گرو جی گرو جی ہم بھی گرو جی


نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے ناں پایا

ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا

ترجمہ۔۔ـ:۔فکری اور روحانی طور پر پست لوگوں سے آشنائی سودمند ہونے کے بجائے ایسے ہی ھے جیسے کیکر کے درخت پر انگوروں کی بیل چڑھا کر اس کا سارہ پھل برباد کر لیا جائے یہ کیکر کون کاٹے گا؟؟

یہ ترجمہ اور شعر حسن نثار کے چوراہا سے اڑایا گیا ھے اور تصویر روزنامہ ایکسپریس سے اڑائی گئی ھے۔

لیکن سچی تے مچی گل یہ ھے کہ دل کی بھڑاس ہم نے اپنے دل کی نکالی ھے۔
گرو جی گرو جی ہم بھی گرو جی گرو جی گرو جی ہم بھی گرو جی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:05 PM Rating: 5

4 تبصرے:

Saad کہا...

یہ دونوں ہی واجب القتل ہیں
:-D

BILLU کہا...

Kya kahin in Kutton ko ab

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد اور بلو صاحبان آپ لوگ تھوڑے تھوڑے بنیاد پرست ھو جی۔یعنی پکے مسلمان ھو۔

پھپھے کٹنی کہا...

اسکی ايک ہی پگڑی ديکھ ديکھ کر ميں تنگ آ گئی ہوں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.