باہر والے باہر والے اندر والے بھی اندر والے

ساتھی بلاگر تانیہ رحمان کے بلاگ پر تحریرپڑھی کہ اچھےوقتوں میں عزیز و اقارب ایک دوسرے کے بہت قریب ھوتے تھے۔غمی خوشی میں سب اکھٹے ھوتے تھے۔
اور جو ملک سے باہر رہنے والے ہیں فیملی کا ہر بندہ چاہے وہ بہن ہے کہ بھائی یہی توقع رکھے گا کہ ملک سے باہر رہنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہی یاد کریں وہی فون کرکے اپنے ہونے کا احساس دلاہیں۔

کیونکہ ہم بوجہ مادیت پرستی کہہ لیں یا بوجہ افلاس کہہ لیں پردیسی اور خوامخواہ جاپانی ھو گئے ہیں۔کچھ ایسا ھی ہم کافی عرصےپہلے سے محسوس کر رھے تھے۔اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کا تو ہم کچھ نہیں کہیں گئے۔کہ وہ فون کریں گئے تو ہمارا تیل جلے گا۔ہم فون کریں گئے تو ہمارا دل جلے گا والی بات ہوتی ھے۔

شروع میں جب ہم نئے نئے باہر والے ھوئے تھے تو بڑے شوق سے اندر والوں کو مہنگی مہنگی کالیں کرتے تھے۔گھر والوں کے علاوہ عزیز واقارب دوستوں وغیرہ کوبھی۔
آجکل کی بات نہیں ھے۔بیس بائیس سال پہلے کی بات ھے۔یہ بھی بتا دیں کہ ہمارے گھر کے علاوہ ہمارے عزیز و اقارب سب عرب ممالک کے پراسرار بکسے لانے والےمالدارتھے۔

تو جناب ہم محبت کے بھوکے فون شون کرتے تھے۔چند ماہ بعد جب ہم نے خود سے ہی رپورٹیں دیں کہ ہم اتنا کما لیتے ہیں۔گھر والے بھی شیٹی باڈی ٹائٹ ھو کر ٹشن مشن سب کو دکھانا شروع ھوگئے۔

تو جناب اب کسی کو پانچ ھزار کی ضرورت ھے تو کسی کو دس ھزار کی اور کسی کو ایک لاکھ کی۔
جناب ہم سے جو ھو سکا کیا۔لیکن جو ہم نے کیا وہ آج تک واپس کرنے کا کسی نے نام بھی نہیں لیا۔
عزیز واقارب کو ہم ڈر کے مارے فون ہی نہیں کرتے کہ معاملہ ھو جائے گا،آبیل مجھے مار والا۔

اگر کسی طریقے سے ہمارے کسی عزیزصاحب کے ہاتھ ہمارا فون نمبر لگ جائے توپہلے شکوے شکایت ھوں گے ایک دو بار ہماری خیر وعافیت معلوم کی جائے گی۔پہلے جو پانج دس ھزار میں جان چھوٹتی تھی اب یہی کچھ پانچ دس لاکھ کی سونف کی سپاری پر چھوٹتی ھے۔

اب اگر مجبوری کا اظہار کریں تو فون پر ہی طعنہ کہ پیسہ کیا آگیا دماغ خراب ھو گیا ھے۔اپنی اوقات بھول گئے ھو۔

ایک دفعہ ہم نے غلطی سے کہہ دیا اگر آپ کو اپنی اوقات یاد ھے تو مجھ بے اوقاتے سے کیوں مانگتے ھو؟ جناب پھر کیا بتاوں جلتی پہ تیل کا کام کیا ہماری زبان نے۔

اس کےبعد ہم نے اماں ابا بہن بھائی سب سے کہہ دیا کہ کسی کو ہمارا نمبر دینے کا نہیں،اگر دیا تو بیرونی امداد بند کر دوں گا۔اب ہمارے گھر والے ہمارا نمبر کوہ نور کے ھیرے کی طرح چھپا کر رکھتے ہیں۔

بیس بائیس سال پہلے کے دور اور اس وقت میں ہمیں تو کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا!!۔
آپ منواتے ہیں تو مان لیتا ھوں۔
باہر والے باہر والے اندر والے بھی اندر والے باہر والے باہر والے اندر والے بھی اندر والے Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 6:18 PM Rating: 5

1 تبصرہ:

DuFFeR - ڈفر کہا...

میں تو سبق پکڑ رہا ہوں ان سارے تجربوں سے

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.