بلقیس کے واقعہ کی طرف۔
جو آیات آپ یہاں بتا رہیے ہیں ذرا انھیں غور سے پڑھنے کی زحمت فرمائیے۔
اللہ تعالیٰ کہیں بھی قوم بلقیس کی دنیاوی پسماندگی کا ذکر نہیں کر رہا۔ ذکر ہورہا ہے تو صرف اتنا کہ قوم ایمان کے حوالے سے کفر پر قائم تھی۔ جبکہ دنیوی ترقی کے حوالے سے وہ قوم بے مثل تھی۔ کفر کی حالت میں تو فرعون اور نمرود اور ان کی اقوام بھی تھیں۔تو لہذا اس ساری بات سے آپ کا عورت کی حکمرانی کے خلاف فلسفہ کسطرح ثابت ہوگیا؟؟

اب آئیے ذرا آپ کے شریعت والے جملے کی طرف۔۔۔
"شریعت سلیمانی" کی تو کہیں بات ہی نہیں ہورہی۔ بات ہورہی ہے قرآن میں دیے گئے واقعہ کی طرف۔ قرآن میں بیان کئے گئے ہر واقعہ میں حکمت ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ سے پچھلے انبیااور ان کی اقوام کے واقعات سے ہدایت پانا مقصود نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں ذکر نہ فرماتا۔

اہل سنت کا ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں ہے کہ جنگ جمل میں کون حق اور کون باطل پر تھا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک متنازع واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر حضرت عائشہ ہی نہیں کئی برگزیدہ صحابہ بھی نادم اور اللہ سے توبہ کے طلب گار تھے۔

دین اسلام عورت کو بحثیت ایک فرد نہ کمتر ٹھہراتا ہے نہ ہی اس پر حکمران بننے کے حوالے سے کوئی قدغن لگاتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو صرف اُن لوگوں کو جو عصر حاضر میں بھی عورت کے 'ناقص العقل" ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ان مجہول لوگوں اور ان کے فلسفے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ جدید اقوام میں خواتین نا صرف حکمران رہی ہیں بلکہ بہت سے دوسرے شعبہ جات میں مردوں سے بڑھ چکی ہے۔ تیسری دنیا کے مذہب پرستوں کو یہ پسند آئے یا نہ آئے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان میں اسی لئے آیات کریمہ اور احادیث نہیں لکھتا کہ ہر کوئی اپنی مقصد کا مطلب نکا لنے کی کو شش کر تا ھے۔
شریعت سلیمانی کی بات تو نہیں ہو رہی لیکن سلیمان علیہ السلام کے تاریخی قرآنی قصے سے عورت کی حکمرا نی ثابت کر نے کی کوشش کی جا رہی ھے۔ دنیوی ترقی کے باوجود کیوں ان سے ہتھیار رکھوا کر سلیمان علیہ السلام کی اطاعت کروائی گئی تھی؟شریعت سلیمانی قبول کر نا میرے خیال میں اطا عت ہی میں آتا ھے۔

عثمان کہا...

میں اپنا مقدمہ قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش نہیں کررہا. میں بازوق کے اٹھائے گئے کمزور اعتراضات کا جواب دے رہا ہوں. حضرت سلیمان ایک نبی تھے. ایک نبی کی اطاعت بلاتخصیص مرد و عورت ہر ایک پر فرض ہے. یہاں سے عورت کی حکمرانی کی کوئی بحث سامنے نہیں آتی.
نجاشی بادشاہ کا قصہ اور ہے. رسول اللہ بادشاہ تھے نہ ان کا وہاں کوئی اثر تھا. نجاشی والے قصے سے عورت کی حکمرانی کے خلاف کوئی دلیل نہیں نکلتی.
میرے نزدیک قرآن اس بارے میں کوئی قدغن نہں لگاتا. باقی رہ گئی حدیثیں تو ان کو اُس زمانے کے حالات اور واقعات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے. چودہ سو سال پہلے کے عرب قبائلی معاشرے میں اور آج کی جمہوریت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے میرے بھائی. اس وقت کے قبائلی معاشرے میں کوئی غیر قریشی خلیفہ کو تسلیم کرنا بھی آسان نہ تھا. عورت کی بات تو بہت بعد میں آتی ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

حضرت سلیمان ایک نبی تھے. ایک نبی کی اطاعت بلاتخصیص مرد و عورت ہر ایک پر فرض ہے. یہاں سے عورت کی حکمرانی کی کوئی بحث سامنے نہیں آتی.

نجاشی بادشاہ کا قصہ اور ہے. رسول اللہ بادشاہ تھے نہ ان کا وہاں کوئی اثر تھا. نجاشی والے قصے سے عورت کی حکمرانی کے خلاف کوئی دلیل نہیں نکلتی.
-------
آپ کی اس بات کو اس زاوئے سے بھی دیکھا جا سکتا ھے.

نجاشی بادشاہ نے اطاعت کر لی تھی. اس لئے نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم کا وہا ں پر اثر ثابت ہو تا ھے.

نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وسلم باد شاہ نہیں تھے.جب مدینہ کی اسلامی ریاست قائم ھو گئی تو تمام دینی و دنیوی حکم نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وسلم کا ہی چلتا تھا.تاریخ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ھے کہ نبوت سے پہلے کئی بادشاہت کے خواہش مند تھے اور ایک کی باد شاہت کی تیاری بھی کر لی گئی تھی. لیکن نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وسلم نے کسی کو تاج پہنا کر یہ نہیں کہا کہ باد شاہت آپ کرو نبوت میں کرتا ہوں.

نبی اکرم صلی اللہ وعلیہ وسلم سے پہلے کی تاریخ میں کچھ نبی گذرے جن کی باد شاہ وقت نے اطاعت نہیں کی اور نہیں قتل بھی کر دیا گیا.
غیر قریشی کا خلیفہ بننا مشکل تھا تو مکہ کے بت توڑنا اس سے بھی زیادہ کٹھن تھا.
عصر حاضر میں عورت کی حکمرانی کا حق تسلیم کر لیا جائے تو چودہ سو سال پہلے عورت کو اس کا یہ حکمرانی کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟ .
عصر حاضر میں عورت کی حکمرانی کے متعلق بعد میں لکھوں گا.

صد یوں کا فرق ھے.تو اس دور کی مصروفیات تو نماز پڑھنے کا وقت بھی نہیں دیتیں.کیا اس میں بھی تبدیلی کی ضرورت ھے؟.

معیز کہا...

یاسر صاحب۔عورت کی حکمرانی کی بات میرےخیال میں وہ لوگ کرتے ھیں جو اس فلسفے پريقین رکھتے ھیں کہ انسان پہلے بن مانس یابندر وغیرہ تھا۔جب کہ ایک مسلمان ھونے کی حثییت سے میرا ایمان ھےکہ انسان(مرد) وہ ھے جس کو خدا تعالـی نے خود بنایا اور اس کی پسلی سے عورت کو پیدا کیا۔نا کہ عورت سے مرد کو پیدا کیا۔اس سے ایک بات تو یہ ثابت ھو گئ۔۔کہ مرد کو عورت پربرتری ھے ورنہ جو کام آج عورت کرتی ھے وہ خدا تعالی اس وقت بھی عورت سے کروا سکتے تھے۔ انسان کی پہلی غلطی کا سبب کون بنی ؟ یہ بہکاوے میں جلدی آتی ھے یہ بات ازل سے تہہ ھے۔یاسر صاحب آپ جاپان میں ھیں آپ مجھے بتائیں کہ وھاں پر عورت کو برابر کہ حقوق ھیں اگر آپکا جواب ھاں ھے تو وھاں پر عورت کو تنخواہ مرد کے برابر کیو ں نہیں دی جاتی سواۓ چند٪ کے۔قرآن اور حدیث کا حوالے دینا کوئی بری بات نہیں۔جہاں ضرورت ھو دینا چاھیے۔گھر کے اندر کی ذمہ داری بھی عورت مرد کے بغیر سر انجام دینا مشکل سمجھتی ھے آپ چاھے گھر کے ایک کونے میں بیٹھے کھانسی کرتے رھیں یہ اس عورت سے پوچھیۓ کہ آپ اس کے لیے کتنی بڑی طاقت ھیں۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ نے ايک اچھا مضمون لکھا ہے جسے پڑھنا شرع کرتے ہی مجھے وہم ہوا کہ اس پر جھگڑا کھڑا ہو گا ۔ ہم نے سُنا اور پڑھا بھی کہ علم روشنی ہے اور علم سچ ہوتا ہے يا سچ پر مبنی ہوتا ہے جبکہ جھوٹ اندھيرا ہے اور جاہليت کی بنياد ہے ۔ جو لوگ بے بنياد يا جھوٹ پر مبنی دلائل دے کر اسے روشن خيالی کا نام ديتے ہيں وہ دراصل اندھيروں ميں بھٹک رہے ہيں
قرآن شريف سے حوالہ دينے سے قبل پورا قرآن شي سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے ورنہ وہ بات ہو گی جس کی مثال کئی کابوں ميں موجود ہے کہ بادشاہ نے حُکم ديا "روکو مت آنے دو"
جو لوگ صرف قرآن شريف کی بات کرتے ہيں وہ مجھے ان سوالات کا جواب ديں گے ؟
کيا قرآن شريف ميں نماز پڑھنے کا طريقہ ۔ کتنی رکعتيں اور ان ميں کيا پڑھنا ہے لکھا ہوا ہے ؟
کيا يہ حقيقت نہيں کہ اُوپر پوچھی گئی معلومات ہميں حديث سے ی مليں ؟
کيا نماز کی تفصيلات والی حديث کو ديوار پر مار ديا جائے گا ؟
صرف اس حديث کو ديوار پر مارنے کا ذکر ہے جو قرآن شريف سےمتصادم ہو

عثمان کہا...

یاسر: میں حضرت محمد ﷺ اور حضرت سلیمان کا موازنہ کر رہا ہوں۔ آپ چاہیں تو رسالت اور نبوت کو موازنہ کہہ لیں لیکن سلیمان اور رسول اللہﷺ کی بادشاہت کا آپ کو بھی پتا اور مجھ بھی۔ آپ کی تفصیل نے میری بات کو بائی پاس کردیا ہے۔
بت توڑنے کے لئے رسول اللہ ﷺ بذات خود موجود تھے۔جبکہ خلافت میں پیدا ہونے والے تنازعات تاریخ کا حصہ ہیں۔

آپ چودہ سو سال پہلے عورت کی حکمرانی کی بات کر رہے ہیں تو جناب مییں پوچھ رہا ہوں کہ اس حق پر قدغن کب لگائی گئی ہے؟ حق پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔ بہت سے معاملات تہزیب کی ترقی کے ساتھ آگے آتے ہیں۔
اس دور کی مصروفیات بھی نماز پڑھنے کا وقت دیتی ہیں۔ اور پڑھنے والے پڑھ رہے ہیں۔

جو شخص عورت کو مرد پسلی سے پیدا ہونے کی بات کررہا ہے ان کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ :mrgreen:

بزرگوں سے گزارش ہے کہ بلاگنگ کا ایک مقصد بحث ہے۔ "جھگڑا" یہاں کوئی نہیں ہورہا۔ آپ پیدا کرنا چاہیں تو الگ بات ہے۔ موضوع عورت کی حکمرانی ہے نماز نہیں۔ اس پر بات کر بھی دوں تو آُپ ایک نیا فسلفہ جھاڑیں گیں۔ بہتر ہے کہ مجھے جاہل کہنے کی بجائے آپ بحث کے آداب سیکھ لیں۔

باذوق کہا...

@ عثمان
آپ نے لکھا ہے : خود رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ اگر میری کوئی "حدیث" تمہیں قرآن سے متصادم نظر آئے تو اسے دیوار پر دے مارو۔
اتنی بڑی بات اس رسان سے نہ کہہ دیجئے۔ مکمل حوالہ دیجئے گا۔ تکے لگانا تو اپنے ہاں کے ہر نتھو خیرے کو آتا ہے بھائی۔
جو بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے "منسوب" کی ہے اس کو محدثین کرام جھوٹی ثابت کر چکے ہیں۔ چونکہ یہ ایک طویل موضوع ہے لہذا اس پر مفصل بحث آپ کو اردو محفل فورم پر مل جائے گی ، تھوڑی سی محنت کر کے سرچ کر لیں بشرطیکہ "تحقیق" کا ارادہ ہو۔

یہ آپ نے اچھی بات کہی کہ : دین کا بنیادی ستون قرآن کریم ہے۔
لیکن یہ بات آپ بھول گئے کہ قرآن بھی ، حدیث کے کہنے سے ہی قرآن بنتا ہے۔ آخر قرآن کے "قرآن" ہونے کا علم ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ملتا ہے کہ نہیں؟ اور اس حدیث کو کس قرآنی آیت سے ثابت کیا جائے گا؟؟
قوم بلقیس کی دنیاوی برتری کا جواب یاسر صاحب بہتر دے چکے ہیں۔
جنگ جمل میں کسی کے حق یا باطل پر ہونے کا ذکر میں نے نکالا ہی نہیں۔ میرا بتانا صرف یہ تھا کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا کا باہر نکلنا ، آپ رضی اللہ عنہا کی اجتہادی خطا تھی۔

آپ نے فرمایا :
اگر کوئی مسئلہ ہے تو صرف اُن لوگوں کو جو عصر حاضر میں بھی عورت کے 'ناقص العقل" ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔
ہاں۔ ہم ایسے ہی مسلمانوں کا مسئلہ ہے یہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ پر یقین رکھتے ہیں جو بخاری و مسلم کے علاوہ بیشمار کتب احادیث میں درج ہیں اور جن کے متعلق یہاں کافی لکھا جا چکا ہے :
http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?21099

آپ نے لکھا : حضرت سلیمان ایک نبی تھے. ایک نبی کی اطاعت بلاتخصیص مرد و عورت ہر ایک پر فرض ہے.
شائد آپ وہ حدیث فراموش کر گئے جو صاف الفاظ میں دو ٹوک بتاتی ہے کہ :
والذي نفس محمد بيده لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم عن سواء السبيل ولو كان حيا وأدرك نبوتي لاتبعني
اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے آئیں اور تم لوگ میرے بجائے ان کی اتباع شروع کر دو تو سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاؤ گے اور اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری ہی اتباع کرتے۔

عثمان کہا...

قرآن کلام اللہ ہے۔ اور حدیث سے ماوراء ہے۔ یہ نہ کسی حدیث پر انحصار کرتا ہے نہ کسی حدیث کا مرہون منت ہے۔ یہ خود اپنے آُپ پر دلیل ہے۔اپنے آُپ میں کامل ہے۔ اس بارے میں آیات قرآن ہی میں موجود ہیں۔ جو باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی ان کی وضاحت کے لئے حدیث اور روایات سے رجوع کیا جاتا ہے۔
رسول کے منہ سے نکلی حدیث ، عملی سنت اور وحی کے ذریعے نازل کئے گئے قرآن میں فرق تو کجئے۔ ایرے غیرے پر بھی بات ہو جائے گی۔
اکیسویں صدی میں میں عورت کو "ناقص العغل" کہنے والی 'عقل" سے میں بھڑنے کو تیار نہیں۔ یہاں آپ کو پوائنٹ سکور کرنے کی اجازت ہے۔ :wink:
اطاعت والی بات میں ملکہ سبا کے بارے میں کہ رہا ہوں کہ اس کی جگہ مرد بھی ہوتا تو اطاعت ہی کرتا۔ پچھلا مراسلہ پڑھیے۔آپ کسی اور طرف چل پڑے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

معیز صاحب جب موضوع چھیڑ ہی چکا ہے تو لکھیں گئے. انشا اللہ خوب ہی لکھیں گئے. :lol:
اجمل صاحب جب زمین سے اچھی فصل کی امید رکھی جاتی ھے.تو پہلے ہل چلایا جاتا ھے.پتھریلی زمین ہو تو پتھر وغیرہ ھٹائے جاتے ہیں.
میں اگر کاپی اینڈ پیسٹ کر نے کا قائل ہو تا تو الحمد اللہ ہمارا علما کرام نے مسلکی اختلا فات کے باوجود ہر دور میں طاغوتی طاقتوں کا مدلل اور مفصل جواب دیا ھے الحمد اللہ عورت کی حکمرانی پر بھی مدلل اور مفصل مواد موجود ھے.
لڑائی جھگڑا کوئی نہیں ہے.اگر عورت نے ہم پر حکمرانی کرنی ہی ھے.تو ہمارا ذہن صاف ہو کہ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ھے.اس لئے اس موضوع سے بھا گنا نہیں چاہتا.
عثمان میں نے جو کچھ بھی لکھا میں اپنے موضوع سے نہیں ہٹا.
میں نے اگر کچھ لکھا ھے تو اس کا پس منظر ہے.
حق پہلے بھی تھا تو ذرا وضاحت کریں کہ کیوں نہیں دیا گیا.
ذہن میں رکھئے گا کہ ہمارا ایمان ہے کہ دین ضا بطہ حیا ت ھے.اور دین فطرت بھی ھے.میں خلافت کے تناز عہ کی بات نہیں کررہا بات عورت کی حکمرانی کی ہی ہو رہی ھے.
ا لنسا کی آیت ۳۴ ھے۔
مردوں کو اللہ تعالی نے عورتوں پر قوام بنایا۔

عین لام میم کہا...

واہ بھئی جاپانی جی! بڑی گرما گرم بحث شروع کی ہے. میں اس موضوع پہ فی الحال بات سننا پسند کروں گا. امید ہے کہ کسی طرف لے ہی جائیں گے. :mrgreen:

Adnan Zahid کہا...

عثمان اگر آپ کی منطق کو مان لیا جائے پھر تو اسلام کو بھی چینج کرنا پڑے گا کیونکہ یہ چودہ سو سال پرانا ہے اور اور اس وقت کے حالات اور واقعات کچھ اور تھے اور اب کے تقاضے بالکل بدل چکے ہیں؟؟؟؟
اب کوئی دوسرا اسلام ہونا چاہیے؟؟؟؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عین میم لام بھائی راز افشاں نہ کریں جی۔
جرمانہ کر دوں گا۔ :lol:

منیر عباسی کہا...

مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اپنے آپ کو اتنا بڑا عالم کیسے سمجھ لیتا ہے کہ وہ دنیاوی تقاضوں کے مطابق دین کو ڈھالنے کے بات کرتا پھرے؟؟؟

اگر بفرض محال ایسی بات ہے، اور ہونی چاہئے، تو پھر ہمیں عیسائیوں کی پیروی کرنے میں کیا امر مانع ہے کہ انھوں نے بائیبل کے موجودہ تحریف شدہ احکامات کی پیروی کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے. اور ان کی معاشرتی زندگی، اور ان کے معاشرتی اصول کسی طور بھی بائیبل سے میل نہیں کھاتے. غالبا بائیبل کی تعلیمات بھی فرسودہ ہیں اور موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں.

باذوق کہا...

@ عثمان :

http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?8127

جب بھی ایسا سوال کیا جاتا ہے : یہ جو آپ کے ہمارے ہاتھ میں قرآن ہے ، کیسے پتا چلے گا کہ یہ وہی قرآن ہے جو اللہ کا کلام ہے ؟
اس سوال کا خاطر خواہ جواب کوئی نہیں دے پاتا۔
حالانکہ پتا چلنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ممکن ہے۔
کوئی ہم کو بتائے کہ یہ کتاب '' قرآن '' ہے۔

اور یہ چیز ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے کہ : یہ قرآن ہے!
نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی یہ ایک بات تو مان لی جائے مگر دوسری تمام باتوں کو جھٹلا دیا جائے کہ یہ آج کے زمانے سے مطابقت نہیں رکھتیں؟؟؟
یہ کیسا انصاف ہے؟؟
کہیں شاعر نے اسی لئے تو نہیں کہا تھا کہ:
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں !!

باذوق کہا...

@ عثمان :
آپ نے لکھا :
قرآن کلام اللہ ہے۔ اور حدیث سے ماوراء ہے۔ یہ نہ کسی حدیث پر انحصار کرتا ہے نہ کسی حدیث کا مرہون منت ہے۔ یہ خود اپنے آُپ پر دلیل ہے۔اپنے آُپ میں کامل ہے۔ اس بارے میں آیات قرآن ہی میں موجود ہیں۔ جو باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی ان کی وضاحت کے لئے حدیث اور روایات سے رجوع کیا جاتا ہے۔

کچھ عجیب بات ہے۔
ایک طرف تو آپ "کامل" بھی کہتے ہیں پھر یہ بھی لکھتے ہیں کہ : "جو باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئیں ۔۔۔۔۔ "

ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ : قرآن حدیث سے ماورا ہے
پھر یہ بھی آپ ہی فرماتے ہیں کہ : جو باتیں قرآن میں نہیں بتائی گئی ان کی وضاحت کے لئے حدیث اور روایات سے رجوع کیا جاتا ہے۔

بھائی ! یہی بات تو ہم شروع سے کہتے آ رہے ہیں کہ عورت کی سربراہی سے متعلق اگر قرآن میں کچھ نہیں ہے تو احادیث میں نہایت وضاحت سے یہ بات موجود ہے۔

اس کے علاوہ ۔۔۔۔۔
اگر قرآن میں کسی بات کا مبہم ذکر ہو تو وضاحت کیلئے بھی حدیث کی طرف ہی دیکھا جائے گا۔
جیسا کہ میں نے gold کی مثال دی تھی۔ سورہ الاعراف:32 کے مطابق تو gold عورت اور مرد دونوں کے لئے حلال ہونا چاہئے تھا مگر حدیث سے ثابت ہے کہ یہ عورت کے لئے حلال اور مرد کے لئے حرام زینت ہے۔

اسی طرح ۔۔۔۔۔ اگر کوئی ملکہ سبا کے حوالے سے عورت کی سربراہی کا دعویٰ کرے گا تو یہ ایک مبہم واقعہ ہے جبکہ حدیث نہایت دو ٹوک الفاظ میں عورت کی سربراہی کا انکار کرتی ہے۔

ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایک چیز ہماری عقل میں آ جائے تو اسے قبول کر لیں (gold کی حرمت و حلت کا معاملہ) اور دوسری چیز سمجھ میں نہ آئے تو ریجکٹ !!
اس طرح تو شریعت کو ہم اپنی مرضی کا تابع رکھنا چاہتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:
جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ
خبر ملى كہ اہل فارس نے كسرى كى بيٹى
كو اپنا حكمران اور بادشاہ بنا ليا ہے
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" وہ قوم كبھى بھى ہرگز كامياب نہيں ہو سكتى
جس نے اپنے معاملات كا نگران ايك عورت كو بنا ليا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4163 )

وقاراعظم کہا...

سانون فیر دیر ہوگئی.....
عنوان پڑھتے ہی میں سمجھ گیا تھا کہ ادھر خوب ادھم مچا ہوگا..... :mrgreen:
ویسے دین کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے برسوں سے زور لگایا جارہا ہے.
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں...

جاپاکی کہا...

بھائ جی غیرمسلم خوامخواہ کہتے ہیں ہم مسلمان لکیر کے فقیر ھے،بلکہ یہ بات اج ہمارے بھائوں نے ثابت کردی ھم نے ہمیشہ لکیر کا فقیر ہی بنا رہنا ھے :lol: :lol: :lol: :lol:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی جاپاکی صاحب ہم مسلمان الحمد اللہ لکیر کے فقیر ہیں.
یعنی بنیاد پرست :lol:
نیا اسلام کہاں سے لائیں.
اول تو ہمیں نئے اسلام کی ضرورت ہی نہیں ھے
نئے تقاضوں سے ملتا جلتا اسلام چاھئے ہے تو
عیسایت اختیا ر کر نے میں میا چیز مانع ھے؟

عثمان کہا...

یاسر :
"ا لنسا کی آیت ۳۴ ھے۔
مردوں کو اللہ تعالی نے عورتوں پر قوام بنایا۔"

میرے بھائی۔ اسی لئے کہتا ہوں کہ تمام پہلے سے فرض کئے گئے خیالات سے پاک ہو کر قرآن کی طرف رجوع کرو۔ بہت سی باتیں خود سمجھ آجائیں گی۔
جو آیت آپ نے بتائی ہے اسے اقتباس اور سیاق وسباق کے ساتھ پڑھیں۔یہاں خانگی زندگی اور ترکے کی بات کی جارہی ہے۔ اللہ تعالی اس میں مقررہ حصے بتا رہا ہے۔آیت بتیس سے پینتیس تک غور سے پڑھو۔ شوہر اور بیوی کے متعلق بات کی جارہی ہے۔ کہ شوہر کو فوقیت ہے بیوی پر اس بنا پر کہ مرد اپنا مال خرچ کرتےہیں (آیت چونتیس)

اللہ شوہر کے رشتے کو فوقیت دے رہا ہے بیوی کرے رشتے پر۔
آپ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ مرد کی فوقیت ہے عورت پر۔
اگر آپ والا نتجہ نکلتا تو ایک مرد کی تمام عورتوں پر فوقیت ثابت ہوجاتی۔ پھر صرف حکمرانی کیا۔۔۔عورت کسی بھی محکمے ، یا شعبہ کا کاروبار کا مالک اور حکمران بننا نہی ٹھہرتی۔

باقی حدیثوں والے اپنے فتوے جاری رکھیں۔

عثمان کہا...

یاسر :
بخاری کی جس حدیث کا حوالہ آپ نے دیا ہے وہ حضرت ابوبکرہ (حضرت ابوبکر صدیق نہیں) سے مروی ہے. جو انھوں نے جنگ جمل کے موقع پر کہے.
یہ حدیث صرف اور صرف انہیں سے مروی ہے. اور کسی صحابی سے مروی نہیں. دلچسپ بات ہے کہ حضرت علی کی طرف سے لڑنے والے ان ضیعف صحابی کو یہ اتنہائی اہم بات پتہ تھی. لیکن ان تمام برگزیدہ صاحبہ جو حضرت عائشہ کے ساتھ لڑے...ان کبھی معلوم نہ تھی.
حدیث کی صحت کا اندازہ خود لگا لیں. عقل استعمال کرنا البتہ ضروری ہے.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان جی
مجھے معلوم تھا آپ یہی جواب دیں گے.

النسا کی آیت نمبر ۳۴ ھے۔
ترجمعہ:۔ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضلیت دی ھے۔
اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاظت الہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بد دماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصحیت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مارکی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو بے شک اللہ تعالی بڑی بلندی اور بڑائی والا ھے۔

تصدیق کر دیں کہ میں نے غلط ترجمہ تو نہیں لکھا ؟

تو آپ شروع سے ہی کہہ دیتے کہ میں حدیث کو نہیں مانتا.

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں نے ابو بکر صدیق نہیں لکھا۔اور روشنی میں میرا تبصرہ پڑھ چکے ہیں۔انہی سوالات کے جوابات دے دیتے۔ نہ کہ مختلف رنگ اختیار کرتے۔

جاپاکی کہا...

لگتا ہے بنانے والے اب اسلامسٹوں یا بنیاد پرستوں کی نئي بنیظیر بنانے میں مگن ہیں۔انگریزی بولنے والی تعلیم یافتہ لیکن باپردہ اور مظلوم اور اسلامی شعائر سے ‍آراستہ مگر مڈل کلاسی۔ :

عثمان کہا...

آپ شائد غصہ کرگئے
میں نے فتووں والی بات آپ کو نہیں اوپر کچھ دوسرے لوگوں کے لئے لکھی تھی۔
بہرحال میں اس بحث کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ یہ بحثیں ہمیشہ سے جاری ہیں۔ اللہ سب کو دین کی فہم و فراست دے۔ آمین

جاپاکی کہا...

ميں ايسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو دن کا آغاز نماز اور دوسری عبادت سے کرتے ہيں اور اپنے لييے ناشتہ احتياط سے منتخيب کی گئی حلال خوراک سے کرتے ہيں ليکن گھر سے نکل کر جب مال کمانے کا وقت آتا ہےحلال کوتو بھول جاتے ہی ہيں بلکہ وہ اس حد تک چلے جاتے ہيں مال بنانے کے چکر ميں چاہے جتنے بڑے گناہ سرزد ہو جائيں ليکن مال آنا چاہيے
ہماری بدقسمتی کہ ہم نے اسلام کو پک اينڈ چوز بنا ليا ہے۔ جو برائياں ہم ميں ہوتی ہيں انہيں صحيح ثابت کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے بہت سی جھوٹی دليليں گھڑ ليتے ہيں اور دوسروں کی برائيوں کو اچھالنے کی کوشش ميں لگے رہتے ہيں۔ اصل ميں جو کرنے کی ضرورت ہے اس سے نظريں چراتے ہيں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان آپ میرا مزاج سمجھتے ہی ہوں گے۔
بھائی غصہ بالکل نہیں ھے۔
الحمد اللہ مجھے آپ کی مسلمانی پر بھی کوئی شک نہیں ھے۔
میرا مقصد ہی سوالات کر کر کے دھوبی کی طرح کپڑے کو نچوڑنا ھے۔ کہ میل نکل آئے اگر چہ مجھ میں ہی ہو۔
کیوں کہ میں نے اپنی زندگی کے تجربہ سے یہی سیکھا ھے کہ عورت کی حکمرانی ٹھیک نہیں ھے۔اور عورت کی حکمرانی میں کچھ ٹور شور بھی نہیں ہوتی۔
اسلام میں عورت کی حکمرانی کے متعلق تو اس پنگے کے بعد پڑھنا شروع کیا ھے۔ :mrgreen: :mrgreen:
اسی لئے سوالیہ انداز میں پوسٹ لکھی تھی اور روشنی کے تبصرہ میں بھی سوالات کئے تھے۔لیکن جواب نہیں ملا۔
اب اگلی پوسٹ اپنے سر مت لے لینا۔ :lol:
یہ دیکھیں کہ میں سوالات کیوں کر رہا ہوں۔
حدیث اور قرآنی آیا ت لکھ لکھ صفحے تو میں بھی کالے کر دوں گا۔ کہ زنانی کی حکومت ماننی ہی نہیں۔
پکی گل مانوں گا بھی نہیں۔ :lol: :lol: :lol:

محمد طارق راحیل کہا...

یہ عورتوں کو حقوق دینےکی بات اور پھر بے حیائی پھیلانے والی غیر مسلم اقوام کے جیسے سوالات آپ کے دماغ میں خود آگئے ہیں جو آپ انبیاء و رسل پر اور اللہ کے قوانیں اور ارشادات پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں مشاہدات ان چیزوں کا کیجئے جو وحدانیت اور خالق کائنات کی دی گئی نعمتوں سے کے ظہور کا باعث ہو تا کہ اللہ پر پختہ یقین کامل ہو ایسی لغو باتوں سے پرہیز کیجئے جو ذہنی انتشار کا باعث ہو اور باعث بحث لوگوں کی شدت جزبات سے کچھ غلط بات نکل جائے اور وہ جان بھی نہ سکے کہ کب ایمان زائل ہو چکا.

جو حکم ہو چکا سو ہو چکا

شراب حرام اور سرکہ حلال یہ اللہ کا حکم بحث نہ کریں تو بہتر شک و شبہات ایمان کے زائل ہونے کا باعث ہے

ایسے ہی مرد کو گھر سے باہر کے معاملات اور عورتوں کو گھر کے معاملات کی ذمہ داری دے دی گئی ہے
مزید بحث صرف مزہبی معاملات میں شیطانی جذبہ کو قلبی تسکین پہنچانے سے زیادہ کچھ نہیں الل ہہم سب کی رہنمائی نیک کاموں مین اور سوچ و فکر اصلاحی معاملات میں دین کی خدمت کرنے کی نا کہ دینی معاملات پر انگلی اٹھانے کی توفیق عطا فرما

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ایسے ہی مرد کو گھر سے باہر کے معاملات اور عورتوں کو گھر کے معاملات کی ذمہ داری دے دی گئی ہے


راحیل صاحب آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں.
ایسا لکھنے کی وجہ بھی کچھ ایسی ہی ھے.
یہ انگلیاں نہیں اٹھا رہا.جو انگلیاں اٹھا رھے ہیں. ان سے پوچھا تھا کہ ایسا کیوں کر تے ہو.
اصلاحی کام میں دین کی خدمت کرو دین کو اپنے مقاصد کیلئے تماشہ مت بناو. یہ مقصد تھا یہ سب کچھ لکھنے کا÷

کاشف نصیر کہا...

مجھے یہ مثال سن کر کہ یہ حکم چودا سو سال پرانا ہے اور آج کے جدید دور کے تقاضے بدل چکے ہیں کبھی بہت ہنسی آتی ہے اور کبھی بہت افسوس ہوتا ہے. چاہئے تو یہ ہے کہ اسلامی احکامات اور تعلیمات کو چودا سول پرانی قدیم روایات قرار دینے والے یا تو پورے کہ پورے اسلام کو اسکی قدامت پرستی کی وجہ سے مسترد کردیں. لیکن یہ کیا مزاق ہے کہ ہم جس تعلیم کو اپنے مزاج کو مطابق سمجھیں اسے اپنا لیں اور جو ہمارے مزاج کے خلاف ہو اسے مسترد کردیں. یہ اللہ عبادت ہوئی یا نفس کی پوجا.
صاحب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ واقعی قرآن اور حدیث کا حکم ہے یا نہیں اور اگر حکم قرآن اور حدیث سے ثابت ہوجائے تو ہمارے لئے اللہ اور اسکے رسول صلہ اللہ و علیہ وسلم کے فیصلوں کے خلاف جانے کا کوئی حق باقی نہیں رہ جاتا، یہی ہے صحیح فرمابرداری کے ناچاہتے ہوئے بھی اس کی مانی جائے.
خواتین کی حکمرانی کی حرمت قرآن کریم میں براہ راست تو کہیں وارد نہیں ہوئی البتہ صحیح حدیث میں خواتین کی حکومت کی مزمت وارد ہوئی ہے. اگر بات صرف یہ ہوتی کہ اسلام کی ابتداء کسی خاتون کو حکومت نہیں دی گئی تو پھر بھی کوئی امکان باقی رہتا لیکن حدیث میں خاتون کی حکومت کی بھرپور اور واضع مذمت سے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی.
پاکستانیوں کا بے نظیر مرحومہ کو وزیر اعظم بنانا، اللہ اور اسکے رسول صلہ اللہ و علیہ وسلم کی حدود سے بغاوت تھی.
خاتون کا مرتبہ بہت بلند اور اعلی ہے، ماں کا رتبہ باپ سے تین گنا زیادہ ہے. جائیداد میں بھی عورت کا حصہ ہے اور اسے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بھی اجازت ہے. پھر خاوند پر لازم ہے کہ اسکی کفالت کرے لیکن اگر خاتون خود کچھ کمائے تو وہ صرف اور ٍصرف اسکا اپنا ہے. لیکن گھر سے باہر معاشرے کی قیادت کی زمہ داری اللہ نے کبھی کسی عورت کو نہیں دی.

کاشف نصیر کہا...

عثمان میری نظر سے ایسی کوئی حدیث نہیں گزری کہ آپ صلہ اللہ و علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہو کہ میری کوئی بات اگر قرآن کریم کے خلاف ہو تو اسے دیوار پہ دے مارو کیا آپ اس حدیث کا حوالا دینا پسند کریں گے.
اس قسم کا قول امام ابو حنیفہ سے ضرور منسوب ہے کہ اگر میرا کوئی فتوا قرآن و حیث کے خلاف ہو تو اسے دیوار پہ دے مارو. آپ صلیہ اللہ و علیہ وسلم سے ایسی کوئی روایات کم از کم میں نے نہیں پڑھی.

دوسری بات یہ ہے کہ اسلام کا اصول عوامل اور عناصر کا نہیں سمع و اطا ینعی سنو اور عمل کرو کا ہے. صحیح فرمابرداری سوائے اس کے کچھ نہیں کہ پہلے یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ حکم اللہ اور اسکے رسول صلہ اللہ و علیہ وسلم کا ہے یا نہیں اور تصدیق ہوتے ہی اللہ اور اسکے رسول صلیہ اللہ و علیہ وسلم کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کردیا جائے. اگر ایسا نہیں تو فرمابرداری نہیں نفس پرستی اور موقع پرستی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا.

محمد طارق راحیل کہا...

سچ کہا یاسر پاکستانی آپ نے
تماشہ بنا دیا ہے مذہب کو
جس کو دیکھے فرقہ تبدیل ہے تو ہر ایک اپنے فرقے اور مسلک کی حدیث سامنے کر دیتا ہے
کھیل بنا دیا ہے
ایک حدیث تم لاؤ دوسری ہمارے پاس سے آئے گی
بس ہم ٹھیک تم غلط

مذہب کو ہی سب سے زیادہ سیاست میں استعمال کیا جا رہا ہے
کسی کو کوئی موقع نہیں جو جانے دیں

بھائی خاموشی اللہ کی سنت ہے
جب شیطان نے آدم کو سجدہ نہ کیا تو اپنی بڑائی بیان کرنے لگا
اور اللہ سے بحث کی
یہ بحث کی لعنت کی ابتداء تھی
پر اللہ نے جواب مین خاموشی اختیار کی اور اس کو مردود قراد دیا
سو ہمیں بھی چاہیئے خاموشی کا ہتیار اپنائیں

معیز کہا...

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انسانی تاریخ کے طویل دور میں کفر و شرک کی حکمرانی کے سبب قدیم و جدید ہر دور میں مختلف شکلوں میں عورت کو ذلت و حقارت کے ساتھ کنیز و خدمتگار کی زندگي بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے ۔ اس کی صرف ظاہری شکل و صورت پر نظر رکھی گئی اور لوگ عیش و مستی کے کھلونوں کی طرح اس سے کھیلتے رہے خصوصا´ عصر حاضر میں تو فیشن اور جدت کے نام پر اس سے بد ترین شکل میں فائدہ اٹھایا جارہا ہے ، ایک عورت کے الہی پہلوؤں کو بالکل نظر انداز کردیا گيا ہے ۔ اور لطف یہ ہے کہ سنہری شمشیر سے عورت کاگلا کاٹنے والے یہی افراد خواتین کے حقوق اور آزادی کے علمبردار بنے ہوئے ہیں اور اپنی حقیقت و عظمت سے ناآشنا خواتین کا ایک گروہ ان کی ”شیطانی آیات “میں اپنی رہائي اور نجات کی راہ تلاش کر رہا ہے اور اس بات سے بے خبر ہے کہ یہ لوگ ان کو حیات نہیں موت کے دلدل میں ڈھکیل دینے کے درپے ہیں

باذوق کہا...

@ عثمان
آپ نے لکھا ہے : اسی لئے کہتا ہوں کہ تمام پہلے سے فرض کئے گئے خیالات سے پاک ہو کر قرآن کی طرف رجوع کرو۔ بہت سی باتیں خود سمجھ آجائیں گی۔

ہم سب کا ایقان ہے کہ جس طرح ہم ایک دوسرے کو قرآن کی طرف رجوع کرنے کہا کرتے ہیں ، بالکل اسی طرح ائمہ دین بھی قرآن کی طرف ہی رجوع کیا کرتے تھے۔

آئیے دیکھتے ہیں ، مفسر قرآن ، امام ابن کثیر رحمۃ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کیا کہتے ہیں؟
امام ابن کثیر اس آیت کی شرح میں ، تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں :
يقول تعالى: { ٱلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ } أي: الرجل قيم على المرأة، أي: هو رئيسها وكبيرها، والحاكم عليها ومؤدبها إذا اعوجت، { بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ } أي: لأن الرجال أفضل من النساء، والرجل خير من المرأة، ولهذا كانت النبوة مختصة بالرجال، وكذلك الملك الأعظم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم " لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة " رواه البخاري من حديث عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه، وكذا منصب القضاء، وغير ذلك
باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے ہر طرح سے اس کا محافظ و معاون ہے اسی لئے کہ مرد عورتوں سے افضل ہیں یہی وجہ ہے کہ نبوۃ ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ لوگ کبھی نجات نہیں پاسکتے جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں (بخاری)۔ اسی طرح ہر طرح کا منصب قضا وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں۔

اور تقریباً یہی بات امام قرطبی رحمۃ اللہ بھی اسی آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ عورتیں امراء و حکام نہیں بن سکتیں۔

امام شوکانی کی تفسیر فتح القدیر دیکھ لیں۔ اس آیت کی تفسیر میں انہوں نے عورت کے بطور حکام والی ممانعت کا ذکر کیا ہے۔

ابن جوزی کی تفسیر زاد المسير میں بھی امارت پر مرد کے حق کا ذکر ہے۔

تفسیر خازن میں بھی امارت پر مرد کے حق کا ذکر کیا گیا ہے۔

اگر ان تمام ائمہ سے آیت کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ نے آیت کے مفہوم کو صحیح سمجھا ہوگا؟؟
جبکہ مفسرین و محدثین کے مفہوم پرتو امت کا اتفاق ہوتا ہے۔
بہتر ہے کہ اپنی سمجھ کی تفسیر کے بجائے کسی ایسے معتبر مفسر یا محدث کا حوالہ دیا جائے جس نے اس آیت کے حوالے سے کچھ یوں کہا ہو کہ اس آیت سے عورت کی سربراہی کا انکار ثابت نہیں ہوتا !!

باذوق کہا...

كيا شريعت اسلاميہ ميں عورت كا حكمران بننا جائز ہے ؟
لنک :
http://www.islamqa.com/ur/ref/20677

محمد سعد کہا...

عثمان میاں تو ایسے کہتے ہیں کہ جیسے (نعوذ باللہ) نبی کی بات اللہ کے حکم کے خلاف جایا کرتی ہو۔ کیا اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے منتخب کرے گا جو ان کو اللہ کے احکام بتانے میں ہی غلطی کرے؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بار بار رسول کی اطاعت کا حکم کیوں دیتا؟
بات وہی ہے کہ جس نے پہلے سے طے کر لیا ہو کہ اپنی مرضی کے خلاف اللہ اور رسول کا ایک حکم بھی نہیں ماننا، اسے دلیل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

محمد نعمان کہا...

جناب جہاں تک یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہو کہ میری کوئی حدیث قرآن پاک کے خلاف جائے تو اسے دیوار پر دے مارو، تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سے تو پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کئی احکامات اور اقوال اور سنت کے کئی ایک پہلو اسلام کا حصہ نہیں. ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے غلطی کی خطا کی گنجائش ہے. حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ میرے دہن سے جو نکلتا ہے حق ہی نکلتا ہے، اور یہ حدیث بالکل صحیح ہے آپ تحقیق کر سکتے ہیں ( ابھی مجھے حوالہ یاد نہیں فی الحال) ...... تو آپ ہی فرمائیے کہ پھر بھی یہ سوچ رکھنا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کوئی حکم قرآن پاک کے مخالف ہو سکتا ہے کیا؟

wafa united kingdom کہا...

nice one

Clone of Mirza Ghulam Ahmed Qadiyani کہا...

excellent but insane wont get it

علم کا متلاشی کہا...

چودہ سال پہلے ذمہ داریاں کم ھوتی تھیں تو نماز کا وقت آسانی سے نکل آتا ھو گا تو کیا یہ ممکن ہے ک نمازیں کم کر دی جایں؟
چودہ سال پہلے گرمی کم ہوا کرتی تھی جیسا کہ سائنس دان کہتے ہیں تہ اس وقت روزے رکھنا آسان تھا تو اب سال میں جب چاہیں 10 یا 12 جتنے دل کرے رکھ لیا کریں؟؟
چودہ سو سال پہلے مکہ سے غیر مسلموں کو نکال دیا گیا تو اب اس پابندی کو ہٹا نہ دیا جاۓ کیوں کہ اب یہ گلوبل ویلیج بن چکا یے یہاں؟؟
چودہ سو سال پہلے عورت کو ماں کے روپ میں باپ سے زیادہ اھمیت دی گئ تو یس رعائت کو واپس نہ لے لیا جاۓ؟؟
حضرت محمد صلی الٰلہ علیہ واٰلہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے۔ آپ صلی الٰلہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو بھی فرمایا، جو بھی کہا، جو بھی کیا، جس بات کا بھی حکم دیا، جس بات سے بھی ررکا وہ شریعت کا حصہ ہے اور قرآن مجید کی بہترین تفسیر ہمیں آپ صلی الٰلہ علیہ واٰلہ وسلم کی حیات طیبہ سے ھی ملتی ھے-
عورت کا درجہ بہت بلند ہے، یتنا بلند ہے کہ حضور صلی الٰلہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی چادر مبارک اپنی رضاعی ماں کے لیۓ بچھا دی، یتنا بلند ہے کہ اس کہ پاؤں تلے جنت رکھ دی، لیکن کوئ بھی عورت نبی نہیں ہوئ- نبی بھی عورت ک بطن سے ہی پیدا ھوۓ ہیں لیکن ان ماؤں کے لیۓ بھی اس نبی اور یس کہ شریعت پہ ایمان لانا لازم ٹھہرا-
عورت اور مرد کو برابری کع سطح پہ ان کی جنس کو سامنے رکھتے ھوۓ حقوق و فرائض دیۓ گۓ ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ ھمیشہ حقوق کی ہی بات کرتے ھیں، فرائض کی کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟
اور ویسے بھی جتنے مرضی پاپڑ بیلتے رہو، جتنا مرضی اس چودہ سو سال سے زیادہ پرانی باتوں کو فرسودہ کہ کے ان سے جان چھڑاتے رہو، کوئ فائدہ نہیں ھو گا جب تک کہ اس پیارے مزھب اسلام کے مطابق خود کو نہیں ڈھال لیتے بجاۓ اس کے کہ اسے اپنے مطابق ڈھالتے پھرو۔ میرے بھائیو، لوگ نظریات کے گرد گھوما کرتے ہیں، نظریہ کو اپنی خواھشات کے مطابق نہیں ڈھالا جاتا- الٰلہ کو بغیر کسی دلیل کے مانتے رہو اور اسلام کو بس الٰلہ کا حکم سمجھ کے مانتے رہو اور اس پہ بلکل ویسے ہی عمل پیرا ھونے کی کوشش کرتے رہو جیسا کی الٰلہ نے حکم دیا ہے اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی الٰلہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے- بس اسی میں کامیابی ہے اور باقی کچھ نہیں ہے-

سحر کہا...

یہاں میں آپ کی تصحیح کردوں کہ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے بلکہ
امام شافعی کا قول ہے کہ اگر میری بات قرآن و سنت کے خلاف پاؤ تو اس کو دیوار سے مار دو.
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات منبسوب کرنے پہلے تحقیق ضروری ہے اور بہت احتیاط بھی .
شکریہ

سحر کہا...

عورت کی حکرانی کے بارے میں تو کچھ نہی کہوں گی
بس آپ سب کی توجہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی قیادت جنگ جمل میں کا ذکر کرنا چاہوں گی .
جنگ جمل میں حضرت عائشہ نے مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کی کی تھی .
اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے ان کی قیادت قبول کی تھی .

ارتقاءِ حيات کہا...

سحر صاحبہ
شائد آپ کو یاد نہیں رہا جنگ جنل کے بعد حضرت عائشہ کو اس جنگ کا افسوس بھی رہا تھا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.