ہماری دل آزاری

ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ھے کہ جنہیں لیڈری کا شوق ھے وہ صرف واہ واہ ہی کروانا چاھتے ہیں یا پھر کوئی مفاد چاھتے ہیں۔توہین آمیز خاکوں پر یہاں احتجاج کر نے کی پلاننگ کر نے والوں سے میں نے عرض کیا تھا کہ اگر احتجاج ہی کرنا ھے تو جلوس نہ نکالیں۔چار چار کی ٹولیاں بناتے ہیں اور تمام اسلامی ممالک کی ایمبیسیز کے سامنے احتجاج کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں ان اسلامی ممالک کے حکمران قرار داد دیں اور کوئی قانون پاس کروایں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری نہ ھو۔ایسے ھی جیسے یہودیوں کے حقوق یا دل آزاری نہ کرنے کا یورپین ممالک میں قانون ھے۔ ھو سکتا ھے میری تجویز ناقص ھو۔لیکن نام نہاد لیڈری کے شوقین حضرات کا جواب کچھ اس طرح تھا کہ اتنا وقت کس کے پاس ھے۔اور اخراجات بھی آئیں گے۔تو محترم کیسی دین کی محبت اور کیسی رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم کی محبت!!۔میرے خیال میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی لیڈر یا اہل دانش نے کوئی اس طرح کی یا اس سے بہتر اورمزید پائیدار اس مسئلے کےحل کی تجویز نہیں دی۔اس سے یہ غلط فہمی نہ پیدا ھو کہ میری تجویز نہایت دانش مندانہ ھےیہ صرف میری تجویز ھے اور اسکی افادیت یا نقصان پر سوچا جا سکتا ھےمجھے اپنی دانش کا پتہ ھے ایسےہی جیسے گھر کی مرغی دال برابر۔اگر ایسی کوئی تجویز ھے بھی تو احتجاج مسلسل ھونا چاھئے نہ کہ دوبارہ اسطرح کا مسئلہ کھڑا ھو اور جلوس نکال کر روڈبلاک کریں اور جب دل کی بھڑاس نکل جائے یا لیڈری کا شوق پورا ھو جائے تو گھر جا کر لمبی تان کر سو جائیں۔مسلمان حکمران بے حس ہیں لیکن ہم عوام مسلمانوں کی سوچ بھی کچھ ایسی ھی ھے۔اس وقت شاید توہین آمیز خاکے لکھنے والے کہیں اور مصروف ہیں۔جب دوبارہ وہ محسوس کریں گے کہ مسلمان کو روڈ پر نکالو اور تماشہ دیکھو تو ایک خاکہ چھاپ دیں گے۔پھر وہی ہائے ہائے مچے گی۔دیرپا حل یہی ھے کہ مسلمان حکمرانوں کو متحرک کیا جائےاور بین الاقوامی قانون سازی کروائی جائے۔اور جب تک قانون سازی نہیں ھوتی مسلسل ایک دباو جاری رکھا جائے۔
ہماری دل آزاری ہماری دل آزاری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:00 AM Rating: 5

8 تبصرے:

عین لام میم کہا...

مبارک ہو صاحب نئی تھیم کی۔۔۔۔۔۔۔ ماشا اللہ خوب لگ رہی ہے۔۔۔
پوسٹ پہ ایک عدد خاموش تبصرہ بھی حاضر ہے۔ :|.

جہانزیب اشرف کہا...

آج آپ کا بلاگ دیکھا، بہت اچھا لگا اور تحاریر اس سے بھی اچھی لگیں ۔ خدارا اسی طرح لکھتے رہیے گا اپنی تحریروں کو کسی جاری جنگ سے آلودہ مت کرئے گا ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جہانزیب صاحب بلاگ پر خوش آمدید
بےفکر رہیں محترم میں غیر اخلاقی جنگ کا قائل نہیں ھوں۔ایسی جاری جنگوں میں شامل ہی ھونا ھوتا تو نیٹ پر نہیں آتا ہمارے آس پاس یا ہمارے گھروں میں ہی ایسے بکھیڑے بہت ہیں۔
لکن جہاں پر دینی قومی یا ہم سب کا اجتعماعی مفاد ھو گا وہاں پر میں ضرور شور شرابا کروں گا۔
نصحیت کا بہت بہت شکریہ اگر آئیندہ بھی میری کوئی غلطی دیکھیں تو ضرور ٹوکئے گا۔

وقاراعظم کہا...

تجویز تو آپ کی اچھی جی لیکن یہ جلوس و مظاہرے سے خدا واسطے کا بیر سمجھ سے بالا تر ہے۔ آخر کو ترقی یافتہ ممالک میں بھی تو جلوس نکلتے ہیں اور مظاہرے ہوتے ہیں۔ وہاں بھی وہاں بھی ٹریفک میں خلل ہوتا ہوگا، لوگ متبادل راستے اختیار کرتے ہونگے۔۔۔

اب یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ مجھے بھی لیڈری کا شوق ہے۔۔۔
:)

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

وقار اعظم صاحب ترقی یافتہ ممالک والے جلوسی عیاشی سہہ سکتے ہیں۔اور جب جلوس نکلتا ھے تو مقصد واضع ھوتا ھے۔ہمارے ہاں جو جلوس نکلتا ھے اس سے مزدور کے گھر روٹی کون پوری کرے گا؟۔جلوس کی افادیت بھی ھے۔لیکن ہمارے جلوس اپنا ہی جلوس نکالنے والے ھوتے ہیں۔

saadblog کہا...

سخت الفاظ کیلیے معذرت مگر سچ یہ ہے کہ مسلمان بے غیرت ہو چکے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد صاحب یہ تو کوئی سخت الفاظ نہیں ھوئے۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

یہ جو پوسٹ کے نیچے گلابی رنگ سے لکھا آتا ہے نا تبصرہ کریں یہ میرے جیسے ڈفروں کو بہت کنفیوز کر دیتا ہے
میں کلک کر کر کے لیکن یہ کلک ہی نہیں ہوتا
براؤذر بدل کے دیکھا
وہ تو گھنٹے بعد پتا چلا کہ اس کو نہیں اس کے اوپر والی انگریزی کو کلکیں گے تو تبصرہ ہو گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.