افسوس صد افسوس

ایک دفعہ کی بات ھے۔کہ آٹھ دس پاک لوگاں کی پارٹی تھی۔اچھا ماحول تھا۔سب تکے بوٹیاں ادھیڑ رھے تھے۔گپ شپ چل رہی تھی تہذیب کے دائرے میں۔ہم چونکہ متحرک واقع ھوئے ہیں۔اس لئے سب کی خدمت کر رھے تھے۔اب جہاں چار لوگ جمع ہوں کچھ نہ کچھ یا ایک دو عدد تھوڑے سے اخلاقیات کی کمزوری والے بھی ھوتے ہیں۔
تھوڑی سی عقل رکھنے والا کوشش کرتا ھے کہ احسن طریقے سے معاملات کو کنٹرول کرے۔لیکن بعض لوگاں کے مزاج کچھ بڑے سخت ھوتے ہیں۔اس پارٹی میں ایک ہمارے بھائی بڑے ہی لمبے چوڑے اور یہ بڑی سی توند اور مزاج کے بڑے ہی اوکھے۔ان کی نظروں میں ہم ننھے منے مرنجاں مرنج چڑھ گئے۔پہلے تو توتکار پر آئے ہماری تھوڑی سی خاموش طبیعت دیکھ کر مسلسل بد تمیزی کرنا شروع ھوگئے۔ہم نے نہایت ادب سے عرض کیا بھائی جان بدتمیزی تو مت کریں۔

ہمارا اتنا کہنا تھا اور وہ گالی گلوچ پر آ گئے۔ہم نے جب پھر نہایت ادب سےعرض کیا بھائی جان گالی گلوچ نہ کریں۔تو وہ لپکے کہ ہماری پٹائی کریں۔ہم اپنی جگہ سے نہیں اٹھے بھاگنے کیلئے کہ معلوم تھا بچاو چھڑاو والے کافی ہیں۔اور ان صاحب کی دل کی مراد پوری نہیں ھونے دیں گئے۔ایسا ہی ھوا۔ہم پھر خاموشی سے بیٹھے رھے۔وہ صاحب مسلسل گالی گلوچ کرتے رھے۔جب تھک گئے تو خود ہی کہنے لگے جواب کیوں نہیں دیتے؟۔ ۔ہم نے کہا ایسا بد اخلاقی والا جواب ہم نہیں دیتے۔پھر ہمیں دو چار گالیاں دے کر کہنے لگے کہ تم کیسے مرد ھو اتنی بے عزتی ھونے پر بھی غصہ نہیں آیا!!۔زنخے ہی لگتے ھو۔ہم نے پھر نہایت ادب سے عرض کیا بھائی آپ ماشااللہ اتنے گھبرو جوان ھو۔اور ہم ننھے منے سے اب اتنے دوستوں میں آپ ہمیں مار بھی نہیں سکتے ۔آپ کے دل کی بھڑاس بھی نہیں نکلی ھو گی۔ بقول آپ کے ہم زنخے بھی لگتے ہیں۔

تو ایسا کرتے ہیں آپ بعد میں ہم سے اکیلے میں ملیں۔ہم اور آپ ہی ملاقات کریں گے۔آپ کا جس طرح دل چاھے بھڑاس نکال لینا۔بڑے حیران ھوئے اور کہا ٹھیک ھے۔چوں چوں تو اس کے بعد بھی وہ کرتے ہی رھے۔لیکن ہم خاموش رھے۔دوسرے دن ہم نے انہیں فون کیا اور بڑے ہی ادب سے عرض کیا بھائی اگر حلال کے نطفہ ھو تو یہاں آجاو۔کیونکہ انہیں اپنی جسامت اور زور بازو پر بڑا ہی غرور تھا۔وہ نازل ھو گئے کسی جن کی طرح۔
اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان پہلوان صاحب نے ہماری کیا درگت بنائی ھوگی!!!۔

عرض کر نے کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ کا اگر کسی کے ساتھ پنگا چل ہی جائے تو یا تو خاموش ھو جانا بہتر ھوتا ھے۔اگر مار کھانے کی ہمت ھے تو اکیلے میں دعوت دے کر شاد باد کرکے شاد باد ھو جائیں۔اس سے یہ فائدہ ھوگا کہ ایک تو ماحول خراب نہیں ھو گا۔بچاو چھڑاو کرنے والوں کی انرجی کی بھی بچت ھوگی۔مخالف کی اوقات کا بھی پتہ چل جائے گا اور آپ کی دلیری کی بھی آپ خود کو تصدیق ھو جائے گی۔
اگر آپ نیٹ پر پنگا کر رھے ہیں اور آپ یا آپ کا مخالف جنس نازک ھے۔جنس نازک عرض کیا ھے۔مزاج کا نازک نہیں!!۔
تو ایک دوسرے کے میل ایڈریس کا تبادلہ کر لیں۔اور خوب لتے لیں۔اگر ھو سکے تو مودبانہ گذارش ھے کہ سکائی پے کا ایڈریس لے لیں۔لیلیں اور جھاگ اڑانے کا موقع بھی مل جائے گا۔

جیسے کہ آپ کو معلوم ھی ھے کہ دنیا کا ماحول ویسے ہی گرما گرم اور خراب ھے اور دنیا تباہی کی طرف گامزن ھے۔ دوسرے جو آپ کی پیاری پیاری دل لھبانے والی تحریروں کے منتظر رہتے ہیں۔ان تک دنیا کی گرمائش تھوڑی دیر سے پہنچے گی اورتباہ ھونے تک تباہی کا احساس بھی نہیں ھو گا۔

یہ ایک نہایت مودبانہ گذارش ہی ھے۔آپ سے محبت اور انسیت میں عرض کردی اس سے یہ مت سمجھئے گا کہ ہم آپ سےاکتا گئے ہیں۔ہمیں آپ سے انسیت ھے اور انسیت رھے گئی۔
تماشہ دیکھنے سے ہمارا کیا جاتا ھے جی!!!۔
افسوس صد افسوس افسوس صد افسوس Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:35 PM Rating: 5

10 تبصرے:

عثمان کہا...

آپ کی ان اپیلوں کا کچھ نہیں بننا۔
اردو بلاگستان ایسے ہی تو نہیں یتیم ہوا۔

Saad کہا...

مجھے آپ کی اپیل سے کوئی دلچسپی نہیں! میں تو تفصیلاً یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس نے آپ کو کُٹ کیسے لگائی

DuFFeR - ڈفر کہا...

میں سعد سے متفق ہوں

عین لام میم کہا...

ویسے وقوعی اصل بات تو آپ گول کر گئے، اپنی پھینٹی والی!
جہاں تک اپیل کی بات ہے تو میں بھی اس اپیل میں آپ کے ساتھ ہوں۔ مزا نہیں آتا جی اس طرح کی تحریریں روز روز پڑھنے کا جن کا مقصدِ نزول ہی کچھ اور ہو۔۔ چلو کبھی کبھی تو چلتا ہی ہے۔۔۔ :)

عین لام میم کہا...

لفظ ’واقعی‘ کی تصحیح کرلیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پتہ نہیں کیا ھوا تھا ان پہلوان صاحب میری پھینٹی لگاتے لگاتے بھاگ کھڑے ھوئے اور موبائل نکال کر پولیس کو بلا لیا۔اب جب بھی مجھے کہیں ملتے ہیں تو ھییں ھییں کر کے کھسیاتے ہیں اور زرا ھٹ کر گذر جاتے ہیں۔کیا کریں جی ویلا ہی ایسا آگیا ھے

Saad کہا...

ہاہاہا بیچارے پہلوان صاحب۔ یہ وہی لطیفوں والے پہلوان صاحب ہوں گے

جعفر کہا...

یہ قصہ سچا ہے یا گھڑا گیا ہے؟
اگر سچا ہے تو آپ مہاتما بدھ کے درجے تک بس پہنچنے ہی والے ہیں
اگر گھڑا گیا ہے تو ممتاز مفتی کے درجے تک

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر جی۔گھڑنے والی قابلیت ابھی ہم نہیں آئی ۔ویسے قریب سے جاننے والے واقعی مجھے سائیں جی ہی کہتے ہیں۔سائیں جی اور مہاتما بدھ میں کوئی خاص فرق نہیں جی۔

بدتمیز کہا...

یار میں بڑی دیر کرتی ایہہ پڑھدے۔ پہلاں پڑھی ہوندی تے عمل کردا ہن تے جو ہونا سی ہو گیا۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.