ایک کہانی پردیس کی

جعفر جی کی پریشانی والی پوسٹ پڑھی بڑا افسوس ھوا کہ ان کی ضعیفی میں ان کی شریک حیات اور بچے ان سے نہایت برا سلوک کرتے ہیں۔زمانہ تو نہیں زمانے والے برے ھیں جی۔کیا ھو سکتا ھے افسوس ھی کر سکتے ہیں۔اللہ جعفر جی کے حالات پر رحم کرے۔
اس پوسٹ سے جاپان کی ایک کہانی یاد آگئی تھوڑی سی کسک تو دل میں اٹھی لیکن انجام اچھا تھا اس لئے لکھنے کا دل چاھا۔ برے انجام والی کہانیاں تو یہاں ہر قدم پر ملتی ہیں۔یا جاری ہے کی طرح کی کہانیوں کا انجام کچھ اچھا نظر نہیں آرہا!!!۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ایک بزرگ ہیں ہم سے بھی پرانے جاپان میں بستے ہیں۔جاپان آئے جاپانی گڑیا سے عشق ھوا۔شادی کر لی بیوی کو مسلمان کیا۔جتنا اور جیسے بھی ھو سکا دین اسلام بھی سکھایا۔کاروبار میں محنت کی بچوں کی اچھی پرورش کی اچھا گھر بار جاپان میں بنایا۔معاشی طور نہ ہی بچوں کو کبھی تکلیف ھو نے دی اور نہ ہی بیوی کو۔
ہم نے انہیں قریب سے دیکھا انہیں معاملات میں بہت ہی اچھا پایا۔ھمدرد، رحمدل ہیں۔ہر کسی کی مدد کرتے ہیں۔اخلاق کے بہت اچھے ہیں۔مذہبی طوربھی نمازی اور پرہیز گار ہیں۔کوئی برائی ہم نے ان میں نہیں دیکھی۔
بچوں کو دینی تربیت بہت اچھے طریقے سے خود بھی دی اور قاری صاحب کو تنخواہ دے کر گھر پر بچوں کو قرآن بھی پڑھایا۔
آج سے آٹھ نو سال پہلے ایک دن ان کا اچانک فون آیا کہ آپ سے کچھ مشورہ کر نا ھے۔ہمیں حیرت ھوئی کہ انہیں مجھ سے کیا مشورہ کرنا عقل میں مجھ سے اچھے ہیں کاروبار میں مجھے ان کی مدد کی ضرورت ھوتی ھے۔
میں نے عرض کیا محترم میں کوئی خاص مدد تو نہیں کر سکوں گا۔پھر بھی حکم کریں۔
انہوں نے ملاقات کا کہا اور میرے پاس آگئے۔
جب میری ان سے ملاقات ھوئی تو مجھے ان کے چہرے پریشانی نظر آئی اور کافی ذھنی طور پر منتشر نظر آئے۔
قصہ جب ان کی پریشانی کا سنا تو کچھ ایسا تھا کہ بیوی بچے پاکستان میں بھی کچھ عرصہ رہ کر آئے ہیں۔ بیوی سے کوئی خاص اختلاف نہ تھا اچھی گذر رہی تھی۔کہ آجکل بیوی کچھ تنگ کر رہی ھے۔
تنگ اسطرح کرتی ھے کہ جب بچیاں میرے سامنے ھوتی ہیں تو ان سے جان بوجھ کر کہتی ھے کہ سترہ اٹھارہ سال کی بھی ھو چکی ھو اور ابھی تک بوائے فرینڈ بھی نہیں ہیں۔انہوں نے کئی دفعہ منع بھی کیا لیکن بیوی باز نہیں آئی۔اسی طرح لڑائی جھگڑا چل رہا ھے۔کسی سے بات بھی نہیں کر سکتا کہ لوگ باتیں ہی کریں گئے۔بےعزتی ہی ھوگی۔اب سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔
قصہ مختصر ان کی بیوی کے ہماری گھر والی سے تعلقات اچھے تھے۔اس لئے بیٹھ کر بات کر نے کا حل نکالا کہ شاید بہتری ھو۔جب محفل ھوئی تو ان کی بیوی کا کہنا تھا کہ بہت ھی اچھے شوہر اور باپ ہیں۔کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ھے۔لیکن پابندیاں بہت لگاتے ہیں۔یہ مت کرو ایسا مت کرو ویسا مت کرو اور ایسا بھی مت کرو۔بیوی کو ڈر تھا کہ بچیوں کو کسی پاکستانی کے ساتھ بیاہ نہ دیں۔میں نے ان خاتونہ سے عرض کیا اگر آپ کے شوہر اچھے باپ اور شوہر بھی ہیں اور آپ نے بھی پاکستانی سے شادی کی اور زندگی بقول آپ کے اچھی گذاری اگر بچیوں کے متعلق اگر یہ کچھ ایسا سوچتے ہیں تو اس میں برائی کیا ھے؟
لیکن ان خاتونہ کا کہنا تھا کہ شوہر تو اچھے ہیں لیکن مجھےپاکستانی پسند نہیں ہیں۔اس محفل میں کوئی پیش رفت نہیں ھوئی اور اختتام ھوئی۔کچھ دنوں بعد ان صاحب کا فون آیا کہ میری بیوی بچیوں کو لے کر میکے چلی گئی ھے۔اگر ملاقات کیلئے جاتا ھوں تو پولیس کو بلا لیتی ھےبیوی تو ملنا ہی نہیں چاھتی۔۔بچیاں بھی نہیں ملتیں۔اسی پریشانی میں انہوں نے ایکسیڈنٹ کیا اور ٹانگ بھی تڑوا بیٹھے۔ہم نےکسی طریقے سے دوبارہ سب کو جمع کیا اور بات چیت کی۔
اس دفعہ ان خاتونہ نے صفائی کے ساتھ اپنے دل کا حال بتایا۔کہ یہاں جاپان ھے پاکستان نہیں ھے۔بچوں پر پاکستانی اور مسلمانی طرز کی پابندیاں منظور نہیں ھیں۔جاپان میں جب ہم پیدا ھوتے ہیں ہمارا کوئی مذہب نہیں ھوتا۔مرتے ہیں توبدھسٹ طریقے سے کریا کرم ھوتا ھے۔شادی بیاہ ہم جاپانی چرچ میں کرنا فیشن ایبل اور ماڈرن سمجھتے ہیں۔کرسمس کیک بھی کھاتے ہیں اور ولئینٹائن ڈے بھی مناتے ہیں۔ہمیں نہیں معلوم ھوتا کہ یہ کسی قسم کی مذہبی رسم ھوتی ھے۔ہمارے لئے بس ایک تقریب یا میلہ ہی ھوتا ھے۔پاکستانیوں کی طرح مذہبی طرز زندگی میں اپنی بچیوں کیلئے نہیں چاھتی۔
میں بھی مسلمان ھوں یہ بچیاں بھی مسلمان ہیں لیکن پابندیاں ہمیں منظور نہیں ہیں۔
مذہب صرف مذہب ھے اور زندگی تو زندگی ھوتی ھے۔
آخر کار ان خاتونہ نے شوہر سے طلاق لی اور بچیاں لے کر علیحدہ ھو گئیں۔پاکستانی شوہر نے وعدہ کیا کہ جب تک بچیاں بیس سال کی ھوتیں ہیں میں تمام اخراجات دوں گا۔اخراجات ان پاکستانی شوہر سے لئے جاتے رہے۔لیکن بچیوں سے ملاقات نہ ھونے دی اور نہ ہی بچیوں نے ملاقات کی کوشش کی۔اس کے بعد کافی عرصہ ہماری ان سے اس موضوع پر بات نہ ھوئی۔ہم ڈرتے تھے کہ ان کے دکھوں کو سن کر خود بھی اور انہیں بھی کیا دکھی کریں۔پچھلے سال ان سے اچانک ایک کارروباری جگہ پر ملاقات ھوگئی۔بہت خوش باش نظر آئے۔ہمیں بھی تسلی ھوئی کہ یہ اپنے غم بھول چکے ہیں۔ڈرتے ڈرتے حال احوال پوچھ لیا۔ہمیں ریسٹورنٹ میں لے گئے۔اوراپنی خوشی کا حال سنایا۔کہ طلاق کے بعد بیوی کو شراب کی لت پڑ گی تھی ماں باپ بھی گالی گلوچ کرنا شروع ھوگئے تھے۔بچیوں کو ایک سال بعد ہی باپ یاد آنا شروع ھو گیا تھا۔لیکن شرم کے مارے باپ سے رابطہ نہیں کیا۔جاپانی ویسے بھی بڑے شرم والے ھوتے ہیں۔اگر بےعزتی ھوجائے تو پرانے وقتوں ھارا کھیری کرتے تھے آجکل خودکشی کر لیتے ہیں۔بچیوں نے نرسنگ کا کورس مکمل کیا اور جب برسرروزگار ھوگئیں ۔تو باپ سے رابطہ کیا اور باپ کے پاس واپس آگئیں۔باپ نے پکڑ کر اپنے بھانجوں کے ساتھ نکاح کروادیا۔ان کی خوشی اور رضامندی سے۔مطلقہ بیوی کو خرچہ اب بھی دیتے ہیں۔بچیاں ماں کو ملنے بھی جاتی ہیں۔سب کی زندگی اچھی گذر رہی ھے۔یہ کہانی ان کی اجازت سے تھوڑے بہت ردوبدل سے لکھی ھے۔ان کا کہنا ھے کہ اگر انسان اپنے مالک پر توکل کرے اور خلوص دل سے اپنی ذمہ داریاں نبائے تو رب العزت انسان کو ذلیل نہیں کرتا۔دکھ سکھ تو زندگی کا حصہ ہیں۔
ایک کہانی پردیس کی ایک کہانی پردیس کی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 8:29 PM Rating: 5

12 تبصرے:

Saad کہا...

مجھے ان بزرگوار سے اور جعفر سے پوری ہمدردی ہے۔ اللہ ان کو صبر جمیل عطا فرمائیں

عادل بھیا کہا...

آج پہلی مرتبہ آپکا بلاگ وزٹ کیا اور پہلی تحریر پڑھی۔ تحریر بے حد پسند آئی۔ آپکو اور آپکی سوچ کو مزید جاننے کیلئے مزیدتحاریر پڑھنے لگا ہوں آپکی۔ بہت خوب

DuFFeR - ڈفر کہا...

یہ تو اللہ دے اور بندہ لے والی بات ہو گئی جی
باقی اللہ سے جیسا گمان کرو گے وہ ویسا ہی کرے گا
اچھا چھا سوچنا چاہیے جی
باقی میرا خیال ہے کہ جعفر استاد کوئی ڈراؤنا خواب آیاہے
ورنہ بندہ ٹھیک ٹھاک ہے
:D

محمد ریاض شاہد کہا...

واقعی اگر خلوص نیت سے کام کیا جائے تو اللہ میاں کرم فرماتے ہیں

عثمان کہا...

واہ سر جی۔۔۔
آج تو مزا آگیا تحریر پڑھ کر!
یہ بتائیں کہ آپ بھابھی جی کے ساتھ جاپانی بولتے ہیں یا انھیں‌اردو پنجابی سکھا دی ہے؟
اپنی جاپانی زندگی کی سٹوریاں شئیر کیا کریں۔ یہ تحریریں‌ ذیادہ دلچسپ بھی ہوتی ہیں‌ اور منفرد بھی۔

خاور کھوکھر کہا...

بلکل فلمی کہانی
ہیپی اینڈ
ولن اکیلا رھ گیا

جاویداقبال کہا...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بہت اچھی کہانی ہے۔بالکل صحیح کہاکہ بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے۔

والسلام
جاویداقبال

پھپھے کٹنی کہا...

بابا جی نے بھی بچيوں کو پھنسا کر ہی سکون کا سانس ليا، جب خود جاپانی عورت سے شادی کی تو بچيوں کو اجازت کيوں نہيں ، سارا دماغپاکستانی مردوں کا عورتوں کو سدھارنے ميں استعمال ہوتا ہے دس فی صد خ د کو سدھارنے ميں استعمال کر ليں توسب ٹھيک ہو جائے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عدیل بھیا؛۔ بلاگ پر خوش آمدید۔

ڈفر جی:۔۔جعفر جی اپنے ھی بندے ہیں۔ٹھیک ٹھاک ہی ہیں۔ایسے ہی پیار کی واٹ لگا دی تھی میں نے۔

عثمان:۔ بھائی پنجابی مجھے بھی ٹھیک نہیں آتی تو ہماری بےغم کو کیسے آئے گی

خاور جی:۔ ایسی فلمیں تو اب ہمارے آس پاس بہت چل رہی ہیں۔

جاوید اقبال جی:۔ وعلیکم اسلام

پھیپھے کٹنی جی:۔ بابا جی تو اللہ پر چھوڑ کر بھول بھال گئے تھے۔ بچیاں خود ہی پھنسنے آگئی تھیں۔
آپ ابتدا کریں جی بچوں کو فرانس میں بیاہ دیں۔

وقاراعظم کہا...

واہ جی کیا سبق آموز کہانی ہے اور اختتام بھی بڑے خوشگوار اندز میں ہوا۔ آپ کے طرز تحریر کا جواب نہیں۔

احمد عرفان شفقت کہا...

آپ ابتدا کریں جی بچوں کو فرانس میں بیاہ دیں۔۔۔

۔۔۔یاسر بھائی، یہ بات آپ نے خوب کہی ہے۔

اور ڈفر کی یہ بات زبردست ہے کہ اللہ سے جیسا گمان کرو گے وہ ویسا ہی کرے گا۔ واقعی ایسا ہی ہے۔

پھپھے کٹنی کہا...

جی انشاءاللہ ايسا ہی ہو گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.