غموں اور دکھوں کا بوجھ ایک جیسا

جاپان میں ہر سال تقریبا تینتیس ہزار خودکشیاں ھوتی ھیں۔خود کشی کی زیادہ وجوھات اعصابی یا ذھنی دباو بتا یا جاتا ھے۔معاشی اور معاشرتی مسائل بھی خود کشی کی اہم وجوہات بتائے جاتے ھیں۔ماہر نفسیات یہی بتاتے ھیں۔کہ معاشرے میں جذب نہ ھو سکنے والے لوگ زیادہ تر خود کشی کا رحجان رکھتے ھیں۔کچھ دن پہلے کی بات ھے کہ جاپان کی اخبار میں ایک ۳۳سالہ شخص کی موت کا ذکر اس طرح تھا کہ بھوکا پیاسا کمرے میں مردہ پایا گیا۔پولیس کی تفتیش کے بعد اسطرح کی بات سامنےآئی کہ ایک سال پہلے تک جس کمپنی میں یہ شخص کام کرتا تھا۔

وہ کمپنی دیوالیہ ھوگئی ۔اور اس شخص کے پاس کوئی جاب نہیں تھی جمع پونجی بھی خرچ ھو چکی تھی۔اڑوس پڑوس والوں کا کہنا تھا کہ نہایت خوش اخلاق اور آتے جاتے اگر کسی سے ملاقات ھو جائے تو سلام و دعا کرتا تھا۔پولیس کی رپورٹ کے مطابق یہ شخص نہایت خوددار تھا۔اور شرم کی وجہ سے کسی سے کچھ نہ مانگا اور نہ ھی حکومتی امداد کے لئے کسی حکومتی ادارے سےرابطہ کیا۔

اس کے علاوہ مقروض اور دیوالیہ ھو کر خود کشی کرنے والوں کی تعداد بھی بہت ھے۔کوئی ٹرین کے سامنے چھلانگ لگاتا ھے تو کوئی پہاڑو جنگل کی طرف نکل کر پھندہ لگا کر خاموشی سے گذر جاتا ھے۔پچھلے سال تک ایک اجتعماعی خودکشی کی وبا پھیلی ھوئی تھی۔اس سال ابھی تک کوئی ایسا واقعہ نظرسے نہیں گذرا۔اجتعماعی خودکشی کا طریقہ یہ تھا کہ کسی ویران جگہ پر چند لڑکے لڑکیاں جو زیادہ تر انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے واقف ھوتے تھے۔گاڑی کے دروازے کھڑکیاں بند کرکے اور سائلینسر کی گیس کو اندر کھینچ کر گھٹن سے خودکشی کرتے تھے۔

ایک پچتہر سالہ ضعیف خاتونہ نے گھر میں گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کی۔چھوڑی ھوئی تحریر سے معلوم ھوا کہ آگے پیچھے کوئی نہیں تھا۔بڑھاپا گھر سے باہر بوڑھا گھر میں گذارنے کے خوف سے زندگی سے جان چھڑائی۔

اجتعماعی خودکشی کرنے والے نوجوانوں کی وجہ خودکشی بھی مستقبل کی تاریکی ہی بتائی جاتی ھے۔ٹھیک نہ ھونے والی اور مسلسل علاج کروانے والی بیماریوں کی وجہ سے بھی خودکشی کی جاتی ھے۔ہمارے ملک میں بھی آجکل معاشی مجبوریوں سے لوگ خود کشی کر رہے ھیں۔معاشی مسائل کی وجہ سے جرائم کی شرح بڑھ چکی ھے۔معاشرہ عجیب انتشار کا شکار ھے۔ترقی یافتہ ممالک کےمعاشرتی حالات پر نظر ڈالتے ھیں تو انسانیت لہو لہان نظر آتی ھے۔

اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ھیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین مانئے ابھی بھی ہر برائی ھونے کے باوجود دنیا کا گندا ترین معاشرہ ھو نے کے باوجود۔۔۔۔۔ بہت ھی بہتر زندگی کی رعنائیوں سے بھر پور نظر آتا ھے۔ہماری اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کا دیوالیہ نکل جانے کے باوجود۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے معاشرے میں جینے کی امنگ نظر آتی ھے۔ترقی یافتہ ممالک کی صاف ستھری لش پش کرتی سڑکیں گلیاں محلے تعلیم یافتہ پڑھے لکھے تہذیب یافتہ عوام لیکن انسانیت یہاں لہولہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے ملک میں گندے پھٹے روڈ گندے غلیظ محلے اور گلیاں۔آپا دھاپی نفسانفسی میں مبتلا گنوار عوام۔۔۔۔انسانیت ہمارے ملک میں بھی لہولہان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے پاس کچھ بھی نہ ھونے کے باوجود کچھ نہ کچھ ھے۔جس کا ہمیں ابھی احساس نہیں ھے۔یا علم نہیں ھے۔جو ان ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کے پاس نہیں ھے۔

اگر اس ھونے اور نہ ھونے کا فرق نہ ھوتا تو ہم کب کے فنا ھو چکے ھوتے۔جیسی زندگی ھماری دشوار ھے۔ترقی یافتہ ممالک کے عوام اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تھوڑی سی بے روزگاری تھوڑی سی بھوک تھوڑی سی خودی و انا کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔اور ہم۔۔۔۔فاقہ مست۔۔۔تذلیل کی انتہا دیکھتے ھیں۔لیکن پھر جیتے ھیں۔بس جئے جاتے ھیں۔
غموں اور دکھوں کا بوجھ ایک جیسا غموں اور دکھوں کا بوجھ ایک جیسا Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:40 PM Rating: 5

6 تبصرے:

سعد کہا...

سنا ہے جاپان میں ہاراکری یا خودکشی ثواب کا کام سمجھ کے کی جاتی ہے۔ اور اس کے باقاعدہ آداب بھی ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

گناہ و ثواب کے چکر میں یہ لوگ نہیں ھیں۔ھاراکیری شرم کی وجہ سے سامورائی حضرات کر تے تھے۔ھارنے یا اپنی کسی قابل شرم حرکت کی وجہ سے ۔اور بھی کئی وجوہات ھیں ۔اور یہی ان جاپانیوں کی صدیوں پرانی نفسیات ھے جس کی وجہ یہ لوگ خودکشی کرتے ھیں۔شرم اور عزت نفس یہ دو چیزیں میں نے ان جاپانیوں میں دیکھی ھیں۔

Jafar کہا...

بھرے پیٹ اور خالی پیٹ کے مسئلے بھی الگ الگ ہوتے ہیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خوب ،جعفر صاحب آپ کا تبصرہ ہمیں پسند آیا۔اور اگلی کیلئے مواد مل گیا۔ترقی یا تنزلی۔۔۔۔۔۔آپ لکھ دیں ترقی یا تنزلی پر میں بعد میں لائن ماروں گا

پھپھے کٹنی کہا...

جناب وہ خودارہيں مانگنے کی بجائے مرنے کو ترجيح ديتے ہيں ہم نے مانگ کر گزارا کر لينا ہے جدھر ديکھيں پاکستانييوں کے ہاتھ پھيلے ہی دکھائی ديں گے

DuFFeR - ڈفر کہا...

پاکستان مین صرف امن و مان کا مسئلہ ہے جو ہمارے ذلیل و حرامی حکمرانوں کی وجہ سے ہے
اس کے علاوہ تو مین کہتا ہوں پاکستان سے اچھی دنیا بھر میں جگہ ہی کوئی نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.