دھشت گرداورسوچوں کا انتشار

شیر کا شکار کر نے کیلئے جنگل یادریاکے پاس شیر کی کھچار تک جانا پڑتا ھے۔دو ہزار تین کی بات ھے کہ ایک ڈاکٹر صاحب جو انگلینڈ پلٹ تھے۔ہم نے ان سے پو چھا کہ القاعدہ کو امریکہ پر حملہ کر نے کی کیا ضرورت تھی۔اگر القاعدہ نے حملہ نہیں کیا تو اس ڈرامے کی کسی کو کیا ضرورت تھی؟انہوں نے اس وقت ہمیں کچھ اس طرح سمجھایا کہ اب مختلف لوگ مختلف تجزئے بڑھ چڑھ کر میڈیا پر دیں گئے۔لیکن حقیقت یہ ھے کہ نائن الیون القاعدہ نے کیا ھے اور طالبان کو اس کا پتہ تھا حملوں کی تفصیل معلوم تھی یا نہیں لیکن پلاننگ کا طالبان کو علم تھا۔عام مسلمان تو یہ حقیقت جانتا ھے۔کہ جہاں پر مسلمانوں کا مفاد ھو گا یا مسلمانوں پر ظلم ھو گا۔امریکہ مسلمانوں کامخالف ھو گا یا پھر مسلمان مخالف طاقتوں کے ساتھ ھو گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی نااہلی بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ایک اہم وجہ ھے۔کہ مسلمان اپنا یا اپنے مفاد کا دفاع نااہل ھونے کی وجہ سے موثر طریقے سے نہیں کر سکتے۔اورحالات سے دل برداشتہ مسلمان القاعدہ یااس جیسی تنظیم سے منسلک ھوتے جارھے ھیں۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق القاعدہ کی پلاننگ یہ ھے۔شیر کا شکار کرنے کیلئے شیر کی کھچار تک جانے کے وسائل نہیں ھیں تو شیر کو کھچار سے باہر نکالو نائن الیون کے بعد شیر غصے اور انتقام سے پاگل ھو کر کھچار سے باہر نکلا اور لالچ میں عراق بھی پہنچ گیا۔اب اطمینان سے آہستہ آہستہ شیر کو کمزور کیا جائے گا اورمسلمانوں کا روشن خیال اور ماڈرن طبقہ جو راسخ العقیدہ مسلمان کوجاہل سمجھتا ھے۔مسلمانوں کااسلامی ممالک میں جینا حرام کر دے گا۔دو ہزار تین کے بعدکےحالات ہمارے سامنے ھیں۔ پاکستان کے تعلیمی نصاب سے جدید مسلمانوں کا جہاد کی قرآنی آیات کا نکلوانا۔حقوق نسواں کا ڈرامہ، مشرف شاہ صاحب کااپنے آپ کو جدید مسلمان کے طور پرمغربی آقاوں کے سامنے پیش کرنا۔یہ سب کچھ ہم نے ان چند سالوں میں دیکھا ھے۔کیونکہ اب یہ بات عیاں ھے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاھتا ھے ۔اور اس کی وجہ بھی سب کو معلوم ھے۔کہ امریکی معاشیت مزید جنگ کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔اور نہ ھی امریکی قوم مزید تابوت اور پی ٹی ایس ڈی کے مریض وصول کرنے کی ھمت رکھتی ھے۔لی مان شاک کے بعدامریکہ میں بے روزگاری بھی دس فیصد سے زیادہ ھے۔جن کے پاس روزگارھے وہ بھی تنگ دست ھیں۔القاعدہ یہی چاھتا یا چاھتی ھے۔کہ امریکہ کو معاشی طور پر کمزور کر دیا جائے۔جیسے سوویت یونین معاشی طور پر کمزور ھو کر سپر پاور کی کرسی سے اترا تھا۔تو کیا اس دفعہ ایسا نہیں سوچا جا سکتا کہ شہزاد فیصل کو القاعدہ نے استعمال کیا ھو؟تاکہ شیر اپنی کھچار میں واپس نہ جائے۔میرے خیال میں کم وسائل والے القاعدہ والے یا جو کوئی بھی ھیں۔شیر کو دوبارہ غصہ دلا کر اپنے قریب رکھنا چاھتے ھیں۔فیصل شہزاد کی دہشت گردی کی نا کامی پر ہم پاکستانی جو مغربی ممالک یامغربی ممالک کی لابی میں رہتے ھیں۔ہم لوگوں کا واویلاھے کہ اب کیا ھو گا ھمارا تو جینا حرام ھو جائے گا۔پہلے ہی ھم لوگ پریشان ھیں ھماری پریشانیاں اور بڑھ جائیں گئی۔ہم مغربی ممالک میں رہنے والے جدید دور کے جدید انداز کے غلام جو زرمبادلہ کما کر پاکستان بھیجتے ھیں۔پہلے ھی کون سا ان مغرب والوں نے ہمیں آنکھوں میں سجا رکھا ھے!!ہ ان کی مجبوری ھے۔کہ انسانی حقوق کا نعرہ جو انہوں ھی نے لگا رکھا ھے اس کی وجہ ہمیں یہاں سے دیس بدر نہیں کر سکتے۔اور ہماری مجبوری ھے کہ ہم دیس میں بس نہیں سکتے۔کہ ہم ھیں مادہ پرست!!ہ غربت کی زندگی دیس میں گزاریں گئے تو دو آنے کی ھماری عزت نہیں ھے۔حکمران ھمارے جو ہم پر مسلط ھیں۔انہیں بچہ جمھورہ کا کھیل کھیلنے سے فرصت ھو گی تو قوم کو کوئی رستہ دیکھائیں گئے۔قوم !!!ہ کون سی قوم ؟ پنجابی؟ پختون؟ بلوچی؟ سندھی؟مہاجر؟ اور ایک نئی نویلی ھزاروال؟بحرحال یہ تو ھماری سوچ تھوڑی سی پٹڑی سے اتری گئی!! القاعدہ والوں کی چھیڑ خانی سے زخمی شیر مزید بھپھرے گا۔اور ہم لاشے دفنا کے احتجاج کرکے لمبی تان کے سو جائیں گئے۔پھر لاشے گریں گئے اور اس عمل کو ہم دوراتے چلے جائیں گئے۔جنونی ھو کر نفسیاتی مریض پیدا کریں گئے۔اور ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کمائیں گئے۔کوئی موقع مل گیا تو جہاد جہاد بھی کھیل لیں گئے۔امریکہ یا مغربی ممالک میں رہنے والوں سے عرض ھے کہ پریشان ھو کے کیا کرو گئے۔امریکہ یا اس کے حواری جب آپ کا صفایا کر نے کا ارادہ کریں گئے تو وجہ کوئی بھی خود ڈھونڈ لیں گئے۔عراق کی مثال آپ کے سامنے ھے۔نہیں تو تھوڑا پیچھے جائیں۔ جاپانی نژاد امریکیوں کو دوسری جنگ عظیم میں کیمپ نما جیلوں میں بغیر کسی وجہ کے منتقل کر دیا گیا تھا۔جب تک چلتا ھے کمائی جاتے ھیں۔بعد کی بعد میں دیکھیں گئے۔ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ھے۔ہماری گستاخ انگلیوں نے ہماری منتشر سوچوں کو برقی صفحہ پر منتقل کر دیاھے۔اگر آپ ہماری سوچوں سےمتفق نہیں ھیں۔تو ہم آپ سے معذرت خواہ ھیں۔
دھشت گرداورسوچوں کا انتشار دھشت گرداورسوچوں کا انتشار Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 2:09 PM Rating: 5

3 تبصرے:

Saad کہا...

بھائی یہ گریٹ گیم ہے اور ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ مختصراً یہ کہ مسلمانوں کو مار ہی پڑنی ہے ہر جگہ کیونکہ ان کی کوئی تیاری نہیں۔ نہ جنگی اور نہ علمی و معاشی

پھپھے کٹنی کہا...

ھم جو بھی کريں وی آر دی بيسٹ

DuFFeR - ڈفر کہا...

کٹنی صاحبہ نے بالکل صئی کیا اے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.