جنس نازک

عورت ۔۔۔جنس نازک کہلاتی ھے۔
دنیا کے ہر معاشرے میں عورت کو کمزور یا نازک اندام تصور کیا جاتا ھے۔لیکن دیکھا جائے تو عورت مرد سے زیادہ محنت مشقت کرتی ھے۔اکثریت دیکھی جائے تو مرد ہی ذہن رسا رکھتا ھے۔
مرد اور عورت میں اختلاف ھو توایک دوسرے کیلئے کشش رکھتا ھے۔

مرد فطری طور عورت پر حاکم ھے اورعورت محکوم۔
مرد فاتح ھوتا ھے اورعورت مفتوح۔
مرد کی قوت ارادی مضبوط ھوتی ھے اور عورت کی قوت ارادی کمزور ھوتی ھے۔
مردوں کا تجربہ ھے کہ عورت کی ناں آخر کار ہاں میں بدل جاتی ھے۔
مرد شہوت کا غلام ھے اورعورت شہوت کی تسکین۔
گھریلو معاملات میں عورت مرد پر حاوی ھوتی ھے۔لیکن مجبور بھی ھوتی۔
مرد اذیت پسند ھوتا ھے تو عورت اذیت کی انتہا برداشت کرتی ھےعمل تخلیق سے۔

عورت جب مرد کی معاشرتی زیادتی سے تنگ آتی ھے تو مرد کی مشابہت اختیار کرتی۔
جب مرد کی مشابہت اختیا ر کرتی ھے۔تو جو کام مرد کی دست درازی نہیں کرسکتی وہ کام عورت کی زبان درازی کرتی ھے۔
پھر مرد کیلئے میلہ میلہ ھوتا۔ جب مرد دیکھتا ھے کہ عورت خود ہی میلہ میلہ کرنے پر راضی ھے۔
تو مرد عورت کو اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے استعمال کرتا ھے۔کبھی تو اپنی گندی ذہنیت کو تسکین دینے کیلئے سرعام ڈانس کرواتا۔تو کبھی اپنی مصنوعات کی فروخت کیلئے عورت کو ننگا کرتا ھے۔
عورت شخصی آزادی کی غلط فہمی میں مبتلا ھوتی ھے۔جب احساس ھوتا ھے تو پانی سر سے گذر چکا ھوتا۔
پانی گذرنے کا احساس اس وقت ھوتا ھے جب عورت ناقابل فروخت ھو چکی ھوتی ھے۔

قانون فطرت ھے کہ مرد کی شجاعت تحکم ھے اور عورت کی نسوانیت اطاعت میں ھے۔
اگر عورت خاموش رھے تو یہ اس کا زیور ھے۔اور بغاوت کر کے آواز نکالے تو مظلومیت کا شکار ھو گی یا پھر مرد کیلئے میلہ میلہ کا ذریعہ بنے گی۔مرد اپنی غیرت کیلئے عورت کو پردہ کرواتا ھے اور بے غیرتی کیلئے دوسروں کی عورت کو بے پردہ کرتا ھے!!۔
مرد اگر اپنی شجاعت کی غیرت کو سمجھے تو دوسروں کی عورت کیلئے بھی اور اپنی عورت کیلئے بھی محافظ اور قابل فخر ھو تا ھے۔
مرد اگر تصور کرے کہ اگر مرد بچے پیدا کرنے لگ جائے تو یہی اختلافات اور جھگڑے مرد کیلئے بھی پیدا ھو جائیں گے۔
اس لئے اشرف المخلوقات کو سوچنا چاھئے۔کہ!!!!!۔
چھری خربوزے پر آئے یا خربوزہ چھری پر آئے۔
نتیجہ کیا ھو گا جی؟؟
خصماں نوں کھاو تے سانوں کی!!۔
جنس نازک جنس نازک Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 12:16 PM Rating: 5

27 تبصرے:

bdtmz کہا...

عورتیں اور کچھ مرد کبھی یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔ شروعات ہمیشہ کچھ سے ہوتی ہے اور بس کہیں بھی نہیں۔ ابھی بھی یہاں اپنے حقوق اور آزادی کے لئے لڑ رہی ہے۔ کونسا حق؟ کہ نیویارک سٹی میں کم از کم ایک ساحل پر اس کو اپنی قمیض اتار کر جانے دیا جائے۔ اوہو قمیض تو پہلے ہی اتری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے ان کو بھی مردوں کی طرح اپنا سینہ دیکھانے کی اجازت ہونی چاہئے یعنی بریزر سے خلاصی

Anonymous کہا...

بھائی آپ کیا کہنا چاھتے ہیں واضع نہیں ہے -

DuFFeR - ڈفر کہا...

؀بدتمیز: تو اس قرارداد کا کیا بنا؟
اگر منظور ہوئی تو فیر اس دفعہ چھٹیاں نیویارک میں ہی گزارنے کا کچھ جگاڑ کروں
:D
مزے ہو گئے یار تمہارے تو
قسم سے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بےنام صاحب بار بار پڑھیں۔امید ھے افاقہ ھو گا۔

عثمان کہا...

سر جی۔۔۔۔
ایم اے فلسفہ کے امتحان میں بیٹھ جائیں۔ اور پھر چار سال بعد پی ایچ ڈی۔

ڈاکٹر یاسر خوامخواہ فلسفی!


ڈفر ٹورنٹو میں یہ بل کب کا پاس ہو چکا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان گرمیاں پھر میں اور ڈفر آرھے ہیں ٹورنٹو۔
ڈن؟

بدتمیز کہا...

اوہ یار تو سچی سچی دسی توں سید کدوں دا ہوئیا؟

بدتمیز کہا...

عثمان آپ نیوڈ بیچ کی بات کر رہے ہیں یا عام ساحل کی۔ یہاں عام ساحل کی لڑائی لڑی جا رہی ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یار بد تمیز لگتا سیدوں کے مرید ھو۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بد تمیز جی۔۔ حق دے کر بھی دیکھ لیں۔وہی میلہ میلہ ہی ھوگا مردوں کیلئے۔سینہ دیکھائیں گئی تو کس کو مردوں ہی کو۔مرد لازمی بات ہے خوش ہی ھو گا۔جب سینے عام ہو جائیں گے تو وقت نہیں رھے۔پھر کچھ اور دیکھانے کے حقوق۔بس جی میلہ ہی میلہ ھے۔

Yasir کہا...

تحریر کا وہ حصہ مجھے اچھا لگا جہاں کہا گیا کہ مرد عورت کو ڈانس کرواتا ہے اور اسے ننگا کر کے اپنی مصنوعات کو فروخت کرتا ہے۔

عورت کو اپنے حق کے لیے اس نقطے پر لڑنا چاہیے۔ کیوں کہ وہ عورت کی توہین ہے کہ اس کا جسم لاکھوں کروڑوں تماش بینوں کی آنکھیں خیرا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن عورت وہاں کچھ نہیں بولتی کیوں کہ اس طرح اسے خود کو تسکین ملتی ہے جب ہر لالچی آنکھ اس کے حسن کی تعریف کررہی ہوتی ہے۔

Anonymous کہا...

بار بار پڑھنے سے بات سمجھ میں آگئی ہے آپ تبصرے چاہتے -ہےنا یہ بات

عادل بھیا کہا...

یاسر بھیا! خواہ مخواہ میں یہ تحریر بھی بہت اچھی لکھ ڈالی۔۔۔ واہ جی واہ۔۔۔ کیا کہنے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بے نام صاحب۔کچھ تو فائدہ ہوا۔باربارپڑھنے کا۔
ویسے میں کہنا چاہتا تھا کہ عورت بے چاری کو ہم مرد ہی اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتےہیں۔
جیسے اپنی ماں بہن معصوم لگتی ھے ویسے ہی دوسری عورتیں بھی معصوم ہی ہوتی ہیں۔

بدتمیز کہا...

نئیں یار میں کسی دا مرید نیں۔ تہاڈے ناں دے نال سید لگا اے اردوبلاگز ڈاٹ کام تے تد پوچھیا۔

عادل بھیا کہا...

یاسر بھیا آپکے آخری کمنٹ سے پورا پورا اتفاق کرتا ہوں۔ بلکل سہی کہا۔
اور آپنے آج ہمیں بھی وزٹ کیا بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ

عثمان کہا...

کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور صوبہ برٹش کولمبیا میں یہ قانون ہے کہ جہاں جہاں مرد اوپر والا دھڑ برہنہ کر کے جا سکتا ہے وہاں عورت بھی اوپر والا دھڑ برہنہ کر کے جا سکتی ہے.
مطلب کہ اگر آپ کہیں بنیان مونڈے پر رکھ کر پھر سکتے ہیں تو خواتین بھی بریزیر مونڈے پر رکھ کر پھر سکتی ہیں.

خاور کھوکھر کہا...

ڈفر کا ع کو کھینچ کر بد سے ملانا اور بدتمیز کو عبد تمیز یعنی تمیز دا بندھ لکھنا دلچسپ لگا
اور یه یاسر خواھ مخواھ صاحب سید احمد خان صاحب ، وھ جو بالا کوٹ والے تھے ان کے پڑپوتے هیں جی
جو سکھوں ( پنجابیوں ) کو مار کر مال غیمت کمانے آئے تھے ، وهاں بارسلونا ميں بیچ پر بہت پاکستانی شلوار قمیض ميں سیر کرنے جاتے هیں ، کیونکه سینه تان کر چلتی زنانه وار کی سورما لوگ دھوپ سینک رهی هوتی هیں

Saad کہا...

تبصروں میں تو دلچسپ انکشافات ہو رہے ہیں

جعفر کہا...

واجب الکوڑے تو آپ پہلے ہی ہوگئے تھے
اب واجب القتل بھی ہوگئے ہیں۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاہ خان صاحب کا پرپوتا ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا جی۔
ثبوت تو دے دوں اگر کوئی فائدہ نظر آئے۔ثبوت تو ثبوت ھوتا ھے جی چاھئے اصلی ھو یا نقلی ھو۔
سکھوں کو ویسے کافی حلال کیا ھےبہادروں نے۔
بتانے والے بتا تے ہیں کہ دریا میں پانی ناپید ھو گیا تھا سکھوں کے خون کی فراوانی سے۔

کاشف نصیر کہا...

یار آپکے بلاگ پر تبصرا کرنا بڑا مشکل ہے اسے کچھ آسان بنائیں۔ رہی بات خواتین کی تو انہیں حقوق اور آزادی دونوں ملنی چاہئے۔ لیکن کہیں کنزومرازم کے اس دور میں آزادی کے صنف نازک ہراڈکیٹ بن گئی ہے اور گلی محلے میں فروخت کے لئے پیش کی جاتی ہے۔ عورت کو عزت ملنی چاہئے، عزت۔ بدقسمتی سے ہم یہ عزت دینے کہ لیے ہرگر تیار نہیں۔ یہاں موجود تبصروں سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے۔ حق نہیں دیتے نہ دو، عزت تو دو۔

کاشف نصیر کہا...

یار آپکے بلاگ پر تبصرا کرنا بڑا مشکل ہے اسے کچھ آسان بنائیں۔ رہی بات خواتین کی تو انہیں حقوق اور آزادی دونوں ملنی چاہئے۔ لیکن کہیں کنزومرازم کے اس دور میں آزادی کے نام پر صنف نازک ہراڈکیٹ بن گئی ہے اور گلی محلے میں فروخت کے لئے پیش کی جاتی ہے۔ صاحب عورت کو عزت ملنی چاہئے، عزت! بدقسمتی سے ہم یہ عزت دینے کہ لیے ہرگز تیار نہیں۔ یہاں موجود تبصروں سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے۔ حق اور آزادی نہیں دیتے نہ دو، عزت تو دو۔

کاشف نصیر کہا...

پہلے آپ لے بلاگ پر تبصرہ کرنا جتنا مشکل اب اتنا ہی آسان ہے، مبارک ہو

عین لام میم کہا...

جتنا کسی کو دباؤ گے وہ اتنا ہی ابھرے گا..... بس اسی قانون کے تحت اب خواتین کو لگتا ہے کہ ہر بات میں ان کا حق مارا جا رہا ہے..... چاہے بنین مونڈے پہ رکھنی ہو یا ٹوپی والا برقع پہننا ہو.....

ام عروبہ کہا...

اسلام علیکم
یاسر بھائ آپ نے بہت نازک اور حساس موضوع پر قلم اٹھایا، مگر جب اٹھا یا تو پھر ماشاءاللہ اسکا حق ادا کر دیا- سب بات درست کہی آپ نے۔ بھلا ایک صنف نازک ہی نہ جانے اپنے بارے میں تو اور کون جانے گا ( یاسر کے علاوہ :))
کوئ میرے دل سے پوچھے تیری پوسٹ زبردست کو
یہ کمنٹ کہاں سے آتا جو نہ دل نہال ہوتا
:)

dr iftikhar Raja کہا...

ویسے حضرت یہ آپ نے جاہل اور سنکی سے گیدڑ سنگی تو نہیں دم کروائی ہوئ

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.