موت کی دیوی کو چڑھاوا

سارا ملک سوگوار ھے۔ڈرون حملہ نہ ھو تو خود کش حملہ ھو جاتا ھےکچھ دن کوئی بری خبر نہ ملے تو خودکشی کی خبر ضرور مل جاتی ھے۔۔بیس بائیس سال پہلے جب دیار غیر میں آئے تھے۔تو پاکستان سے فون آجائے تو سننے سے پہلے سوچتے تھے۔یااللہ خیر۔اب انسانی خون اتنا ارزاں بکتا ھے کہ پاکستان میں ماں باپ اور ماں جائے بھی گذر جائیں تو دکھ تو دکھ کوئی حیرت نہ ھو۔

بڑی تعداد شہداء کی صف میں شامل ہو چکی ھے۔نہ جانے اور کتنوں کی شہادت متوقع ھے۔موت کی دیوی کو بھینٹ دے کر امر ھونے کی خواہش رکھنے والے نہ جانے کب تک یہ بلیاں چڑھاتے رہیں گے۔ہم احتجاج ہی کر سکتے ہیں یا رو سکتے ہیں جب بے بسی کے آگے بھی بے بس ھو جا تے ہیں تو حکمرانوں کے لتے لے کر کچھ سکوں محسوس کرتے ہیں۔سوچتے ہیں یہ حکمران کیا ہمارے لئے کچھ کر نے کی صلاحیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ اس دفعہ کی خون ریزی پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے برصغیر کے عظیم صوفی کے مزار پر حملہ کرنے والوں کو انسانیت کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کا سراغ لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ صدر زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بھی ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات پر زور دیا گیا۔ میاں نواز شریف، ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین اور گورنر پنجاب نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس المیہ پر تین روزہ سوگ اور جمعہ کے روز مظاہروں کا اعلان کیا گیا جبکہ سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے دربار پر حملوں کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے اور پنجاب حکومت کی سکیورٹی کی نااہلی کا ثبوت ہے۔

اس المناک واقعہ سے پہلے بعض خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے لاہور میں مذہبی عبادت گاہوں پر دہشت گردوں کے حملوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے لاہور میں دہشت گردوں اور دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑیوں کے داخلے سے بھی حکومت کو مطلع کیا گیا تھا ۔ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیز بھی قبل از وقت دہشت گردوں کو گرفت میں لینے اور ایسے المناک واقعات کو روکنے میں قطعی ناکام نظر آتی ہیں۔ کسی وزیر کا یہ کہنا کہ ان دھماکوں میں غیر ملکی ایجنٹ ملوث ہیں بغیر ثبوت کے یہ کہہ دینا ھی ان وزیر صاحب کی نااہلی کا ثبوت ھے۔

ایسے دہشت گردی کے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا۔ جب تک ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی جائے۔ کئی حضرات کو شائد یہ بات بری لگے لیکن یہ حقیقت ھے ملک بھر میں ایسے مراکز موجود ہیں جو نوجوانوں کو جنگی تربیت دے رہے ہیں۔ہم ان تربیتی مراکز کے متعلق یہ کہنے پر مجبور ہیں۔کہ ایجنسیز کو معلوم ھے کہ کہاں کیا پکتا ھے۔ ان تربیت گاہوں میں نوجوانوں کے ذہنوں کو بدلا جاتا ہے۔ ان کی سوچ تبدیل کی جاتی ہے ۔نتیجہ ہم سب اپنے گھروں کو جلتا ھوا دیکھ رہے ہیں۔معروضی حالات و واقعات بالخصوص غربت و افلاس ، بے روزگاری اور مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے نوجوانوں کی طرف سے خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ بھی دہشت گردی کے دائرے کو وسعت دے رہا ھے۔

حکمرانوں کے گریبان ضرور پکڑنے چاھئیں کہ یہ عوام کا حق ھے۔کہ عوام حکمرانوں سے اپنے جان و مال کی حفاظت کا بندوبست کر نے کی امید رکھتی ھے۔ہم عوام پر بھی ذمہ داری عائد ھوتی ھے ۔کہ ہم بھی انتشار پھیلانے سے باز آئیں۔مسلکی مذہبی گفتگو سے پر ہیز کریں کہ یہ علما کرام کا کام ھے۔یہ ایسا شیطانی چرخہ ھے کہ صدیوں سے الجھا ھوا ھے۔جو مذہب کو بہتر جانتےہیں اورجنہوں نے مذھب کیلئے ریاضت کی ھے وہ بے شک بحث مباحثہ کریں لیکن جو علما کرام فساد اور فتنہ خون ریزی کی دعوت دیتے ہیں انہیں عوام اور حکمران بے نقاب کریں۔

سب سے زیادہ جہالت جو ہمیں اس وقت اور ایسے پر آشوب دور میں نظر آ رہی ھے۔وہ نسلی اور لسانی تفاوت ھے۔عوام کسی علاقے کے بھی ہیں۔بہت بری حالت میں ہیں۔ہر گھر کے مسائل ایک جیسے ہیں ہر گھر ہر گھرانہ بہتر زندگی کا متلاشی ھے۔پر سکون زندگی کی خواہش رکھتا ھے۔اگر مذہبی اور مسلکی مسائل پر مذہبی جنونی خونخواری کرتے ہیں تو یہ نسلی اور لسانی تفاوت کر نے والے بھی جنونیت کے مرض کے شکار ہیں۔آگ صرف آگ ھوتی ھے۔یہ حضرت انسان پر ھے کہ آگ سے روٹی پکاتا ھے یا خود بھی جلتا ھے اور دوسروں کو بھی جلاتا ھے۔

ہمیں اس وقت یک جہتی کی ضرورت ھے۔نہ کہ موقع دیکھ کر دوسروں کا تمسخر اڑانے کی۔جذبات اور آزاد خیالی میں ہم لوگ مذہب کا بھی اور مسلمان کا بھی مذاق اڑا دیتے ہیں۔ہمیں خود احساس بھی نہیں ھوتا کہ ہم جذبات میں آکر کیا کہہ رھے ہیں۔لیکن تحریر ہر طرح کا بندہ کم و اعلی فہم پڑھ رہا ھوتا ھے۔لازمی نہیں ھے کہ ہر شخص ایک دوسرے سے متفق ھو۔اگر دوسرے کے جذبات سمجھ نہ آئیں تو سمجھنے کی کوشش کر نی چاھئے۔ہم عوام ہر مصیبت کا الزام حکمرانوں اور حکمران مخالف قوتوں کو دے کر بری الذمہ نہیں ھو سکتے۔ہمیں مثبت اور تعمیراتی سوچ کی ضرورت ھے۔جب تک عوام اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے شاید ہم یہ جنگ جو اندر اور باہر سے ہم پر مسلط کر دی گئی ھے نہ جیت سکیں۔تلواریں سیدھی کر کے جہاد کی ذمہ داری نباہنے کی ضرورت نہیں ھے۔صرف حکمرانوں کے طرز عمل کی پیروی چھوڑنی ھوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نفرت کی تبلیغ اوربغیر ثبوت کی الزام تراشی

اللہ تبارک تعا لی سے دعا کرتے ہیں کہ سیاسی اور مذھبی قائدین اہل قلم اور اہل دانش کو توفیق دے کہ ملک میں یک جہتی کی فضا پیدا کر یں اور اس عجیب د
موت کی دیوی کو چڑھاوا موت کی دیوی کو چڑھاوا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:51 PM Rating: 5

6 تبصرے:

محمد ریاض شاہد کہا...

وہ کیا نبی اکرم کی حدیث ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو لوگوں کو اسلم کے علاوہ کسی اور عصبیت پر اکٹھا ہونے کی آواز دے

محمد ریاض شاہد کہا...

تصحیح الم نہیں بلکہ اسلام

وقاراعظم کہا...

جی بہت اچھی بات کی آپ نے کہ یکجہتی کی فضا پیدا کی جائے اور تعصب اور لسانیت کی دلدل سے بچا جائے

DuFFeR - ڈفر کہا...

میرا تو کہنا ہے کہ ایجنسیاں اس کام میں پوری طرح ملوث ہیں

saadblog کہا...

اس میں وہ سب ملوث ہیں جن کو پیسے سے پیار ہے۔

جاہل اور سنکی، جہالستان کہا...

آپ ہمارے نوزائیدہ بلاگ پر تشریف لائے، بہت خوش ہوئی ۔ آپ نے تو واقعی ٹکا کے تبصرہ کیا ہے ۔
ناکافی ٹائم کے باعث تبصرہ نہ کرنے کی معزرت قبول کیجئیگا ۔امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.