پیرو مرشد استاد محترم

ہر شخص کی اپنی اپنی یادیں ہوتی ھیں۔ہمارا یہ حال تھا کہ ابھی شعور کی آنکھ کھلی تھی ۔کہ گھر کی غربت پہلے نظر آئی۔دسویں جماعت کے طالبعلم تھے۔تو ایک دن پی ٹی آئی صاحب نے اسمبلی کے دوران ہمیں آواز دے کر آگے بلایا۔اورکچھ کہے بغیر ہمیں مرغا بنا کر ہماری تشریف کی چھترول کی۔غلط فمہی میں مت پڑ جائے گا۔کارو کاری والی چھترول نہیں تھی۔ابھی ہم پندرہ سال کے تھوڑے تھوڑے معصوم تھے۔کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیوں ہمارے ساتھ ایسا ھو رہا ھے۔ویسے ہم پڑھنے میں بڑے لائق فائق تھے۔اور کھیل کود میں بھی اچھل کود اچھی کر لیتے تھے۔پی ٹی آئی صاحب نے ہمیں حکم دیا کہ اسمبلی کے بعد ھیڈ ماسٹر صاحب کے دفتر میں آنا ھے۔ھیڈ ماسٹر صاحب کے دفتر میں جا کر ہمیں پہلی بار پتہ چلا کہ ہم چپل میں آجکل دیکھے جاتے ھیں اس لئے ہماری تشریٖف کی دھلائی کر کے ہمیں احساس دلایا گیا کہ اسکول میں اچھے اور خوبصورت جوتوں میں آیا جاتا ھے۔ھیڈ ماسٹر صاحب سندھ کے تھے۔انہوں نے پوچھا ہم سے بئھی تم پڑھنے میں تو ٹھیک ھو لیکن چپل میں اسکول کیوں آتے ھو؟میں نے ڈرتے ڈرتے جواب عرض کیا جوتے نہیں ھیں اس لئے چپل گھسیٹ رہا ھوں۔پی ٹی آئی صاحب مضر تھے کہ اس کا اسکو ل سے نام خارج کیا جائے۔ھیڈ ماسٹر صاحب جو نہایت حلیم طبع تھے۔انہوں نے مجھے کہا کہ تم ابو سے کہہ کر جو تے کیوں نہیں خریدتے؟میں نے پھر نہایت ڈرتے ڈرتے عرض کیا استاد جی ابا جی کی جیب کا پتہ ھے اس لئے میں جو تے لینےکا بوجھ ابا جی کی ذھن پر نہیں ڈال سکتا۔کہ اور بہن بھائی بھی بہت ھیں۔جن کے نام یاد رکھنے کیلئے مجھے نوٹ بک مضبوطی سے ھاتھ میں پکڑنی پڑتی ھے۔کہیں نوٹ بک گم ھوئی اور میرے بہن بھائی میرے لئے آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ھوئے۔ھیڈ ماسٹر صاحب جن کا نام محترم انیس تھا۔اور میں اب بھی انہیں جب غائبانہ یاد کرتا ھوں تو محترم انیس صاحب ہی یاد کرتا ھوں۔ دل میں بھی محترم یاد کرتا ھوں۔ھیڈ ماسٹر صاحب کچھ دیر خاموش ھوئے اور بولے بیٹا آپ چھٹی کے بعد میرے ساتھ بازار جائیں۔اورمیں آپ کو جوتے لیکر دوں گا۔مجھے اب بھی وہ لڑکا یاد ھے۔جو میں ھوتا تھا!!اس وقت میرا تمام خوف ڈر دور ھو گیا۔میں نے پورے اعتماد سے اور اونچی آواز سے کہا۔ استاد جی میں بھیکاری نہیں ھوں اور صدقہ خیرات ہمیں لگتا نہیں ھے۔کہ میں سید ھوں۔آپ بے شک میرا نام اسکول سے خارج کر دیں۔غربت سے بھی تنگ ھوں محنت مزدوری کرکے گھر والوں کی مدد کروں گا۔پڑھائی میں اب ویسے بھی دل نہیں لگتا۔حلیم طبیعت کے محترم استاد انیس صاحب کا چہرہ لال سرخ ھو گیا اور انہوں نے میری طرف دیکھا بھی نہیں!!!!!پی ٹی آئی صاحب کو ایسے الفاظ سے یاد کیا کہ میں یہاں پر وہ تحریر نہیں کر سکتا۔اور پی ٹٰی آئی صاحب سے کہا کہ آئیندہ اس بچے کے پاس بھی گئے اور کسی دوسرے بچے کو ھاتھ بھی لگایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ھو گا۔پی ٹی آئی صاحب کی تو حالت پتلی ھو گئی۔میری سمجھ میں بھی کچھ نہ آیا۔نہ ابھی تک آرہا ھے!!!!!!ہ پھر انہوں نے مجھے کہا بیٹا آج کے بعد جس حالت میں بھی ھو۔آپ کو اسکول آنا ھے۔جو کچھ آج یہاں ھوا ھے۔اور جو کچھ تم نے کہا ھے۔اس کو کبھی بھی مت بھولنا!! میں ان کا شکریہ کیا ادا کر تا ان کی بھیگی انکھیں دیکھ زبان پر شاید تالے پڑ گئے تھے۔مجھے آج بھی وہ دن یاد ھے۔لیکن وہ دو بھیگی آنکھیں جیسے دماغ پر نقش ھو چکی ھیں۔
جب فضول خرچی پر طبیعت مئل ھوتی ھے تو
وہ دوبھیگی آنکھیں
جب بھی نفس برائی پر اکساتا ھے
وہ دوبھیگی آنکھیں
جب بھی تکبر دل میں سر اٹھاتا ھے۔
تو وہ دو بھیگی آنکھیں مجھے میری اوقات دیکھا دیتی ھیں۔
رنگ ریلیاں منانے ھی نہیں دیتیں وہ دو بھیگی آنکھیں۔
دس جماعتاں پاس کر نے کے بعد مجھے نہیں معلوم استاد محترم کہاں ھیں اور کس حال میں ھیں۔
لیکن جب بھی ان کی یاد آتی ھے تو دل میں ایک کسک سی اٹھتی ھے اور آنکھیں بھیگ جاتی ھیں نہ جانے کیوں!!ہ
جب آپ کسی نہایت خوبصورت عورت کے ساتھ ایک نہایت ھی غیر خوبصورت مرد(بد شکل اس لئے نہیں کہ خالق نے ہر کسی کو خوبصورت بنایا) کو دیکھتے ھیں تو آپ کو لنگور یاد آجاتا ھے۔مجھے بھی اسی طرح پی ٹی آئی صاحب یاد آجاتے ھیں۔استاد محترم سے میں نے کبھی بھی کوئی مضمون نہیں پڑھا۔لیکن مجھے اس وقت کسی دوسرے اساتذہ کرام کا نام بھی یاد نہیں۔استاد محترم کا خیال آتا ھے تو عجیب سی عقیدت دل میں پیدا ھوتی ھے۔ویسے میں غیر مقلد ھوں۔لیکن استاد محترم کو اپنا پیرو مرشد مانتا ھوں۔
پیرو مرشد استاد محترم پیرو مرشد استاد محترم Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:05 AM Rating: 5

5 تبصرے:

جعفر کہا...

انسانیت ۔۔۔۔

Saad کہا...

speechless!

DuFFeR - ڈفر کہا...

میں بی سپیچ لیس

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

wow ....لا جواب یعنی میں بھی سپیچ لیس

عدیل کہا...

بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ یہ تحریر بھی بہت اثر انگیز ہے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.