بے حسی کا جینا

ہم نے جب بلاگ شروع کیا تو سوچا تھا۔کہ عام فہم میں اپنے دل کا حال لکھا کریں گے۔نہ کہ کوئی علمی اور ادبی تحریر۔ ایسا اسلئے سوچا تھا کہ علمی اور ادبی تحریریں لکھنے والے حضرات تو کافی تعداد میں ہیں۔اور خوب لکھتے ہیں۔تھوڑا منفرد طریقے سے روزمرہ کی باتیں یا اپنے محسوسات اور زندگی میں جو دھکے کھائے ہیں یہ لکھئیں گے۔علمی و ادبی تحریر اس لئے نہیں کہ ہمیں معلوم تھا کہ ہم کوئی عالم فاضل شخصیت تو ہیں نہیں لیکن فضول شخصیت ضرور ہیں۔
لیکن جب بلاگ لکھنا شروع کیا تو معلوم پڑا کہ بلاگ لکھنے کیلئے بندے کو نہایت پڑھا لکھا ھونا چاھئے۔عام بندہ اگر لکھے گا تو تھوڑا رگڑے میں بھی آئے گا۔نیم خواندہ اور جاہل شاید لکھنے کا حق نہیں رکھتا۔یہ صرف میں نے محسوس کیا ھے۔دوسروں کے احساسات ٹیلی پیتھی نہ جاننے کی وجہ سے معلوم نہیں ہیں۔
کیونکہ ہم نئے نئے بلاگر تھے اور وقت تو ہمارے پاس بے تحاشہ ھوتا ھے۔کہ صبح فجر کے بعد تین کمپیوٹر اسٹارٹ کر تے ہیں کام بھی کرتے ہیں اور نیٹ گشتی بھی۔جیسے جیسے اخبارات اور بلاگ پڑھتے گئے۔یہ محسوس کیا ھے۔کہ بعض بلاگر تو ایسا زبردست لکھتے ہیں کہ سقہ بند کالم نگار بھی ان کے پاوں دھوتے نظر آتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ محسوس کیا کہ بعض بلاگز پر نسلی لسانی تعصب بھی ھو تا ھے۔مسلکی تعصب تو خیر ہمیں معلوم ہی تھا۔اس لئے ہم نے کبھی بھی بلاگ پر مذہبی تحریر لکھنے کی کوشش نہیں کی۔اور نہ ہی ہم مذہب میں پی ایچ ڈی ہیں۔ سیا ست یا سیاستدان کے خلاف لکھتے ہیں اور لکھئیں گے۔کہ ہم چاھتے ہیں کہ ہمارے ملک اور معاشرے میں بہتری آئے۔اور خواھش یہی کہ ساری زندگی دیار غیر میں گذاری ھے۔اگر رب العزت بہتری کرے تو جب مریں تو دیس میں جنازہ اور جنازہ پڑھنے والے تو ملیں۔جب تعصب والی باتیں پڑھیں یا تعصب محسوس کیا تو بڑی الجھن ھوئی اور کئی قابل عزت بلاگرز سے لڑائی جھگڑا بھی کر بیٹھے۔اور ہم خیال بلاگرز یا جن سے انسیت محسوس ھوئی غیر محسوس انداز میں ان کے ساتھ جڑ گئے۔ کوئی گروہ بندی کا ارادہ نہیں تھا ۔لیکن جانے انجانے میں ایسا ھو گیا۔اب ماحول ایسا ھو گیا یا ایسا ہی تھا اور ہمیں دیر سے سمجھ آئی۔ڈر لگتا ھے کہ کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں۔اپنے متعلق لکھا تو ھو سکتا ھے۔کل کلاں کسی سے اختلاف ھو گیا تو کوئی ہماری ہی واٹ لگائے گا ہماری ہی تحریروں سے نکال کر۔ ہما ری عادت بھی کچھ ایسی ھے کہ جیسے ہیں ویسے ہی لکھتے اور کرتے ہیں۔جیسے ہر بندے میں اچھائی اور برائی ھوتی ھے اسی طرح ہم میں بھی دونوں کوٹ کوٹ کر بھری ھوئی ہیں۔کبھی اچھائی جیتتی ھے اور کبھی برائی۔ اب سوچ رھے ہیں کہ لکھتے جائیں۔جب کوئی چھترول کرے تو احسن طریقے سے معذرت کرکے اپنی تصیح کر لیں۔اور کوئی اگر اچھا لکھتا ھے تو تعریف کر کے شکریہ ادا کریں۔اگر برا لکھتا ھے تو خاموشی سے گذر جائیں۔ ایسا ہی ہم اپنی حقیقی زندگی میں کر رھے ہیں۔اب نیٹ کی زندگی میں بھی ایسا کر لیں گے۔جس سے ہم بہت سارے مسائل سے بچ جائیں گے۔خوامخواہ کی ٹینشن تو نہیں ھوگی۔
ویسے مجھے یہاں کی کمیونٹی کے لوگ بے حس سمجھتے ہیں کہ کسی قسم کی محفل میں آتا ہی نہیں ۔ لیکن میں اس سے خود غرضی کی انتہا تک بہت سارے مسائل اور بک بک سے محفوظ ھوں۔
بے حسی کا جینا بے حسی کا جینا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:17 AM Rating: 5

11 تبصرے:

Saad کہا...

آپ کو دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ حالات ٹھیک ہو جائیں گے

عثمان کہا...

جاپانی خوامخواہ درویش

سرجی۔۔۔۔۔کوئی گل نہیں۔ حوصلہ کرو۔
جیسا پیارا پاکستان
ویسا سوہنا بلاگستان
اس مقولے پر عمل کرتے ہوئے بلاگنگ کرتے جائیں۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

او جی یہ معمول ہے اس بلاگستان کا
جب تک یہاں کچھ لوگ پھڈا نہ کرا لیں ان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی
اب ٹھنڈ پڑ گئی ہے سال چھ مہینے بعد یہ سب پھر سے ہو جائے گا
آپ ایویں ٹینشن لے رہے ہیں
اپنے سٹائل سے لگے رہئے
جس کو تکلیف ہو وہ علاج کروائے
اسکو میری طرف ریفر کر دیا کریں
میرا کلینک صبح چھ سے رات دس تک کھلا رہتا ہے
ایمرجنسی کی صورت میں بھی موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے

نعیم اکرم ملک کہا...

بھائی جی، بلاگ آپکا اپنا ہے جیسا دل کرتا ہے ویسی لکھیں۔ آپ نے نیٹ گشتی کا لفظ استعمال کیا، میرے خیال میں نیٹ گردی زیادہ سوٹ کرتا ہے

عادل بھیا کہا...

بھیا سچ پوچھو تو میں ابھی اِس دنیا میں نیا ہوں مگر میرے بھی یہی احساسات ہیں۔ آپ نے ہر بات سولہ آنے کی کی۔ میں بھی ابھی اچھی طرح سمجھ نہیں پا رہا:( دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ آپکے ابھی تک جتنے بھی حال دِل پڑھے، اُن سب سے متفق ہوں اور یوں لگتا ہے کہ میری اپنی سوچ کو کوئی دوسرا بہتر انداز میں بیان کر رہا ہے۔

جعفر کہا...

یار جی۔۔۔
اتنے خوبصورت لوگاں کے خوبصورت ملک میں بیٹھ کر
ایسی مایوس باتاں۔۔۔
لکھیں وہ جو آپ لکھنا چاہتے ہیں
یہ میرا لکھنے کا ماٹو ہے۔۔۔
مجھے بھی کنڈوم کا طعنہ ملا ہے آج۔۔۔
حالانکہ میں نے کبھی۔۔۔ چلو چھڈو۔۔۔
مٹ پاؤ

عین لام میم کہا...

جن کے پاس جو جو ہوتا ہے وہ اسی کو بیان کر دیتے ہیں۔۔۔ آپ کے پاس جو تجربات ہیں آپ بھی وہی لکھیں گے۔۔۔۔ لگے رہیں۔۔۔ ہم بھی تو آپ لوگوں کو ہی دیکھ دکھ کر لگے ہوئے ہیں نا!۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تمام بھائیوں اور بعد میں شاید بہنیں نکلنے والیوں سے عرض ھے۔
ٹینشن وغیرہ کوئی نہیں ھے۔
تھوڑا سی کچر شاک لگ گیا تھا۔
اب نارمل ھو گیا ھے۔
بلاگ کو نہیں چھوڑیں گے۔کہ کمبل ہی ہمیں نہیں چھوڑتا!۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کلچر شاک

شعیب صفدر کہا...

:)

عثمان کہا...

آراء دینے میں مشکل درپیش آرہی ہے شائید کوئی تیکنیکی خرابی ہے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.