اداسی

پیدا ھونے والے پیدا ھوتے ہیں۔مرنے والے مرتے جاتے ہیں۔بچے پیدا نہ ہوں تومخلوق نیست و نابود ھو جائے۔
اگر موت نہ ھو تو یہ دنیا انسانوں کیلئے سامان سےبھرے گنجائش نہ ھونے والے کنٹینر کی طرح ھو جائے۔جب گنجائش نہ ھو تو کسی کو بھی پیدا کرنے کی ھوس نہ رھے۔ایسے ہی جیسے کم بچے خوشحال گھرانہ۔
تقدیر نے جو نظام بنا دیا ھے۔اسی طرح یہ زندگی اور موت کا سلسلہ جاری ھے۔ مخلوق اس دنیا میں آ جا رھی ھے۔
کسی کیلئے بھی اس دنیا میں مستقل رھائش کا بندوبست نہیں ھے۔
پھر یہ ترقی کیسی یہ تنزلی کیسی۔یہ اچھائی کیوں۔یہ برائی کیوں
یہ پھول کیوں۔یہ گوبر کیوں۔یہ خوش بو کیوں یہ بدبو کیوں۔
یہ احساسات یہ محسوسات کیوں۔یہ غم یہ خوشیاں کیوں یہ آنسو کیوں،یہ لبوں کی مسکراھٹ کیوں۔
اگر یہ حضرت انسان اتنا ہی زبردست ھے۔
میرا بچپن مجھے دیدے۔میری عمر گزشتہ مجھے واپس کر دے۔

نہیں تو جیئے اور جینے دے!!!۔

پھول بننےکی توقع پر جیئے بیٹھی ھے
ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ھے

شہسوار منزل ہستی!یہ غفلت تا کجا
ہر نفس تیرا سمند عمر کو مہمیز ھے

خواب راحت ھے کہاں نادان دور چرخ میں
گردش ایام ھے اے دل یہ گہوارہ نہیں

گردش ایام سے پھرتا نہیں اپنا نصیب
اختر قسمت مرا ثابت ھے سیارہ نہیں

اچھی کہی یہ شیخ نے دنیا چھوڑ دو
کیا اسے ترک کرکے رہیں آسمان پر
اداسی اداسی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:10 PM Rating: 5

5 تبصرے:

فکر پاکستان کہا...

اداسی کے ساتھ کچھ کچھ مایوسی کی جھلک بھی آ رہی ہے پوسٹ سے ..

پھپھے کٹنی کہا...

بچپن واپس ليکر کيا کرنا ہے شکر کريں گزر گيا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

شاید معصومیت دوبارہ آجائے۔

عثمان کہا...

او سر جی!
کیوں رولاتے ہو خلق خدا کو؟ کوئی جابان کی سناؤ۔ جاپانی گڑیا کے علاوہ مجھے پانڈا بہت پسند ہے۔ کش ہو جائے اس بارے میں۔

عثمان کہا...

ہائیں؟
وہ پانڈا تو شائید چین میں ہوتا ہے؟۔۔۔۔یا ُپھر کوریا میں۔
خیر ہمیں کیا معلوم ہم تو ریچھ اور لودھروں سے بڑے تنگ ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.