اعتدال

اعتدال کے بارے میں مذھبی کتابوں میں تو کافی پڑھا ھے۔ہر مطالعہ کا شوق رکھنے والے نے بھی پڑھا ھی ھوگا۔کافی سوچا کہ اعتدال کو روزمرہ زندگی میں کیسے لایا جا سکتا ھے۔چونکہ ہم پاکستانی ہیں ھو ھی نہیں سکتا کہ مذھب میں بھی اور روزمرہ زندگی میں بھی ہم میں انتہا پسندی نہ ھو۔یہ خیال میرا اپنے متعلق ھے کسی دوسری شخصیت کے بارے میں نہیں ھے۔ہماری طبیعت ہر معاملے میں تھوڑی تھوڑی انتہاپسندی پرمائل ھے۔سوچتا ھوں کسی طرح مزاج میں اعتدال آجائے۔اچانک احساس ھواکہ ہم میں تو اعتدال کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا ھے!!!۔

لیکن اس حد تک جس میں ہمارا نفع یا نقصان ھے۔
مثال کے طور پر جب ہم گاڑی چلا رھے ھوتے ھیں۔ٹریفک سگنل لال ھوتا ھے تو ہم منتظر رھتے ھیں بتی سبز ھونے تک اس کے بعد حرکت کرتے ھیں۔

اگر موٹروے پر گاڑی چلا رھے ھوتے ھیں تو کوشش یہی ھوتی ھے کہ جتنی سپیڈ کی اجازت ھے۔اس کے اندر رہ کر گاڑی چلائیں۔
آپ کہیں گئے اس میں اعتدال والی کیا بات ھے؟۔۔۔۔۔آپ کیلئے نہ سہی ہمارے لئے ھے۔

کیونکہ ہمارہ مزاج زیادہ نہیں تھوڑا تھوڑا انتہا پسند ھے
ہمیں معلوم ھے۔ہم لال سگنل پر اشارہ کراس کر سکتے ہیں۔اگر پاکستان میں ھوں۔
لیکن یہاں پر قانون بڑا ظالم اور بے رحم اور اندھا کانا ھے۔
فٹ ٹلا آئے گا اور چالان کاٹکٹ کاٹ دے گا۔

اور مٹھی گرم کر نے کا اشارہ بھی کر دیا تو کام کافی لمبا ھونے کاخطرناک والا خطرہ ھے۔
اس لئے ہم مزاج شریف پر جبر کرکے صبر کر لیتے ھیں لال بتی پر۔

اگر ہم ھائی وے یا موٹر وے پر گاڑی چلا رھے ھوتے ھیں تو ہمیں پتہ ھے۔کہ اگر ایکسیلیٹر پر پاوں کادباو زرا زیادہ کریں تو تین چار گھنٹے کا سفر آدھے وقت میں مکمل کرسکتے ھیں۔لیکن ظالموں نے ایک تو جگہ جگہ پر کیمرے لگا رکھے ھیں۔اور کیموفلاج والی گاڑیوں میں اندھے اورظالم ٹلے بھی پھر رھے ھوتے ھیں۔
اس لئے ہم محتاط ھی رھتے ھیں۔

یہاں کے گاڑیاں بنانے والے جاھل لوھار جو ھیں انہوں نے گاڑیاں ایک سو اسی سے لیکر ڈھائی سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے والی بنائی ھیں۔
اور ناہنجار حکمرانوں نے سڑکیں بھی ریس ٹریک کی طرح کی بنائی ھیں۔

لیکن اندھا قانون اسی کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کی اجازت دیتا ھے اور ایک سو دس کلو میٹر فی گھنٹہ تک آنکھیں بند کر کے جانے دیتا ھے۔
لیکن ہم گاڑیوں کی صلاحیت کے مطابق گاڑی نہیں چلاتے چالان کے ٹکٹ کا سوچ کر گاڑی چلاتے ھیں۔

تو جناب ہم اعتدال پسند ھوئے کہ نہیں؟مزاج پر ظلم و جبر کرتے ھیں۔ بے شک قانون کے خوف سے ھی سہی۔اگر ہم انتہا پسند ھوتے تو یہاں کا قانون ہمارا کیا بگاڑ سکتا؟بس چالان کی رقم کے نقصان کا ھی تو ڈر ھے۔ورنہ دیکھتے آپ ہماری مزاج کی مستانی۔

نوٹ
مفاد کیلئے ابھی ہم اعتدال پسند نہیں ھوئے۔کہ جنگ اور مفاد میں سب جائز ھے۔
اعتدال اعتدال Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:59 AM Rating: 5

2 تبصرے:

DuFFeR - ڈفر کہا...

یہ تو وہی بات ہو گئی مجبوری کا نام شکریہ
اس طرح تو ساری پاسکتانی قوم معتدل ہے
کہ صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتی ہے

اعتدال کا تو فطرت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بھائی یہی بات تو کہنا چاہتا تھا۔ہماری عادتاں اتنی خراب کر دیں ۔فوجیوں تے مولویوں نے کہ اعتدال صرف اسی طریقے سے ہم میں آ سکتا ھے۔باقی ترقی یافتہ اقوام میں بھی اعتدال ایسے ھی آیا ھو ھے۔
میرےخیال میں فطرت اور قدرت نے انتہا اور اعتدال کا اختیار تھوڑا تھو ڑا بندے کو دیا ھوا ھے۔جیسے اچھائی اور برائی کا۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.