شایدنظر کا دھوکہ ھے

پاکستان اس وقت تاریخ کے عجیب دور سے گذر رہا ھے۔ایک طرف برسراقتدار حکمران اور امرا کا طبقہ ھے جو ملک کے ستر فیصد وسائل پر قابض ھے۔کارخانے زرخیز سونا اگلتی زمین کاروباری مراکز تجارت قدرتی وسائل پر ان کا قبضہ ھے۔کیونکہ ملک پر ان کا باپ دادا کے دور سے قبضہ ھے اس لئے یہ ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنی ہیں۔غریبوں کے خون پسینے سے نچوڑی ھوئی کمائی بے دردی سے لٹاتے ہیں اور دوسرے ممالک کے بینکوں میں اگلی نسل کے لئے محفوظ رکھتے ہیں۔انہیں ہر قسم کا عیش و آرام میسر ھے۔مخصوص علاقوں میں بڑے بڑے محلات نوکروں کی فوج ہر قسم کے اسلحہ سے لیس محافظ پاکستان میں پائی جانے والی ہر اعلی شے ان کے لئے مخصوص ھے۔

غریب عوام، ہنر مند ،کسان ،دیھاڑی دار محنتی، امراکے نوکرچاکر جنہیں ان کی محنت کا صحیح معاوضہ بھی نہیں ملتا دو وقت کی روٹی کھانا ان کے لئے دشوار ھے۔اس غریب عوام پر ٹیکسوں کے پہاڑ ہیں۔اور نت نئے طریقوں سے ان کی چمڑی اتارنے کےلئے ٹیکس ایجاد کئے جاتے ہیں۔عوام کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ٹیکس دے رھے ہیں۔ عوام کی خون پسینے کی کمائی سے وصول کیا گیا جگا ٹیکس حکمرانوں اور امرا کی عیاشیوں پر استعمال ھوتاھے۔

جو کچھ بچتا ھے وہ مولویوں اور سجادہ نشینوں کےچندہ بکس میں نکل جاتا ھے۔
پھر بھی کچھ بچ جائے تو عزت نفس کے محسوسات سے عاری بھیکاریوں کے نظر ھو جاتا ھے۔
باقی کسر پولیس کے ھاتھ چڑھ جانے سے نکل جاتی ھے۔پولیس ھے ھی غریب عوام کو سدھارنے کیلئے ۔اورحکمرانوں اور امرا کو صرف سلوٹ کرنے کیلئے۔
اس تیس فیصد بر سر اقتدار طبقے سے عوام سخت متنفر ہیں اور نفرت کر نے کے باوجود انہیں سے امیدیں رکھتے ھیں۔
غربت کی چکی میں پسے ھوئے لوگ تنگ آئے ھوئے ہیں۔پورے ملک میں بغیر کسی مقصد کے مظاہرے توڑ پھوڑ ایک دوسرے سے نفرت کی وجوھات تلاش کر کے قتل و غارت روزمرہ کا تماشہ ھے۔
حالات سے دلبرداشتہ ھو کر مذہبی اور دینی تنظیموں میں سکون کے متلاشی اپنے ہی ملک میں اپنوں ھی کو مار کے مر رھے ہیں۔

امریکہ کے چاکری کرنے والوں کی وجہ سے عوام چکی کےدو پاٹوں کے درمیان رگڑے جارھے ہیں۔ایک طرف برسر اقتدار طبقہ انہیں نچوڑتا ھے دوسری طرف امریکہ اور برسر اقتدار طبقے کا مخالف طبقہ دھشت گرد انہیں ادھیڑتا اور اجاڑتا ھے۔
عوام میں بھی عجیب نفسا نفسی آپا دھاپی مچی ھوئی ھے۔بے عقل جانوروں کے طرح جدھر منہ ھوتا ادھر ھی بھگٹٹ بھاگ رھے ہیں۔
ہر مفاد پرست نام نہاد لیڈر انہیں جیسے چاھتا ھے استعمال کرتا ھے۔کیا صرف مجھے ہی پاکستان کے حالات ایسے دکھتے ہیں؟
شایدنظر کا دھوکہ ھے شایدنظر کا دھوکہ ھے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 4:46 PM Rating: 5

6 تبصرے:

سعد کہا...

ان خراب ملکی حالات میں مجھے لگتا ہے کہ خود ہی مجھے اس قوم کی باگ ڈور سنبھالنی پڑے گی! اگر آپ مجھ سے متفق ہیں تو ٹھیک ورنہ وطن واپس آ جائیں قوم آپ کے انتظار میں ہے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

میں آپ سے متفق ھوں آپ ملک کی بھاگ ڈور سنبھالئے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم نے جاپان کی ڈور سنبھالی ھوئی ھے۔ہم نےواپس نہیں آنا۔
ہاہاہا

فکر پاکستان کہا...

دھشت گرد اگر امیریکہ کے مخالف ہوتے تو امریکہ کو جا کر مارتے یہاں اپنے مسلمانوں کو نہیں ۔۔
پاکستان جب سے بنا ہے رب سے ہی تاریخ کے عجیب دور سے گذر رہا ہے

Usman کہا...

سر جی!

آپ تاجر طبقے کو تو بھول ہی گئے!

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تاجر عام بندہ تھوڑی ھی۔عام بندہ تو دوکاندار ھے۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

سر جی کیوں دل کو اپلوں کی طرح جلاتے ہیں؟
دل مطلب ہمارا دل
:D

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.