صنعت اور وحشت

دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان تباہ حال تھا۔عوام کو سفید چاول اورآلو پیٹ بھر کر کھانے کو میسر نہیں تھے۔صنعت و تجارت اور زراعت مکمل طور پر تباہ ھو چکی تھی۔جب جاپان نے شکست تسلیم کی اور مفتوح ھو گیا تو جنگ کے امکانات کے ختم ھوجانے کا انحصار جاپانی عوام کے دلوں پرایک روحانی انقلاب برپا ھونے پر نہیں جتنا صنعتی معاشرے کی ترقی پر ھوا۔انسان کسی ملک کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتا ھو اپنے ما حول کی پیداوار ھوتا ھے۔ جیسے ہی جاپان کی عوام کی زندگی جنگ کے تسلط سے آزاد ھوئی جاپان کی صنعت نے ترقی کرنی شروع کر دی۔جیسے جیسےجاپان کی صنعت ترقی کرتی گئی لمحہ بہ لمحہ صنعتی ترقی نے امن اور جمہوریت کا رستہ صاف کردیا۔جاپان کی صنعتی ترقی نے جاپانی عوام کی کام کرنے کی صلاحیتوں کوبروئے کار آنے کی پوری آزادی دی۔صنعتی ترقی سے پہلے جاپان میں بھی ہمارے معاشرے کی طرز کا ذات پات اور جاگیرداری کاملتا جلتا نظام پایا جاتا تھا۔اس دور میں بھی یہاں پر ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ھے جسے لوگ کمین سمجھ کر کراہت کرتے ہیں جسے؛ براک؛ کہا جاتا ھے۔لیکن اتنا نہیں جتنا ہمارے معاشرے میں نچلے طبقہ سے جو سلوک کیا جاتا ھے۔براک کے ساتھ شادی بیاہ کے وقت خاندان والے کچھ شور شرابا کریں تو کریں ورنہ اگرخاندان سے تعلق نہ رکھا جائے تو معاشرت میں کسی قسم کی کوئی تنگی نہیں ھوتی۔جاپان کی صنعتی ترقی نے معاشرے میں جو ذات پات کی تفاوتی روایات تھیں انہیں مکمل طور پر منہدم کر دیا۔یہاں پر حب الوطنی سے مراد دوسرے ممالک سے نفرت نہیں لی جاتی بلکہ اپنے نظام اپنے معاشرے اپنے ملک سے محبت لی جاتی ھے۔سیاسی سطح پر بعد از جنگ روس، چین ،کوریا،اور شمالی کوریا سے تاریخی اختلافات اور مسائل ہیں۔جنگ کی نوبت یا خطرہ نہیں ھے۔شمالی کوریا کے ساتھ تھوڑا بہت خطرہ ھے لیکن جاپان کی بیرونی خطرے سے حفاظت امریکہ کی ذمہ داری ھے۔اور یہ ذمہ داری ایک مجبوری بھی ھے یہ مجبوری جاپان کی نہیں دنیا کے جاگیر داروں کے سر مایہ درانہ نظام کی ھے۔جاپان کی صنعتی ترقی نے جو سرمایہ جاپان کو دیا۔یہ سرمایا اس وقت بین الاقوامی حثیت اختیار کر چکا ھے۔

یہ سرمایہ ھی اس خطے کے امن کا لازمہ بن چکا ھے۔چین، کوریا،شمالی کوریا،اور روس کے ساتھ سیاسی و علاقائی اور سرحدی اختلافات ھونے کے باوجود جنگ کی نوبت نہیں آتی۔وجہ ایک ہی ھے کہ جنگ کی صورت میں سب کی معشیت تباہ ھوگی۔بیرونی اور داخلی خونریزی نہ ھونے کی وجہ سے لوگوں میں وحشت بہت کم ھےاگر مذھبی نظر سے نہ دیکھا جائے تو۔وحشت کی کمی کی وجہ ہی نظر آتی ھے کہ جاپانیوں کی عمریں لمبی ہیں۔اگر باریکی سے نہ دیکھا جائے تو عورت کا درجہ بلند ھے۔آزادی نسواں ایک روز مرہ کی عام چیز ھے۔

اس وقت کے جاپان میں ہر کوئی بے خوف و خطر با عزت زندگی گذار سکتا ھے۔ہمیں جاپان کے پر امن معاشرے کی سب سےبڑی وجہ صنعتی ترقی نظر آتی ھے۔اس صنعتی ترقی نے ہر کسی کو کام پر لگا دیا۔اگر یہ قوم مصروف نہ ھو تو وحشت اور بربریت میں ہم پاکستانی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔پاکستان کے اس وقت کے حالات کا حل ہمیں صرف یہی صنعتی ترقی نظر آتی ھے۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ صنعتی ترقی دیوانے کا خواب ہی نظر آتی ھے۔ نہ تو ہمارے پاس محب وطن لیڈر ہیں اور نہ ہی ہم لوگوں میں انفرادی مفاد کے بجائے اجتعماعی مفاد کے سوچنے کی صلاحیت۔
صنعت اور وحشت صنعت اور وحشت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 10:03 PM Rating: 5

19 تبصرے:

saadblog کہا...

کیا جاپان پر اپنی فوج رکھنے کی پابندی ہے؟ اگر ہے تو کب تک ہے؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاپان کے آئین میں فوج رکھنے کی اجازت نہیں ھے۔لیکن جاپان کے پاس دفاعی فوج ھے۔یہ قدرتی آفات کے وقت امدادی کاروائی کر سکتی ھے۔لیکن ملک سے باہر کسی بھی قسم کی جنگ یا جنگی امداد نہیں کرسکتی۔جاپان کی دفاعی فوج کا شمار ہماری افواج کی طرح زبانی کلامی نہیں حقیقتا دنیا کی بہترین افواج میں ھوتا ھے۔

فکر پاکستان کہا...

صنعتی ترقی کے لئے پہلے تو بجلی کے مسئلے پر قابو پانا ضروری ہے ۔۔ لڑنے مرنے سے فرصت ملے گی تو دوسری باتوں کی طرف خیال جائے گا نہ ۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان آپ فکر کے علاوہ بھی کچھ کھایا پیا کریں۔اتنی کمزوری اچھی نہیں ھوتی۔

فکر پاکستان کہا...

ہی ہی کمزوری اچھی چیز ہے پھر ڈائٹنگ کی ضرورت نہیں پڑتی ..

Anonymous کہا...

جناب جاپانی صاحب آخری جنگ عظیم کے وقت امریکہ نے 2ایٹم بم استعمال کرنے کےبعدپوری دنیاکی منڈیاں جاپانکے لۓ کھو ل دیں تو ان کی صنعت نے ترکی کی جب کسی ملک پر پابندں لگا دی جائیں توکو ئی بھی ملک ترکی نہیں کر سکتا۔مشر ق وستع پر قبضہ کے ليے اس نے پہلے چین کو اور اب انڈیا کومرعات دی اب انکی معیشت کو دیکھ ليں۔آپ اپنی گاڑیاں کیسے دوسرے ملک بھیج سکتے ھیں جب کے وھا ں پرانی گاڑ ی پر پا بندی ھو۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب بے نام صاحب انڈیا اور چین میں اجتعماعی مفاد کا احساس کر نے والے لیڈر ہیں۔ہمارے پاس بھی ھوں تو یہ پابندیاں وغیرہ ختم ھو سکتی ہیں۔
جیسے لیڈر ہمیں میسر ہیں اور تھے وہ آپ کے سامنے ہیں۔نام نہاد دگشت گردی کی جنگ اپنے گھر لے آئے اور مںڈیوں کا کسی نے نہیں سوچا اور نہ ہی اس وقت کوئی سوچ رھا ھے۔وجہ ایک ہی ھے مزا بادشاہت کا لوٹنا چاھتے ہیں اور غلامی میں پناہ لیتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فکر پاکستان اب اگر سچی مچی طوفان آیا تو پتنگ کی طرح آپ اڑ جائیں گی۔یعنی ھوائی سفر بغیر ٹکٹ کے۔

فکر پاکستان کہا...

ہاہاہا نہیں میں کچھ سکے رکھ لوں گی اپنے پاس تا کہ نہ اڑ سکوں ۔۔ :grin:

عین لام میم کہا...

صحیح کہا ہے آپنے۔۔۔
پیٹ خالی ہو تو دماغ کسی تعمیری کام میں کیسے لگایا جا سکتا ہے۔۔
کوئی بھی کام کیوں نہ ہو صرف ایک بات پر نظر رکھی جای ہے کہ اس سے مالی فائدہ کتنا ہوگا۔۔۔ کیونکہ تحفظ نہیں ہے۔۔۔اور پھر ہر طرح کا کام کرنے پہ لوگ تیار بھی ہو جاتے ہیں خواہ بند باندھنا ہو یا بم۔۔!۔
اور ایک رہنما ہیں کہ یہ حال ہے: "پُکھ بھانگڑے تے عشق بنیرے۔۔۔"۔

Anonymous کہا...

جا پانی صا حب۔چین اور انڈیا کے لیڈر مخلص ھوں یا نا ھوں۔اس سے بین القوامی سطح پر اتنا فر ق نہیں پڑتاجتناکہ جی ایٹ ممالک کی مر ضی کا عمل دخل ھے۔افغان اور عراق کی جنگ سے پہلے تو انڈ یا پر یہ دنیا والے اتنے مہربان تو نہ تھے۔ جب جب دوسروں کے مفادات بڑتے گیے چین اور انڈیا کی مرعات بڑتی گئ۔اب ایران اس خطے میں ان کے مفاد کی دیوار ھے اسکا دیکھ لیں کیا حال ھو رھا ھے باقی کل اللہ حافظ

عثمان کہا...

آپ کے اس "لیکن" نے تو میرا ترا نکال دیا۔

اور ہاں وہ خاور صاحب کو اطلاع کردیجئے کہ مقابلہ شروع ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بےنام بھائی جی ایٹ کے مفاد پاکستان سے نہیں ہیں کیا۔اگر انڈیا سے ہیں تو پاکستان سے بھی ہیں۔چین سے ہیں تو پاکستان سے بھی ہیں۔بات اعتبار کی پاکستان کی حکومت چاہے فوجی ھو یا جہموری دنیا اعتبار نہیں کرتی ۔اور اعتبار بنانے کی ہم لوگوں میں اجتعماعی طور پر صلاحیت نہیں ھے۔ان حکمرانی یا بادشاہی کے شوقینوں کے
پیٹ کی ھوس ختم ھو تو قومی مفاد کا سوچیں۔

Anonymous کہا...

جاپانی صاحب۔ایک دن لیٹ ھو نے کی معا فی۔ قا ید اعظم سے بڑا لیڈر پاکستان میں نا تو آیا ھے اور نہ ان سےمخلص کوئی اس وطن عزیزمیں آۓ گا۔ان لوگوں نے ان کو بنگلہ دیش تھما دیا تھا۔جو کہ جغرا فیا ئی لحا ظ سے پاکستان کے سا تھ کبھی شامل نہیں ھو سکتا تھا۔ ان کے بعد جتنے لیڈ رآ ۓ وہ سب ان کے نما ئندے تھے جو حکومت ان کے خلا ف کا م کرتی ھے فا رغ کر دی جا تی ھے۔ باقی آیندہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب ہم بھی انہیں کو رو رھے ہیں۔

Anonymous کہا...

صرف رونے سے کچھ نہیں ھو گا بقو ل شاعر عمل سے ذند گی بنتی ھے جنت بھی جہنم بھی۔ دوسروں کا رونا رونے سے بہتر ھے کچھ عملی طور پر کریں۔ خود سے شروع کریں کہ کل سے آب روزانہ ایک اچھا کا م کریں گے اور اس کو اپنے بلاگ پر لکھے گے۔ ۔اللہ حا فظ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بے نام صاحب آپ تو بڑی کوئی پیر ٹائپ کی شخصیت نکلے۔

Anonymous کہا...

مجھے آپ کے تبصرے کی وجہ سے واپس آنا پڑا۔ ذرا سونے سے پہلےمنہ پرکمبل لے کر سوچنا جاپانی صاحب۔کہ آپ جن پرلکھتے ھیں ان میں اور آپ میں کتنا فرق ھے سو چ میں۔آپ نے بھی ملا مولوی والا کام کیا ھے۔مجھےپیر کہہ کر۔ چاھیے تو یہ تھا ک آپ کہتے ھا ں میں کو شش کروں گا اور لگ جاتے کام بر۔لیکن ایسا نہیں ھوا ۔ میں نے آپ سے اسلۓ اتنی لمبی پا ت کی تاکہ آپ کو اس بات کا احساس ھو کہ کہنے ۔لکھنے۔اور عمل میں کتنا فرق ھوتا ھے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ہی ہی ہی ہی
آپ اب واپس مت آئے گا ،ہم واقعی کچھ منافق واقع ھوئے ہیں۔
خوامخواہ نیکی کریں۔وہ بھی روز روز خوامخواہ کا پنگا ھے جی۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.