جاپان کے عظیم پاکستانی

پردیسی بڑا مظلوم ھوتا ھے۔اگر حق حلال کی کمائے تو نہایت کٹھن اور سخت زندگی گذارنی پڑتی ھے۔حرام کمانے کے مواقع پردیس میں بہت کم ملتے ہیں۔پھر بھی یار لوگ اپنے جیسے بھوکے ننگے کی چمڑی ادھیڑنے سے نہیں چکتے۔اوریہ حضرات زیادہ تر ایسے ہی محنت سے بھاگنے والے حضرات ھوتے ہیں جو پچیس تیس سال پردیس میں رہنے کے باوجود پاکستانی حکمران طبقے والی عادات اور ذھنیت کی پیروی کررھے ھوتے ہیں۔یعنی پیدائشی لٹیرے اور بھیکاری۔جاپان میں زیادہ تر ہم پاکستانی پرانی گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔اسی کی دہائی میں گاڑیوں کا کام کرنے والےحضرات بہت کم اور مخصوص تھے۔نوے کی دہائی میں دیکھا دیکھی ان میں اضافہ ھوتا گیا۔اس وقت ہم لوگ زیادہ تر گاڑیوں کی خریدوفروخت ھی کرتے ہیں یا ریسٹورنٹ وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔

جن کا اپنا کاروبار نہیں ھے۔ان نئے سیٹھ لوگوں کے پاس کام کرتے ہیں۔یا جی حضوری!!۔

جن کی ان کے پاس نہیں چلتی وہ جاپانی کمپنیوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔پاکستانیوں کی ٹوٹل قانونی تعداد یہاں پرتقریبا دس ہزار بتائی جاتی ھے۔اور قنونی یا غیر قنونی نہ ھو نے کے برابر ھے۔ایک دو دفعہ کا آنکھوں دیکھا واقعہ ھے کہ انڈین چھوکرے جاپانی لڑکی کو پھنسانے کیلئے اپنے آپ کو پاکستانی ظاہر کرتے ہیں۔

یہ قصہ کسی دوسری پوسٹ میں لکھیں گے۔

لیکن یاد رھے وہ پاکستانی نہیں ہیں۔پاکستا نیوں میں جن کا کاروبار میں کوئی جھگاڑ نہیں لگا وہ بس کھینچا تانی کر کے اپنا وقت گذار رھے ہیں۔جو اپنے کام میں مخلص تھے وہ اب بھی لاکھوں کما رھے ہیں۔لاکھوں میں آپ لاکھوں ڈالر اور لاکھوں ین ہی شمار کریں۔

جو لاکھوں نہیں کما رھے اگر محنتی ہیں تو وہ بھی اچھا کمارھے ہیں۔محنتی کو بھیک مانگنی نہیں پڑ رہی ان حالات میں بھی۔

کچھ نے نیٹ اخبارات بھی نکالے ھوئے ہیں اخبارات والے پاکستانی کاروباری حضرات سے اشتہار لے کر کمانے کا سوچتے ہیں۔لیکن ہمارے مطابق دال گلتی نظر نہیں آتی۔کوئی فی سبیب اللہ کچھ دے تو اسکا بھلا نہ دے تو خانہ خراب۔

وضاحت کردوں کے ان میں ہمارے سنیئر بلاگر خاور شامل نہیں ہیں۔وضاحت کرنے کی وجہ یہی ھے کہ ڈر لگتا ھے ان سے کہ کہیں ہم پر بھی ایک فحش پوسٹ نہ آجائے۔بحر حال زیادہ ترمحنتی پاکستانی یہاں پر معاشی طور پر اچھی حالت میں ہیں۔اگر مجھے غلط فہمی نہ ھو۔جو محنتی نہیں ہیں۔ ان کا بھی اللہ مالک تے سانوں کی۔

ان اخبارات والوں کی یہ حالت ھے کہ نہ جانے کیوں انہیں لڑائی جھگڑے سے فرصت نہیں۔ اب عام پاکستانی کچھ ایسے سوچتا ھے کہ شاید یہ اشتہارات کی جنگ ھے۔یعنی نوٹوں کی وصولی میں ایک دوسرے کی حصہ داری برداشت نہیں ھو رہی۔آجکل ان کی جنگ پاکستانی معاشرے کی بہترین عکاسی کر رہی ھے۔نسلی اور لسانی تفاوت۔

نعرہ ان سب کا ایسا ہی ھے جیسا پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں کا۔

جیوے جیوے پاکستان اسلام اسلام کمیونٹی کی

بہتری کیلئے کام کام اور نہایت بے لوثی سے کام جاپان میں پاکستان کا نام روشن کر ناوغیرہ ھے۔

پاکستان میں بجلی کی کمی کی وجہ سے پاکستان کا نام روشن نہیں ھو سکتا،جاپان میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ھے۔خوب چراغاں کر رھے ہیں۔

یہاں کی آزاد عدالتوں میں جارھے ہیں۔غیر جانبدار پولیس جو مقابلے میں بندے کا صفایا بھی نہیں کرتی یہاں کی پولیس کو آپ گالیاں بھی دے سکتے ہیں یہ جوابی گالیاں بھی نہیں دیتی۔اس پولیس کے پاس بھی بڑے زور شور کے ساتھ جاتے ہیں۔کیوں جاتےہیں؟

آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا؟ ارے بھلے لوگو پاکستان کا نام روشن کرنا ھے اس لئے اور کس لئے!!۔یہاں پر پاکستان کی طرح چوری ڈاکے تھوڑی پڑتے ہیں کہ ان کی ایف آئی آر کٹوانے جائیں۔

معاملات میں ہم پاکستانی جو جاپان میں کاروبار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ کہنے سے بھی ڈر لگتا ھے۔کہیں دھلائی نہ ھو جائے۔اچھے الفاظ میں کہوں تو آپ ہم سے لین دین نہ ھی کریں تو آپ کیلئے بہت بہت ھی اچھا ھے۔

باقی دین اسلام میں ہم نہایت ہی اچھے ہیں۔نمازی پرہیزگار متقی و مفتی وغیرہ ۔آپ کے سامنے ہمیں پانی نظر آجائے تو آپ ہماری لوٹے کی طرف آنیاں اور جانیاں دیکھئے۔

کچھ بے وقوف اور دقیانوسی ایسے بھی ہیں جو خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں کسی کا بھلا نہیں ھو سکتا تو اپنا بھلا کرتے ہیں۔ان کیلئے اپنے خاور صاحب کے الفاظ کچھ اس طرح کے ہیں کہ یہ غیر معاشرتی جانور ہیں۔

اس وقت جو گند جاپان کی پاکستانی کمیونٹی میں ھو رہا ھے۔یہ گند ہم نے اسی کی دہائی میں جب پاکستان کا انپڑھ اور مزدور طبقہ یہاں کافی تعداد میں آیا تھا اس وقت دیکھا تھا۔

لیکن ہم قسمیہ اور حلفیہ کہتے ہیں کہ وہ گند بھی مزدور طبقے کا نہیں تھا۔اس وقت گند کرنے والے یہی یا ایسے ھی پڑھے لکھے حضرات کا تھا۔

اس وقت بھی ان پڑھے لکھے حضرات کی وجہ سے عظیم پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم کا نام روشن ھو رھا ھے۔

ثبوت یہ ھے کہ نیٹ اخبارات کوئی فلاحی کام نہیں کر رھے۔ہاں ایک دوسرے کے کپڑے ضرور اتار رھے ہیں ۔اورٹوکیو ٹاور پر سوکھنے کیلئے لٹکا رھے ہیں۔

ہم نے تو جاپان میں آنکھیں کھولیں اسی کمیونٹی کو دیکھ کر ہی دکھی ھوتے آئے ہیں۔یہاں کے دس ہزار کا یہ حال ھے تو عظیم پاکستان کے اٹھارہ کروڑ کا کیا حال ھو گا۔مادی ترقی کے شوق میں اخلاقی تنزلی ہی نظر آتی ھے۔ بھوکے پیٹ یہ حال ھے تو پرباش ھو کریہ لوگ کیاتماشہ کریں گ
جاپان کے عظیم پاکستانی جاپان کے عظیم پاکستانی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:00 PM Rating: 5

15 تبصرے:

DuFFeR - ڈفر کہا...

کیونکہ میرا جاپان کبھی جانا نہیں ہوا اور نہ مین مزدور ہوں اور نہ ہی پڑھا لکھا اس لیے پوری سے زیادہ پوسٹ سمجھ نہیں آئی
لیکن اتنا ضرور مسجھ آیا کہ آپ ک ااور خاور کا غم ملن جلنگ ہے اور آپ چاہتے ہوئے بھی کسی کے تاریک گوشوں کی نشاندہی نہیں کر سکے
صفحے پر بکواسی حقوق اور اس سے متعلقہ لائن بڑی مزیدار ہے

عین لام میم کہا...

بلاگ کی ٹیگ لائن کا کیا مقصد ہے۔۔۔؟
اور ہمارا کوئی بھی واقف جاپان نہیں گیا کبھی۔۔۔اس لئے وہاں کا حال نہیں معلوم۔۔ کیا باقی ممالک کے "پاکستانی" بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔!؟
ارادہ تو میرا بھی ہے "باہر کے ملک" جانے کا۔۔۔۔ دیکھو میں کس کیٹیگری میں آتا ہوں۔۔جانا تو پڑھنے ہی ہے ، کہیں میں بھی "پڑھا لکھا" ہی نہ بن جاؤں۔۔۔۔۔!!۔

خاور کھوکھر کہا...

آپ نے میڈیا کا تو گله کردیا لیکن ان میلوں کا ذکر نہیں کیا جو ضدی بچے ،سنکی استاد ، ٹیپو کی تلوار ایسے هی عجیب ناموں سے اتی هیں
اور کیا ان کا کوئی حل ہے ؟

عثمان کہا...

پہلا سوال تو یہ کہ آپ کونسا فونٹ استعمال کر رہے ہیں۔۔۔میرے کمپیوٹر پر ساری تحریر ڈانس کرتی نظر آ رہی ہے۔۔۔اوپن آفس پر کاپی پیسٹ کر کے پڑھ رہا ہوں۔
دوسرا یہ کہ کیا خاور صاحب اخبار چھاپتے ہیں؟۔۔۔مم۔۔۔میرا مطلب ہے کہ اخبار نکالتے ہیں؟۔۔۔اوہو۔۔بھئ اس کے لئے جو بھی لفظ ہے ۔۔۔تو کیا وہ کرتے ہیں؟
اور تیسرا یہ کہ یہ تحریر موضوع سمیت اچھی ہے۔۔۔ہر قسم کے جاپانی پاکستانیوں کے مطلق لکھے رہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈفر بھائی تاریک گوشوں کو روشن کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔خوامخواہ کسی سے پنگا لینے کا ارادہ بھی نہیں۔
خاور بھائی ایسے میل بھیجنے والوں کو کھوتے دا پتر کہہ کر اگنور کر دینا چاھئے۔مجھے بھی کافی گالی گلوچ وصول ھوتی ہیں۔لیکن جواب ھی نہیں دیتا اس لئے کتے بھونک بھونک کر تھکتے ہیں اور خاموش ھو جاتے ہیں۔کتوں کو کاٹنا شروع کر دیں تو اپنے پر ہی زہریلا اثر ھوتا ھے۔
عین لام میم بھائی آپ باہر جائیں لیکن پڑھے پڑھے ہی رہنا لکھے لکھے ھوئے تو ہم آپ سے ناراض ھو جائیں گے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

عثمان بھائی خاور بھی اخبار نکالتے ہیں لیکن ابھی تک ان کے بے ضرر اخبار پر گند نہیں دیکھا۔
غلط فہمی دور کر دوں کہ خاور بھائی سے مجھے کوئی شکایت نہیں ھے۔ھوئی تو انہیں فون کر کے لڑائی کر لوں گا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

فونٹ جو میسر ھے وہی استعمال کر رہا ھوں۔آپ کی سہولت کیلئے تبدیل کر دوں گا۔کونسا بہتر رھے گا؟

عثمان کہا...

فونٹ تو مجھے نستعلیق ہی پسند ہے۔ اور یہی مقبول ہے بلاگستان میں۔
اور یہ خاور صاحب کی اخبار کا لنک بھی دے دیجئے۔۔۔۔ہم بھی تو دیکھیں۔۔۔صحافتیں!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خاور کے نیٹ کا اڈریس
http://gmkhawar.net/

عثمان کہا...

سرجی!
یہ آپ لوگوں نے جاپانی زبان کتنے برس میں سیکھی؟۔۔۔سنا ہے بڑی اوکھی زبان ہے۔
ہو جائے دو چار پوسٹیں‌ اس پر بھی۔۔۔دلچسپ رہے گا۔

Anonymous کہا...

واہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاپانی سیکھنے کے متعلق ایک ہی پوسٹ میں صفایا کر دوں گا۔

سعد کہا...

ہم زندہ قوم ہیں۔۔ پائندہ قوم ہیں
:-D

عثمان کہا...

ویسے آپ کے پاس لکھنے کو کافی موضوعات ہیں ۔۔۔آپ ہی شائد دھیان نہیں دیتے۔
میں آپ کو ایک لنک دیتا ہوں۔۔۔اسے چیک کریں۔
The Gori Wife Life
آپ کے پاس اس خاتون سے کہین زیادہ مواد ہے لکھنے کو۔ لکھیں اور ہمیں سنائیں جاپان کی سٹوریاں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اچھا عثمان آپ نے لگا دیا ان خاتونہ والے کام پر ۔ابتدا میں کسی چا چو ٹائپ کے بندہ کی بیوی اور ہماری چاچی کو پکڑتے ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.