کیا مفلس اور غریب کا ایسا سوچنا گناہ ھے؟

آمد ہے رحمتوں کی۔آمد ھے خوشیوں کی۔آمد ھے ایثار کی۔ آمد ہے محبتوں کی۔آمد ہے قربانیوں کی۔آمد ہے تقوی میں اضافہ یا نفس میں پاکیزگی پیدا کر نے کی۔

زرداروں کیلئے زر میں اضافہ کی۔سرمایہ داروں کیلئے سرمایہ داری کے موقع کی ۔

ذخیرہ اندوزوں کیلئے ذخیرہ کرنے کے دنوں کی۔

پیٹ کے پجاری جو سارا سال پیٹ کی پوجا کرنے کے باوجود سیر یاب نہیں ہوتے ان کے ٹن کے کھانے کے دنوں کی۔
احفاظ کی بکنگ جاری ہے۔قاری الفاظ کی ادائیگی کی تیاری کر رہے ہیں۔

مولوی گلے کی صفائی ستھرائی میں کمر ٹھونک چکا ھے۔

پیر و مرشد نے تجوریاں تیار کر لی ہیں۔

مرید نذرانے پیش کر نے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ذخیرہ اندوز، سرمایہ دار،سیاسی و دینی رہنما عمرہ کی تیاری کر رہے ہیں۔

دینداروں کا یہ خیال کہ ماہ رمضان سب کیلئے مسرت وشادمانی اور رحمت کا مہینہ ھے۔اور خواہشات نفسانی کو مار کر پاکیزگی حاصل کر نے کا مبارک مہینہ ہے۔غریب اور مفلس کیلئے احمقوں کی جنت ہی ہے۔

پاکستان اور بہت سارے اسلامی ممالک میں غریب اور مفلس کیلئے یہ مہینہ برکتوں کا تو نہیں دیوانگی کا ہو جاتا ھے۔

مفلس تو نماز کے ثواب سے محروم رہتا ھے۔نماز جو خشوع و خضوع اور حضور قلب کا تقاضہ کرتی ہے مفلس کو کہاں نصیب۔

روزہ کیلئے مرغن غزائیں سموسے پکوڑے ضروری ہیں۔مفلس جو عام دنوں میں دو وقت کی روٹی کا محتاج ہے۔اس مہنگائی کے مہینے میں ایک وقت کی روٹی سے کیسے روزہ رکھے گا؟

جینے کی خواہش کے باوجود بھوک اور کمزوری سے ہی مر جائے گا۔

انسان کی ساری خوشیوں کا خون کر نے والی یہ مفلسی ہی ھے۔یہ مفلسی اسے اس بابرکت مہینے سے کیسے فیضیاب ہو نے دے گی؟

اوپر سے اس مفلس پر زردار گدی نشین سجادہ نشین سرمایہ دار ذخیرہ اندوز صنعت کار لٹیرے لیڈر اور دین فروش دینی رہنما مسلط ہیں۔

تو مفلس اس رحمتوں کے مہینے کو زحمتوں کا مہینہ نہ سمجھے تو کیا کرے؟

مفلس سے اس مہینے میں بد عہدی،دغابازی، دھوکہ فریب،جھوٹ،چوری ،نفسا نفسی اور افراتفری نہ کر نے کی امید کرنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟

جس انسان کے پیٹ کو چیر کر اس کی انتڑیاں بھی نکال کر بھاگ جانے والے اس پر للچائی ہو ئی نگاہ رکھے ہوئے ہوں۔اس انسان سے روحانی اور دینی عبادات کے اہتمام کی امید رکھنا شور زدہ زمین سے ہری بری فصل کی امید رکھنے کی طرح ہے۔

افطار کے وقت جب تھک جائیں تب ہاتھ روکیں اور بہ کراہت نماز مغرب پڑھ کر امید جنت رکھنا کیسا ھے؟

ساری دنیا کے کافر مل کر اسلام اور مسلمانوں کا جینا اتناتنگ نہیں کرتے جتنا ہم مسلمان اس ایک مہینے میں دوسرے مسلمانوں کا جینا حرام کرتے ہیں۔

ماہ رمضان کے مہینے میں کتنی خود کشیاں ہوں گی یہ سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے۔

کتنے قوم کے ہمدرد لیڈرعوامی اور سرکاری مال سے عمروں پر تشریف لیکر جائیں گے۔

کتنے ماہ رمضان ٹھنڈے علاقوں میں گذاریں گے۔

جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو وہ روزہ کھا کے جہنمی؟
کیا مفلس اور غریب کا ایسا سوچنا گناہ ھے؟ کیا مفلس اور غریب کا ایسا سوچنا گناہ ھے؟ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 5:58 PM Rating: 5

14 تبصرے:

فرحان دانش کہا...

یہ بات تو بہت اچھی کہی ہےآاپ نے کہ
ساری دنیا کے کافر مل کر اسلام اور مسلمانوں کا جینا اتناتنگ نہیں کرتے جتنا ہم مسلمان اس ایک مہینے میں دوسرے مسلمانوں کا جینا حرام کرتے ہیں۔

سعد کہا...

میں فرحان کی بات سے متفق ہوں

افتخار اجمل بھوپال کہا...

جہاں تک ميرا خيال ہے مسلمان صرف ہمارے ملک کے ہی انوکھے ہيں ۔ رمضان آتا ہے تو ہر شے کی قيمت بڑھ جاتی ہے ۔ ميں لبيا ميں کسی زمانہ ميں رہا ۔ رمضان سے قبل قيمتيں کم کر دی جاتی تھيں اور لوگ ساری شاپنگ انہی دنوں ميں کرتے تھے ۔ ايک ہفتہ سے سے دبئی يں ہوں ۔ کل عمارات مال ميں گئے تھے ۔ تمام اشياء پر کٹوتی کی گئی تھی ۔ سنا ہے کہ بھارت ميں بھی مضان کے دوران اشياء خوردنی کی قيمتيں کم ہو جاتی ہيں

م بلال م کہا...

”جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو وہ روزہ کھا کے جہنمی؟“
بات تو بڑی زبردست کی ہے اور یقینا اس طرف بھی سوچنا ہے ہم کو.

عدنان کہا...

میں فرحان کی بات سے متفق ہوں۔
ہمارے ملک میں بس ڈنڈے کی حکومت ہونی چاہئیے اور ڈنڈا ایسا جو ان ساہوکاروں کی ٹھکائی کرے

شازل کہا...

یہ تو رمضان کا الگ ہی نقشہ کھینچا ہے

fikrepakistan کہا...

بہت ہی خوبصورت تحریر ھے، ایک بات میں آپ سے دعوے سے کہتا ھوں جو چاہے مشاہدہ کر لے اس عظیم مہینے میں ایک بھی ملا مفلسی کے خلاف یا قوم کو مفلسی سے جان چھڑانے کے لئیے درس نہیں دے گا وہ ایک ہی بات گھسائے جائے گا جاہلوں کے پھپھوندی لگے دماغ میں کے غربت میں عظمت ھے غریب رھو گے تو حساب دینے میں بھی آسانی ھوگی، کے اتنی مفلسی پھیلی ھوئی ھے ہر طرف مگر مجال ھے کھ کوئی بھی ملا یہاں تک کے کوئی عالم تک بھی غربت کی لعنت سے نجات حاصل کرنے کا درس دے دے۔کوئی ملا نہیں بتاتا لوگوں کو کھ غربت وہ لعنت ھے جس سے خود انبیاء اکرام نے پناہ مانگی ھے، حدیث ھے کے مفلسی کفر تک لے جاتی ھے، مگر یھ مذہب فروش کبھی یھ نہیں بتاتے قوم کو، الٹا غربت میں ہی سڑنے کی تلقین کرتے رہتے ھیں۔

جاپاکی کہا...

جاپان بھائ پاکی مسلمانوں کو دعا کی نہیں دوا کی ضرورت ھے،
:roll: :roll: :roll:

عثمان کہا...

کرسمس آتی ہے تو پردیس میں سیلیں لگتی ہیں. اشیا کی قیمتیں آدھی رہ جاتی ہیں.
پاک لوگاں کی گنگا الٹی بہتی ہے. عید آئے یا رمضان. کھینچو کھال میری جان. :|

عین لام میم کہا...

بہت خوب جی. تحریر بہت سوچ انگیز ہے لیکن.... کیا کریں جاپانی جی!
اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے.
فکر پاکستان کی بات سے صد فیصد اتفاق ہے کہ آج ہی جمعے کے خطبے میں مفلسی و مسکینی کا درس دیا جا رہا تھا. لیکن بہرحال وہ یہ درس امیر و غریب سب کو دے رہے تھے اور بے جا اسراف سے روک رہے تھے.

محمودالحق کہا...

آپ نے لکھا کہ کیا مفلس اور غریب کا ایسا سوچنا گناہ ھے؟
تو بھائی ثواب بھی کہاں رہ گیا . ماسوائے افسوس کے کیا کہہ سکتے ہیں . صرف لکھ سکتے ہیں سو وہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں .
کچھ ایسی ہی دل جلی تحریر میں نے بھی لکھی ہے "کیا ہم شرمندہ ہیں"

حیدرآبادی کہا...

کافی تلخ ہے تحریر۔
مگر بھیا ، کچھ عام آدمی کو رمضان کے حوالے سے ہی درس دے دیتے۔ امراء و روساء کی سماعت و بصارت کا حال تو ہم سب کو معلوم ہے۔
اجمل انکل ، رمضان کے دوران دوسری ریاستوں کا حال تو ہمیں نہیں معلوم ۔۔۔ لیکن ہم اپنی ریاست آندھرا پردیش کے متعلق ضرور کہہ سکتے ہیں کہ رمضان کے دوران قیمتوں میں کنٹرول کا حکومتی آرڈر ہوتا ہے۔
اب البتہ ایک پلیٹ حلیم کا ریٹ کیوں ہر سال بڑھتا جاتا ہے ، یہ بات ہماری سمجھ میں کبھی نہیں آئی :|
پچھلے سال ایک پلیٹ حلیم 60 روپے تھی ، اب اللہ جانے اس رمضان کیا ہوگی؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

حیدرآبادی صاحب
بلاگ پر تشریف آوری شکریہ اور خوش امدید
دیکھ لیں آپ کی کافر حکومت ھے اور قیمتوں پر کنٹرول ھے.
ہمارے ہاں رمضان سے پہلے ہی قیمتیں بڑھ چکی ہیں.
ہماری حلال قسم کی مسلمان حکومت ھے.اور یہ حکمران ہمارے پیسوں سے عمروں پر روانہ ہو نے کی تیاریاں کر رہے ہیں.عام آدمی کو علما کرام درس دے ہی رہے ہیں.
ہم تو خود ہی عام ہیں جی.

Katherine Raleigh کہا...

Di dalam kitab

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.