عورت

جاپان میں جب عورت اور مرد شادی کرتے ھیں تو وہ اپنی پسند سے کرتے ھیں۔والدین کی پسند یا شادی دفتر یا ماسی جی کی مدد سے بہت کم شادیاں ھوتی ھیں۔تقریبا’ مغرب کے ممالک میں بھی ایسا ھی ھوتا ھے۔متوسط طبقے میں جھیز وغیرہ کا رواج تقریبا’نہ ھونے کے برابر ھے۔بچے ھونے تک دونوں میاں بیوی کام کرتے ھیں۔زچگی کے دنوں میں عورت تقریبا’تین سےچار ماہ کے لگ بھگ چھٹی کرتی ھے۔ایسے گھرانے بھی ھیں جہاں شادی کے بعد عورت کام نہیں کرتی۔لیکن اکثریت خواتین کی سلسلہ روزگار سے منسلک رھتی ھیں،چاھے وہ جزوقتی کام ھی کیوں نہ ھو۔خواتین کی اکثریت معاشی مسائل کی وجہ سے جاب کرتی ھیں۔
جاپانی عورت بہت محنتی ھو تی ھے ۔بعض اوقات حیرت ھو تی ھے کہ یہ عورتین اتنی محنت کس طرح کر لیتی ھیں۔سلیقہ اتنا کہ گھر کی ہر چیز اپنے مقام پر ھو گی۔گھر عموما نہایت صاف ستھرا ھو گا۔باورچی خانے میں تیل کے دھبے اور جلی ھوئی خوراک نظر نہ آئے گئی۔چولہے کے آس پاس کی جگہ لش لش کر رھی ھو گی۔ساس بہو کی عالمی جنگ پاکستان کی طرح یہاں پر بھی پورے جوش و خروش سے ھو تی ھے۔بھابی اور نندوں کے پر لطف ڈراموں کےنظارے نہ ھو نے کے برابر ھیں۔لیکن خاندانی چوں چوں میں میں ھمارے پاکستان کی طرح ھی ھے۔شادی سے پہلے یہاں کی عورت خوش باش نظر آتی ھے۔اپنا کماتی اور اپنا کھاتی ھے۔آزادی سے زندگی گذارتی ھے۔

جیسے مغربی عورت کبھی اس کے در کبھی اس کے در کبھی دربدر غم عشق تیرا شکریہ میں کس کس سے گذر گئی۔آخر کار فطرت سے مجبور ھو کر شادی رچا لیتی ھے۔لیکن مغربی عورت اور جاپانی عورت کا اکثریتی فرق یہ ھے کہ جاپانی عورت نہایت نفیس واحساس اورصابر ھوتی ھے۔شادی کے بعد جاپانی عورت گھر کا چولہا جلانے کے لئے جاب کرتی ھے۔اور شو ھر اس کا کو ئی احسان نہیں مانتا۔نہ ھی عورت یہ سوچتی ھے کہ میں شوھر پر احسان کر رھی ھوں۔اکژیتی گھرانوں کا حال یہ ھے کہ عورت کو دگنا کام کرنا پڑتا ھے۔جاب بھی کرتی ھے۔بچے پیدا بھی کرتی ھے اورپالتی بھی ھے۔گھر گرہستی کے کا تمام کام عورت کی ذمہ داری ھوتی ھے۔شوہر جاب کرتا ھے اور شام کو نشے میں ٹن ھو کر گھر آتا ھے۔ھفتہ اتوار کو مرد بچوں کو ٹائم دیتا ھے۔بچوں کو باہر گھومانے لےجانا وغیرہ۔یا چھوٹا موٹا گھر کا کام کر لیتا ھے۔

اگر فریقین میں طلاق ھو جائے تو عموما جیسا دنیا میں ھوتا ھے۔عورت بچے پالتی ھے۔مرد خرچہ پانی دے دے تو ٹھیک ھے ورنہ عورت کو ھی سب کچھ کر نا پڑتا ھے۔بھایئوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ھوتی کہ وہ بہن اوراسکے بچوں کو پالیں ۔بیوا بہن کا بھی یہی حال ھے۔والدین جیسے کے دنیا کے ھر ملک میں ایک جیسے ھوتے ھیں شفقت پدری و مدری سے مجبور ان سے جو سکتا ھے کرتے ھیں۔حکو مت بھی الائونس وغیرہ دیتی ھے۔حکومتی الاونس اتنا ھی ھوتا ھے کہ دال روٹی چل جائے۔بچوں کی تعلیم ھمارے میٹرک کے لیول تک جاپان میں مفت ھے۔تھوڑے بہت لنچ وغیرہ کے پیسے دینے پڑتے ھیں۔ آسان الفاط میں کہیں تو یہ جاپانی عورت کی زندگی ھے۔لیکن قریب سے دیکھیں تو پاکستانی مذدور کی طرح بڑی تلخ اور سخت زندگی ھے جاپانی عورت کی۔کچھ کر تو جی نہیں تو مر سانوں کی۔

اب ھمارے پاکستان کی عورت کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں۔جس کےحقوق کے لئے این جی او بہت واویلا کرتی ھیں۔پاکستان میں جب عورت پیدا ھوتی ھے تو ماں باپ کی حفاظت میں ھوتی ھے۔بھائیوں کی لاڈلی ھوتی ھے۔ماں باپ بھائی اپنی بیٹی اور بہن کی حفاظت کرتے ھیں۔پھولوں کی طرح سنبھال سنبھال کر پرورش کرتے ھیں۔جب بیاہ کر پیا گھر جاتی ھے تو شوہر کی غیرت ھو تی ھے۔جب ماں بنتی ھے تو اولاد کی جنت اس کے قدموں تلے ھوتی ھے۔مطلقہ یابیوہ ھو جائے تو ماں باپ بھائی اس کی اور اس کی اولاد کی حسب توفیق پرورش کر تے ھیں۔دیکھیں کتنی آسان ھے پاکستانی عورت کی زندگی!!!۔یہ تو ھمارے معاشرے میں ایک عام شعوررکھنے والے خاندان کی عورت کا حال ھے۔میں نے جب بھی مغربی معاشرے کی عورت اور پاکستانی معاشرے کی عورت کا موازنہ کیا مجھے پاکستانی عورت ھی فائدے میں نظر آئی۔اس میں کوئی شک نھیں کہ پاکستان میں مظلوم عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ھے۔یہ عورتیں انہی مردوں کی عورتیں ھیں جن کی افلاس کی چکی نے انا، خوداری،عزت نفس پیس ڈالی۔اور نہ ہی وہ اپنی دیکھ بھال کر سکتے ھیں نہ ہی اپنی عورتوں کی حفاظت کر سکتے ھیں۔اس طبقے کے مردوں اور عورتوں کے حقوق کی پامالی درمیانہ اور اونچا طبقہ کر تا ھے!!!ان کے حقوق کی پامالی ان کا مال ودولت لوٹ کر نہیں کرتے ان کو گھٹیا اور حقیر سمجھنا ھی ان کے حقوق کی پامالی ھے۔اونچا طبقہ ان سے فاصلہ رکھتا ھے کہ ان کو سر چڑہایا تو ان کی عادتیں خراب ھوں گئی۔اوردرمیانہ طبقہ ان کو اونچے طبقے کا نوکر چاکر سمجھ کر ان کو گھٹیا سمجھتا ھے۔نچلے اور انتہائی نچلے طبقے کو اس طرح ھمارے معاشرے میں انکی اوقات میں بند کر دیا جاتا ھے۔اور پھر ان کی عورتوں کے حقوق کے لئے این جی او بنا کر مال بنایا جاتاھے۔کیسے حقوق کہاں کے حقوق؟جن سے انسان ھونے کا شعور ہی چھین لیا جائے ان کے کیا حقوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا جن کو انسان ہونے کا احساس ہی نہ دلایا جائے ان کے کیسے حقوق؟ یہ این جی او ،اور روشن خیال خواتین و حضرات پاکستانی عورت کو کونسے حقوق دلانا چاہتے ھیں؟مغربیت کے رنگ میں رنگنا چاھتے ھیں پاکستانی عورت کو؟تو مغرب کی عورت کہاں آسان زندگی گزار رھی ھےسب سے سستی تو جنس نازک ھے اس مغربی معاشرے میں حتی کہ اس مغربی معاشرے میں عورت جاب کرتی ھے تو مرد کی نسبت تنخواہ اس کی کم ھے اور کام ایک جیسالیا جاتا ھے۔مجھے تو پاکستانی گدھے اور مغربی عورت میں کوئی فرق محسوس نہی
ں ھوا!!گدھا حیوانی مزدور اور مغربی عورت انسانی مزدور!!یہ این جی او پاکستانی عورت کو غم عشق کے حقوق دینا چاہتی ھیں۔ اور پا کستانی مرد کی زندگی کو رنگین کر نا چاہتی ھیں۔پاکستانی مرد تو اپنی بہن بیٹی کی عزت کا رکھوالا ھے اور دوسروں کی عورتوں کو دیکھ کر دل بے حیا کو سکون دیتا ھے۔این جی او یا عورت کومغربی حقوق دینے کی کوششیں کر نے والوں سے عرض ھے کہ مغرب کی عورت اور پاکستانی عورت کے حقوق میں کوئی خاص فرق نہیں ھے۔فرق صرف ایک ھی ھے۔وہ ھے حقوق غم عشق۔
عورت عورت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 3:43 PM Rating: 5

13 تبصرے:

پھپھے کٹنی کہا...

ميرا ٹاپک چھين ليا ہے جاپانی خدا کو کيا منہ دکھائيں گے روز قيامت

پھپھے کٹنی کہا...

پاکستانی عورت دنيا کی آرام دہ حالت ميں رہنے والی خواتين ميں ٹاپ پر ہيں بس دو وقت کی ہانڈی گھولی اور پھر سر پر پٹی اور ہائے وائے

احمد عرفان شفقت کہا...

۔شوہر جاب کرتا ھے اور شام کو نشے میں ٹن ھو کر گھر آتا ھے


کیا ہر جاپانی شوہر ہر روز ہی نشے میں گھر اتا ہے؟ دیکھنے میں تو کافی ذمہ دار سے لگتے ہیں جاپانی لوگ۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

احمد عرفان شفقت صاحب۔بے شک جاپانی ذمہ دار ھوتے ھیں۔لیکن عورت اور بیوی کی حالت ایسی ھی جیسی ھمارے ذمہ دار نظر آنے والے طبقے کی عورت کی ھوتی ھے۔یہاں کی عورت صابر ہوتی ھے اس لئے سر پرپٹی اور ھائے ھائے نہیں کرتی۔اب دیکھیں پھپھے کٹنی صاحبہ کو دو وقت کی ھانڈی روٹی کی اور ساس نندوں کو لتاڑا اورنیٹ پر بیٹھ گئی۔ہمارے بھیا واپس گھرآئے ایک نوالا روٹی مانگا تو ایسی گھرکی دیتی ھیں کہ ساتھ والے رسٹورنٹ پر جاتے ھیں بےچارے۔ویسے ہر جاپانی شوہر غیر ذمہ دار نہیں ھوتا ۔نشے میں ٹن سبھی گھر واپس آتے ھیں۔

Saad کہا...

حقوقِ نسواں ہو یا حقوقِ نسوار، ان کے علمبردار ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ارے سعد صاحب حقوق نسوار کے ھم کرتا دہرتا ھیں۔حقوق نسواں اور حقوق نسوار کو ملا کر ہماری نسوار کی تحقیر نہ کریں۔ہ
lol

Jafar کہا...

ناں جی ہماری این جی او والی خواتین چاہتی ہیں کہ
پاکستانی عورتیں بھی کوئی کام وام کیا کریں۔۔۔
صرف بچے ہی پیدا نہ کریں اور انہیں پالیں
زندگی کا مزا بھی لیں
اور مردوں کو یہ مزا بھی دیں
یہ کیا کہ ایک ہی مرد کے کھونٹے سے بندھی رہیں۔۔۔
زندگی میں کچھ رنگینی بھی ہونی چاہیے۔۔
دن کو کمائیں۔۔۔ رات کو عیش کریں۔۔۔
پرائم ٹائم گزر جائے تو کسی گدھے کو شوہری کے رتبے پر فائز کردیں۔۔۔
اللہ اللہ خیر صلا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی بالکل جنا ب جعفر صاحب ہم نے تو یہی دیکھاھے یورپی ممالک میں۔اور یہاں کی عورتیں بعض اوقات تعداد عشق فخریہ انداز میں بھی بیان فرما رہی ھوتی ھیں۔ایسے ھی جیسے ہم پاکستانی اپنے گناہ فخریہ انداز میں بیان فرماتے ھیں۔

y کہا...

میں بڑے مان سے بڑے چاؤ سے
تیری یہ تحریر پڑھنے آیا تھا
پر ایک تبصرے کے علاوہ مطلوبہ "میٹیریل" دستیاب نہیں ہوا
جاپان میں بچون پہ جنسی تشدد ودد نی ہوتا
لکھ دیں کبھی
تا کہ ہم بھی کچھ مزے لے کے پڑھ لیں
;)

DuFFeR - ڈفر کہا...

مجھے لگتا ہے میرا تبصرہ گُم ہو گیا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ڈفر شاید آپ کا تبصرہ خطر ناک تھا

کاشف نصیر کہا...

چلئے جی خیر سے جاپان میں مرد اور عورت شادی کرتے ہیں.

ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک کہا...

السلام علیکم !
خواتین کو اسلامک فیملی سسٹم کے تحت ان کے حقوق ملنے چاہیں
مگر
پاکستان میں حقوق نسواں کی علمبردار این جی اوز والی خواتین خود تو اکثر روڈ پر ریلی میں یا مختلف دفاتر میں نظر آتی ہیں
مگر یہ ہمارے فیملی سسٹم کا بیڑہ غرق کرنا چاہتی ہیں
خواتین کے حقوق کے نام پر اپنا کاروبار چمکاتی ہیں ۔
مغربی سوچ کے مطابق خواتین کو کسی بھی ملک کی تباہی میں استعمال کیا جا سکتا ہے ان میں آزاد خیالی ڈال کر ۔
بہت کم ہی آزاد خیال عورتیں کسی کا گھر آباد کرتی ہیں ۔
www.sayhat.net

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.