حکایت

کوئی بندہ جنگل میں جارہا تھا۔کہ اس نے دیکھا ایک شیر اس کے پیچھے آرہاھے۔بندہ جان بچانے کیلئے بھاگا۔جب تھک گیا تو دیکھا آگے ایک گڑھا ھے۔چاہا کہ گڑھے میں اتر کر جان بچائے۔لیکن گڑھے میں اژدھا نظر آیا۔

اب بندے کو آگے گڑھے میں کھڑے اژدھا کا خوف اور پیچھے شیر کا ڈر بندے کی نظر ایک درخت کی شاخ پر پڑی بندے نے ہاتھ ڈال کر شاخ کو پکڑ لیا۔

لیکن شاخ کو پکڑنے کے بعد کیا دیکھا کہ دوسیاہ و سفید چوھے شاخ کو کاٹ رھے ہیں۔بندہ بہت خائف ھو گیا۔

اب شاخ کٹی اور میں نیچے منتظر شیر اور اژدھا کی خوراک بن جاوں گا۔

بندے کی نظر اتفاقا اوپر پڑی کیا دیکھتا ھے کہ شہد کا چھتہ ھے۔بندے نے ھاتھ لمبا کیا اور مزے مزے سے شہد کھانے لگا۔

شہد کی مٹھاس اور لذت سے شیر کا خوف بھی گیا۔اژدھا کا خوف بھی بھول گیا۔

جس شاخ پہ بیٹھا تھا۔اس شاخ کو کاٹتے ھوئے چوھوں کو بھی بھول گیا۔

سبق اس حکایت کا یہ بتایا جاتا ھے۔

جنگل مراددنیا ھے۔

شیر موت ھے جو پیچھے لگی ھوئی ھے۔

گڑھا قبر ھے جو آگے ھے۔

اژدھا بد اعمال ہیں جو قبر میں بندے کو ڈسیں اور نچوڑیں گے۔

سیاہ و سفید دو چوھے دن اور رات ہیں۔

درخت سے مراد بندے کی عمر ھے۔

شہد کا چھتہ بعد از موت کی زندگی سے غافل کر دینے والی لذتیں اور بندے کی خواھشات ہیں۔

بندہ دنیا کی فکر میں موت ،قبر، برے اعمال،اور آخرت کے حساب کتاب کو بھول جاتا ھے۔

پھر اچانک موت کے آنے سے خالی ھاتھ اور حسرت و ندامت کے سوا کچھ ساتھ نہیں لے جاتا۔
حکایت حکایت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:23 PM Rating: 5

4 تبصرے:

عثمان کہا...

سر جی!

آپ کا بھی جواب نہیں۔ ایک پوسٹ پر ہنساتے ہو۔ اگلی پر ڈراتے ہو۔

پھپھے کٹنی کہا...

ذرا پسند نہيں آئی مجھے يہ حکايت

DuFFeR - ڈفر کہا...

چلیں جی پیسے واپس کریں جس جس کو پسنس نی آئی اس اس کے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

کافی عرصہ پہلے میں نے یہ پڑھی تھی۔
اور دماغ سے چمٹ گئی۔
یہ پرانے ویلے کےکسی بابا جی نے نچوڑی ھے جی۔
پیسے ویسے انہیں سے وصول کریں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.