فیض احمد فیض

فیض احمد فیض کی ایک نظم جو علامہ اقبال کی پیروڈی ھے۔

یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی

زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کاٹکڑا دکھا دو

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاوں کی ھڈیاں تک چبا لیں

کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ھوئی دم ہلا دے
فیض احمد فیض فیض احمد فیض Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:12 PM Rating: 5

3 تبصرے:

Usman کہا...

یہ پیروڈی والی بات نہیں سمجھا۔
فیض صاحب علاما اقبال کے لتے لیتے رہے ہیں؟؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں بھائی فیض صاحب قوم کے لتے لیتے رہے ہیں۔

سلسلۂ اعجازیہن کہا...

میر خیال میں ہم لوگ بحیثیت مسلمان یا پاکستانی جذباتی ہو جاتے ہیں یاسر خوامخواہ جاپانی سے عر ض ہے کہ آپ دانشمندی کو سلام مگر سر سید کے بارے میں آپکو برا بھلا کہنے کا کوئی اختیار نہیں آپ تو پاکستان میں رہتے نہیں نام بھی جاپانی ہے پیٹ میں کھانا بھی جاپانی تو سوچ کیا خاک پاکستانی ہوگی تھوڑا تحمل سے آپ حیا تِ جاوید پڑھئیے پھر مجھ سے رابطہ کیجئے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.