آہ

آج کےایکسپریس اخبار میں جاوید چوھدری کا کالم پڑھا کسی بزنس مین حاجی صاحب کے متعلق تھا۔کہ حاجی صاحب نے حالات سے تنگ آکر غربت کے وقت خود کشی کا سوچا۔لیکن عمل نہیں کیا اور محنت کرکے اپنے حالات سنوارے۔
اسی کالم میں جاوید چوھدری لکھتے ہیں کہ دنیا میں نبیوں ولیوں اور ظالموں کے سوا ہر کوئی خود کشی کی سوچتا ھے۔۔اس بات سے ایسا محسوس ھوتا ھے جیسے اگر بندہ نبی یا ولی نہیں ھے تو ظالم ضرور ھے اگر خود کشی کا نہیں سوچتا۔اور اگر عام بندہ خود کشی کا نہیں سوچتا تو اسے نبوت کا دعوی کرنا پڑے گا۔نبوت کا دروازہ تو بند ھو چکا۔اس لئے بندے کو اپنے آپ کو ولی ثابت کرنا پڑھے گا اگر ولی ثابت نہ کر سکا تو لوگاں نے اسے ظالم ضرور قرار دینا ھے۔
اب میرے جیسا مرنجاں مرنج بندہ ظالم بننا بھی چاھے تو کیسے بنے؟
لوگاں نے مظلوم ھونے کے بجائے کھال اتار کے بھس بھر دینے میں دیر نہیں لگانی۔
لیکن سن انیس سو ننانوے کے شروع میں جاپان میں مزدوری کرکرکے جب غربت دور ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھی۔
اور اپنے پاکستانی بھائی بندوں کی ہمدردی اور خلوص کا شکار ھونے کی وجہ سے ہم بہت رنجیدہ اور زندگی سے مایوس ھو چکے تھے تو ایک دن ایک پل پر چلے گئے۔جہاں سے نیچے جھانکا تو بڑی تیز رفتاری سے گاڑیاں آجا رہی تھیں۔ہم تو قضیہ ختم کرنے کا فیصلہ کر کے گئے تھے کہ ایک بزرگ جاپانی خاتونہ کو ہماری ذہنی حالت سمجھ آگئی۔جو قدرتاَ وہاں سے گذر رہیں تھیں۔ہم تو سمجھے تھے کہ ہم اکیلے ہی ہیں لیکن وہ کسی بھوت کی طرح نازل ھوئی تھیں۔
انہوں نے بڑے سکون سے کہا کہ چھلانگ لگا لو میں تماشا دیکھتی ھوں۔لیکن ماں باپ کا سوچ لو بڑے دکھی ھوں گے۔ہم نے کہا ان کے اور بچے بہت ہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے پھر کہا اور تمہارے بچوں کا کیا ھو گا؟
میں نے کہا بچے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا بیوی؟
میں نے جواب دیا ۔
ایک عدد موجود ھے۔اور اچھی ھے۔
انہوں نے کہا چھلانگ لگانے سے پہلے بیوی کیلئے کوئی پیغام ھے تو دے دو۔اس پہنچا دوں گی۔
ہم شش و پنج میں مبتلا ھوئے تو اتنی دیر میں وہ بزرگ خاتونہ جو اس وقت باسٹھ سال کے قریب تھیں ہمارے قریب آگئی تھیں۔
انہوں کہا چھلانگ لگاو میں روکوں گی تو نہیں۔
نہ ہی تمارے دکھ پو چھوں گی۔
لیکن اگر اتنے ہی دکھی ھو تو ان ناقابل برداشت دکھوں سے تمہارا دم کیوں نہیں نکلتا؟
یہ کہہ کر وہ تھوڑا آگے گئیں اور رک کر بھولیں چھلانگ نہیں لگانی تو آو کافی پیتے ہیں۔
اور میری طرف پیٹھ کر کے چل دیں۔میں بھی نہ جانے کیوں ان کے پیچھے چل دیا۔کافی شاپ میں جا کر ان کے ساتھ کافی پی گفتگو کرتے رھے لیکن انہوں نے مجھ سے پل پر ھونے والے واقعہ کے بارے میں ایک بار بھی نہیں پوچھا۔
دو سال پہلے ان کا انتقال ھو نے تک بھی انہوں نے کبھی بھی اس پل والے واقعہ کے بارے میں بات نہیں کی۔
لیکن اس واقعہ کے چند ماہ بعد سے ہی ہمارے حالات نے کروٹ لی اور وہ دن اور آج کا دن ہمیں کبھی بھی معاشی مسئلہ نہیں ھوا۔
جوید چوھدری صاحب کے کالم سے ہمیں ایسے لگا کہ انہوں نے ہمارا پول کھول دیا۔ہمیں یہ کالم پڑھتے ھوئے کچھ شرمندگی سی محسوس ھوئی۔اور غصہ بھی آیا۔واقعی انسان جب اپنے آپ کو حالات کے حوالے کردے تو قدرت بہتری کرتی ھے۔انسان سوچتا کچھ ھے اور ھوتا کچھ ھے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ھے۔
میں نے اللہ کو اپنے ارادوں کی ناکامی سے پہچانا۔
آہ آہ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:13 PM Rating: 5

7 تبصرے:

saadblog کہا...

اگر اسلام میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو ہمارے ملک کی آبادی چند سو افراد پر مشتمل ہوتی۔

عثمان کہا...

سر جی!
آپ نے تو ڈرا ہی دیا۔ اپنا وطن ہوتا۔ تو عین ممکن تھا کہ لوگ کھڑے ہو کر دیکھنا شروع کردیتے کہ دیکھتے ہیں‌کہ لگاتا ہے کہ نہیں۔
ویسے میں نے سُنا ہے کہ جاپانی "ہاراکاری" کو مقدس سمجھتے ہیں۔ اگر یہ بات ہے تو ہم پڑھ رہے ہوتے: یاسر خوامخواہ شہید۔

Yasir کہا...

آپ کی باتیں سمجھنے کے لیے پہلے جاوید چودھری کا کالم پڑھا۔ جاوید صاحب نے حالات سے ٹکرا جانے کےعمل کو بہت سادہ الفاظ میں لکھا ہے لیکن حقیقت میں یہ مرنے سے بہت زیادہ مشکل ہے۔ مرنا تو انسان کو ایک ہی بار ہے لیکن زندہ رہنے کے لیے بار بار صبر، تحمل اور برداشت کا مظاہر کرنا پڑتا ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جب انسان موت کے خوف سے آزاد ھو جاتا ھے تو یہ مسائل یہ مصائب سب زندگی کی رنگینیاں نظر آتی ہیں۔اور خود بخود صبر اور برداشت انسان میں آجاتی ھے۔زندگی کے مسائل بہت آسانی سے ہضم ھو جاتے ہیں جیسے خوراک کو نظام ہضم چبا ڈالتا ھے۔

کاشف نصیر کہا...

آپ کا واقعہ بہت دلچسپ ہے البتہ کیوں ہم نے کبھی ایسی کوشش نہیں کی اور نہ کبھی ایسا کیا اس لئے خیال آرہا ہے کہ ولایت کا دعوا کردیتے ہیں، اگر مریدین کی کچھ تعداد ہوگئی تو آمدنی کا ایک اچھا زریعہ شروع ہوجائیگا۔
ویسے مزاق سے ہٹ کر میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں لوگ حالات سے اتنے گھبرا گئے ہیں کہ اب جینا نہیں چاہتے، زندگی بھی یہاں بہت خوبصورت ہے اور سچ پوچھئے تو امیروں اور متوسط طبقے سے زیادہ غریب خوش ہیں اپنی غریبی میں۔
پاکستان میں غربت ضرور ہے لیکن یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، بھارت اور کئی دوسرے ملکوں کے پسماندہ علاقوں میں پاکستان سے زیادہ غربت ہے۔
اور ہاں واقعی انسان قسمت کے اتھوں مجبور ہے۔ محنت اور ارداہ میٹر کرتا ہے لیکن قسمت اصل چیز ہے۔
میرے خیال سے آپکو جاپان میں گزارے اپنے دنوں پر ایک کتاب لکھی چاہئے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو ہمارے لئے جاپان اور جاپانیوں کو سمجھنے کے لئے ایک اچھا علمی و ادبی اضافہ ہوگا۔

پھپھے کٹنی کہا...

ميں تو خود آئے روز خود کشی کا سوچتی ہوں مگر تين بچوں کو ديکھ کر ارادہ پوسٹ پون کر ديتی ہوں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہ بی بی نہ ایسا مت سوچا کریں۔
یہ سب تو زندگی کی رنگینیاں ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.