بدی برائی اور اچھائی

قانون دنیاو آخرت ھے کہ بدی کی سزا بقدربدی ھے۔قاتل کو ہزار بار سزائے موت دے کر دیکھ لو۔لیکن پہلے ہزار بار جان دے کر دکھاو۔کوئی شخص برائی کو برائی سمجھ کر نہیں کرتا اپنی منفعت یا اپنی خوشی یاکسی سے اپنا بدلہ لینے کیلئے کرتا ھے۔اگر کسی کی سرشست میں بدی ھو اوروہ صرف ہر کسی کا برا ہی سوچے تو اس کی مثال ایسی ہی ھے جیسے کانٹا اور کانٹے کا کام صرف چھبنا اور چھیلنا ھی ھوتا ھے۔

میرے مطابق اللہ نے ہر انسان میں اچھائی اور برائی دونوں رکھ دی ھیں۔جیسے دن کو سورج اور رات کو چاند۔اور حضرت انسان کو تھوڑی تھوڑی چھوٹ بھی دے دی کہ چاھے تو دن میں سورج کی دھوپ میں اپنے آپ کو جلائے یا رات کو اپنے آپ کوبےآرام کرکے تارے گنتا رھے۔

میری سمجھ میں یہی آتا ھے کہ اچھائی اور برائی لازم وملزوم ھیں۔اچھائی ھو گی تو ہمیں برائی کا احساس ھو گا اور برائی ھو گی تو ہمیں اچھائی کا احساس ھو گا۔

جب اچھائی اور برائی کا احساس انسسانوں کے دل سے مٹ جاتا ھے تو شروع ھو جاتا ھے طرفہ تماشہ۔ویسے لفظ طرفہ کامطلب ھو تا ھے عجیب یا انوکھا وغیرہ اور تماشہ کا مطلب ھوا نظارہ۔
اس دور میں ہم روزانہ اپنے معاشرے میں یہ طرفہ تماشہ دیکھتے ھیں۔پاکستان میں ھیں تو زیادہ تعداد میں دیکھتے ھیں۔اوپر سے نیچے تک۔یعنی کہ حکمرانوں اور عظیم عوام دونوں کا۔اگر دیار غیر میں ھیں تو اپنی چھوٹی سی کمیونٹی کا۔

چھوٹی کمیونٹی بڑے معاشرے کا آئینہ ھوتی ھے۔اور آئینہ بندہ دیکھ لے تو سمجھ جاتا ھے۔کہ ان تلوں میں کتنا تیل ھے۔
اگر کسی سے شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی برائی ھو جاتی ھے تو برائی دیکھنے والا اسے دس یا ہزار گنا زیادہ بڑھا چڑھا کر آگے ٹرانسفر کر دیتا ھے۔اور آگے والا حسب توفیق اضافہ فرما کر مزید اگے ٹرانسفر فرما دیتا ھے۔
اگر اس برائی سے کسی نے فائدہ حاصل کیا ھو یا کسی کو تکلیف دی ھو تو پھرجنگل میں منگل اور زبردست قسم کا دنگل کھڑک جاتا ھے۔

اب شروع ھو جاتا ھے بدلہ شدلہ اور انتقام کا نظام۔کیونکہ اگر انتقام نہ لیا گیا تو عزت بے عزتی کا سوال کھڑک کرکے کھڑا ھو جاتا۔

اب کیونکہ معاملہ عزت بےعزتی کا ھے۔قانون دنیا و آخرت بھاڑ میں جھونک دیئے جاتے ھیں۔اللہ میاں کا قانون ھے جی۔بدی کی سزا بقدر بدی۔اور نیکی کی جزادس گنا۔
لیکن بندہ جذبہ انتقام میں یہ سب کچھ بھول جاتا ھے۔تم کا جواب تو سے دیتا ھے اور تو کا جواب لات مکے سے۔

اپنے زخموں کو ہرا رکھتا ھے۔کھاد وغیرہ بھی ڈالتا ھے کہ عزت بےعزتی کا معاملہ ھے۔
ہمارے جاپان میں کچھ ھوائی قسم کے اخبار ھیں جی اردو میں۔
ایک پوڈ کاسٹ اردو نیٹ ھے جی۔
پھر اردو نیٹ ھے۔
پاک نیٹ ھے جی۔
اور ناپاک نیٹ بھی ھے۔

اور اپنے غمخوار نیٹ والے بھی ھیں۔لیکن یہ بے چارے غم کھاتے غم پیتے اورغم لکھتے ھیں۔زیادہ دل جلے تو غمخوار قسم کی تعلیم یافتہ گالیاں دے کر سو جاتے ھیں۔لیکن گالیاں اور گند لکھتے نہیں ھیں۔
سارے بڑے ھی دیندار اور محب وطن لوگ ھیں۔تاریکین وطن ھیں لیکن کیا ھوا ھیں تو محب وطن جی۔

یہ اللہ لوگ ہم پاکستانی کمیونٹی کو باخبر رکھنے کیلئے بےچارے اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ھیں۔پیسہ اس لئے نہیں کہ وہ کوئی خاص لگتا نہیں ھے۔
بس ان سے عرض یہ ھے کہ جاپانی جو کافر بھی ھیں جی! اور آجکل کافی اردو پڑھنا لکھنا بھی جانتے کبھی کبھار پوچھ لیتے ھیں۔کہ یہ کیا ھو رھا ھے۔
ہم کہہ دیتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ھے۔تھوڑی بدی بدی کھیل رھے ھیں۔جیسے گلی ڈنڈا ھوتا ھے۔

تو عرض یہ ھے۔کہ بندے کی بہتری اسی میں ھے۔کہ اپنے دل ودماغ سے انتقام اور کینے کے تمام کمینے خیالات کو نکال کر پھینک دے۔انتقام لینا ایک پہلی شیطانی حرکت ھے جوجناب شیطان نےحضرت باوا آدمٗ سےکی تھی۔انتقام استسقائے روح ھے اس کیلئے جو بدی بندے کرنا چاھتے ھیں۔اس سے بندے خود کو ھی تکلیف پہنچتی ھے۔یہ انتقام بڑا برا جذبہ ھوتا ھے جی۔اپنے مزاج کا سارا زہر الٹا اپنے اوپر اثر کر جاتا ھے۔زہر کا اثر تو بندے کو پتا ھی ھے۔کہ بڑا زھریلا ھوتا ھے۔

تو بدی کرکے اپنی جان کو رنج و تکلیف دینے سے بہتر ھے جی۔
بدی کا بدلہ بدی کے بقدر لے لو۔یا پھر معاف شاف کر کے شاد باد ھو جاو۔
نہیں تو بندہ خود تو غم ورنج و تکلیف میں تو ھو گا ھی دوسروں کو بھی تکلیف دے گا۔اچھائی کی توفیق نہ سہی لیکن بندے کو انسان ھو نے کے ناتے بدی سے بچنا تو چاھے۔

آگ جہنم کی بنی جب عدو تک پہنچی
بدی برائی اور اچھائی بدی برائی اور اچھائی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:31 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.