ذاتاں پاتاں تے فرقے شرقے

ہم مسلمان ھو نے کی حثیت سے اسلام کا پر چا ر اس طرح کریں کہ اسلام میں مسلمانوں کا ایمان ھے کہ ہر کسی کا خالق اللہ ھے۔اور سب انسان برابری کے حقوق رکھتے ھیں۔معزز وہی ھے جو متقی ھو۔اور متقی کا تقوی اسےدنیا کے جھاڑ جھنکارو کانٹوں سے بچ کر چلنے پر مجبور کرتا ھے۔دین ہمیں سکھاتا ھے کہ ہمارے لئے وہی معزز ھے جو متقی ھے۔لیکن تقوی مسلمان میں کیسے آئے گا۔۔۔۔۔۔۔کافی سوچا لیکن تان آ کر ٹوٹی گھر گھروندےاور خاندان پر ۔۔۔۔یعنی کہ اچھا گھر اچھا خاندان ھو گاتو اولاد کی اچھی پرورش کرے گا۔ لیکن بعض شریف خاندانوں کے اچھے خاصے دیندار ماں باپ کی اولاد کو اخلاقی پستیوں کی انتہا میں بھی دیکھا اور انہی والدین کی دوسری اولاد کے اعلی اخلاق بھی دیکھے۔اور ایسی اچھی اولاد بھی دیکھنے کا اتفاق ھوا کہ جن کے والدین کے پاس بیٹھ کراللہ تبارک تعالی کی واحدانیت کا احساس پختہ ھوا۔ بے شک جسے چاھے وہ نوازے کہ وہ بے نیاز ھے۔
ذات پات کے افضل یا کمین ھو نے کے ہم قائل نہیں کہ یہ کچھ انسانی دل آزاری والی بات ھے۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ خاندانی شرافت انسان کو بے راہ رو ھونے سے روکتی ھے۔لیکن جب حسب و نسب کے تکبر کی انتہا ھوتی ھے تو شاید اللہ تبارک تعالی تکبر کا سر نیچا کر نے کیلئے اونچے شملے والے خاندان میں کچھ مخصوص خصوصیات والی نشانیاں اتارتا ھے۔یہ تکبر ایسا ھے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق ہمیں نظر نہیں آتا۔جن کو ہم کمی کمیں ذاتیں گردانتے ھیں۔وہ مہذب معاشرے میں آرٹسٹ کہلاتے ھیں۔یعنی کے پیشہ ھوا۔ذات پات کے اچھے یا برے ھو نے کایقین رکھنے والے مذھب سے بھی دلائل لے کر آجائیں گئے۔لیکن ہم اس دل کا کیا کریں کے مانتا ھی نہیں۔ہمارے دل میں ذات پات پر ٖفخر کر نے والوں کے لئے کچھ اس طرح کے نا خلف قسم کے خیالات آتے ھیں۔کہ یہ کتے کی دم ھیں۔ہزار کوشش کر لو سیدھی نہیں ہو سکتی۔اس کی وجہ یہ ھے کہ کسی کی دل آزاری کر کے متعبر ھو نے سے بہتر ھے کہ ناپاک کتے کو گلے لگا کر ہم آپنے آپ کو زیادہ متعبر کر لیں۔
اور کچھ ایسے ہی خیالات ہمارے مذہبی و انسانی گروہ بندی کرنے والوں کے لئے بھی ھیں

يوں تو سيّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

دل تو کرتا محترم اقبال کی شان میں گستاخی کر کے مسلمان کی جگہ انسان بھی ھو لکھوں۔لیکن گستاخی کا خیال ھے ھمت نہیں۔
ذاتاں پاتاں کے انسانی گروہ کاایک ننھا ساقصہ یاد آیا۔

مسافروں کا کاروان کسی جنگل سے گذر رھا تھا۔
جنگل میں تیتر بولا تو مسلمان نے کہا سبحان اللہ
یہ تیتر اللہ کی تسبیع کر رھا ھے کہہ رھا ھے سبحان اللہ!! ھندو بولا بھلا تیتر بھی کوئی عربی شناس ھے کہ سبحان اللہ کی تسبیع کرے۔یہ تو رام رام جپتا ھے۔پہلوان بولا کہ زور بازو ھے تو سب کچھ ھے۔یہ تیتر کہہ رھا ھے کھا پی جان شان بنا۔
تاجر بولا یہ کہہ رھا ھے۔انسان کےلئے مال ودولت ہی سب کچھ ھے۔نوٹ شو ٹ بنا۔عیش عیش منا۔
اور برھمن بولا یہ رام نام امرت کا جاپ کرتا ھے۔
یعنی کہ جس کے جہاں سینگ سمائے اس میں گھس گیا۔
ویسے ہم ابھی تک سوچ کے بھنور میں ھی ھیں کہ ہمارا تیتر کیا بولے گا۔کہیں ہمارا تیتر گو نگا تو نہیں؟کچھ بولتا ہی نہیں ہم نے اللہ میاں کے پاس بھی جانا ھے۔وہاں پر بھی شاید ذاتاں پاتاں فرقے شرقے کام آہی جائیں۔
ذاتاں پاتاں تے فرقے شرقے ذاتاں پاتاں تے فرقے شرقے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:51 PM Rating: 5

4 تبصرے:

Jafar کہا...

ڈر تو مجھے بھی لگتا ہے جی
کہ روز قیامت یہ ہمارے عربی شیخ، زبان اور نسل کے بل پر ڈریکٹ جنت میں گھس جائیں گے۔۔۔
اورحوروں سے چہلیں کریں گے
اور ہم ایسے ہی ترستے رہیں گے
جیسے اب انہیں ساری دنیا سے آئی ہوئی خواتین سے چہلیں کرتے ہوئے دیکھ کر ترستے ہیں۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر صاحب آپ ہم سے زیادہ دل جلے ھیں۔لیکن جلنے والی جگہ بڑی مثبت ھے۔lol

پاک لوگ کہا...

ذاتاں پاتاں فرقے شرقے یہ بیماری ھمارے پاکستانی بھا ئیوں میں سب سے زیادہ ھے ۔کسی جگہ ملے گا سوال سب سے پہلا ھوگا ۔ تسی پچو کیدو اَئیو،، پھر جی دوسرا سوال کس ذات وبرادری سے ھو ۔اگر آپ جی اُس کے علاقہ یا ذات سے نہیں تو فیر ،، وعلیکم سلامء،،

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعدصاحب آپ کا بہت بہت شکریہ منہ متھہ
ٹھیک کر نے تک وقت لگے گا

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.