بزرگ

جاپان میں ضعیف العمر حضرات کی تعداد تقریبا آبادی کی پچیس فیصد ھے۔لیکن یہاں ضعیف العمر پینسٹھ سال سے اوپر والے کو کہا جاتاھے۔پینسٹھ سال والا بھی ھٹا کٹا بابا ٹائپ کا لڑکا ھوتا ھے۔ہمارے پاس ایک چوہتر سال کے بزرگ کام کرتے ہیں۔ایسے تیز رفتاراور چست کہ پاکستانی گبرو جوان کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔

برفانی علاقوں میں کئی دفعہ دیکھا کہ مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر برف اتار رھے ھوتے ہیں۔گلی محلے کی برف ھٹانا تو بابوں اور مائیوں کا ھی کام ھوتا ھے۔

کھیتی باڑی کا کام ستر فیصد یہی بابے مائیاں کرتے ہیں۔آجکل فیکٹریوں میں بھی یہی بابے کام کرتے ہیں۔فیکٹری مالکان کو بھی بابے پسند ہیں کہ انکا ھنر اور تجربہ جوانوں کو سکھانے پڑھانے کے کام آتا ھے۔

یہ بابے مائیاں مجبورا کام نہیں کرتے کام کی وجہ ایک ہی ھے کہ ان کی طبیعت بے چین ھوتی ھے۔ سفید بال اورٹانگیں ٹخنے جوکانپتے اور دکھتے نہیں ان کا بھی خیال نہیں کرتے۔بڈھی بہار سے شرماتے بھی نہیں۔

یہاں ایک بزرگ بابا جی ہیں جوچھہترسال کے چھوکرےہیں۔ تقریبا اسی گائیں پال رھے ہیں۔ روزانہ انکا دودھ نکال کر کمپنی کو دیتے ھیں۔
میں ان کے پاس گائیں پالنے کاتجربہ کرنےاور طریقہ سیکھنے گیا تھا۔اب بھی کبھی کبھی چلا جاتا ھوں۔

میں نے ایک دن ان سے پوچھا بابا جی آپ اور آپ کی مائی کافی مالدار بھی ھو بچے بھی آپ کے ھٹے کٹے ہیں۔آپ اتنی محنت کیوں کرتے ھو۔اللہ میاں سے ابھی ہم نے انکا تعارف نہیں کرایا۔۔اس لئے انہوں نے کچھ اس طرح کہا کہ دیوی دیوتا جی نے زندگی دی ھے اس کا شکریہ تو ادا کرنا ہی ھے جب تک زندہ ہیں۔شکریہ ادا کرنے کا طریقہ یہی ھے کہ جب تک صحت ھے اس عطا کئے گئے جسم کا استعمال تعمیراتی کاموں کیلئے کروں۔بس اس لئے کام کرتا ھوں۔

ہمارے پاکستان کے بابے پچاس ساٹھ کے ھوتے ہیں تو جوانی کے قصے بڑے فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔کہ جوانی میں ہم ایسے ھوتے تھے ویسے ھوتے تھے۔اب چل چلاو کا وقت ھے۔بس اللہ اللہ کرتے ہیں۔چل چلاوکے وقت کا اس طرح کہتے ہیں جیسے بچپن اور جوانی میں اللہ میاں سے گارنٹی لی ھوئی تھی کہ بڑھاپے تک جئیں گئے۔ اور ہماری مائیاں بہو کے کیڑے نکالیں گیئں یا اڑوس پڑوس سے پنگا کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرلیں گئیں۔

اگر پاکستانی بابوں سے بندہ کہدے کہ جناب آپ زرا سوشل ورک کر لیا کریں۔ویسے بھی آپ گلی محلے میں بیٹھے آنے جانے والوں کی آنیاں جانیاں دیکھ رھے ھوتے ہیں۔
سوشل ورک اتنا سا ہی کر لیں کہ گلی محلے کی صفائی کرلی مسجد کی صفائی اور مسجد کے آس پاس کا گند صاف کردیا۔

پہلےتو بابےحضرات خوب گالیاں دیں گئے اس کے بعد بندے کے گناھگار و ناہنجار ھونے کی شھادتیں اور فتوے دیں گئے۔
بزرگوں کا لحاظ نہیں ھے۔جوان نسل کیسی بیھودہ اوربد اخلاق ھے۔
جوان نسل اب دیوی دیوتا کے پجاریوں سے اسلام سیکھتی ھے ۔
اور اللہ اللہ کر کے موت کا انتظار کر نے والوں سے بداخلاق اور بد کردار ھو نے کے طعنے۔
توبہ توبہ جوان نسل کیسی گندی ھے!!۔
بزرگ بزرگ Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:44 PM Rating: 5

6 تبصرے:

Saad کہا...

آپ مجھے بابوں سے لِتر مروانے کے چکر میں ہیں

خاور کھوکھر کہا...

ان کافر لوگوں کا صرف دنیا میں حصه هے اس لیے جی یه دنیا کما رهے هیں
مسلمانوں کا اخرت میں گھر ہے اس لیے یه دنیا جہنم بنی هوئی هے
لیکن جیسی طبیت پائی هے ناں جی پاک لوگوں نے میرے خیال میں یه جنت میں بھی دودھ والی نہر کو جاگ لگا دیں گے
اور دھی بنا دیں گے

Usman کہا...

سر جی!
مجھے کسی سیانے نے بتایا تھا کہ جاپانی سانپ تل کر کھاتے ہیں۔ تبھی ایک سو بیس سال سے پہلے نہیں مرتے۔ پتا کریں کہ کتنا سچ ہے؟
وہسے 22 سال میں آپ کی شکل بھی کچھ کچھ جاپانی ہو گئی ہے۔ مطلب کہ سینچری تو کہیں نہیں گئی

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد صاحب بابوں کو بابے ہی راہ لگائیں۔پندرہ بیس سال گر بچ گئے ہم ھہ ان بابوں کا کچھ علاج کریں گئےجی۔

خاور صاحب پتہ نہیں کیوں ان کافروں کی عزت کرتا ھوں۔ان کا ذہنی غلام بھی نہیں ھوں۔انہیں گالیاں بھی دیتا ھوں۔پھر بھی عزت کرنی پڑتی ھے ان کافروں کی۔
عثمان صاحب واقعی وہ کوئی سیانے ھییییییییییی ہیں۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

ہمارے محلے کی ایک گلی میں ریٹائرڈ بابا جی یہی صفائی والا کام کیا کرتے تھے
یار لوگ کہتے تھے
اللہ بچائے ایسی حرامی اولاد سے
جس کے ماں باپ بڑھاپے میں یہ کام کریں
جب یہ پیغام ہم نے حرامی اولاد تک پہنچایا تو اس کے بعد سے بابا جی اپنے مکان کی سیڑھیوں پہ یادوں میں ڈوبے ہی نظر آئے
اب وہ یادیں صفائی سے متعلق تھیں یا جوانی سے متعلق یہ پوچھنے کی ہمیں جرات نہیں ہوئی
کیونکہ بابا جی اب بات بات پہ بڑھکنے لگے تھے

پھپھے کٹنی کہا...

اجمل انکل ابھی آ کر آپکی طبيعت صاف کريں گے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.