پجاری

میرے ایک جاپانی دوست ھیں۔وہ بڈھسٹ مذہب کےپجاری ھیں اور انکا ایک ٹیمپل بھی ھے جس کے کرتا دھرتا وہ ھیں۔انکے ابا جی اور ان کے ابا جی بھی یہی کام کر تے تھے۔کوئی مرجائے تو اسکا کریا کرم کرنااور مخصوص مذہبی تہواروں پر پیروکاروں سے مال بٹورنا بھی ان کے مشغولات میں شامل ھے۔

چند دن پہلے ملنے آئے تو جاپان کی نئی نسل کا دھرم سے دوری کا رونا شروع کیا۔ھم نے
گزارش کی حضرت بھکشو صاحب یہ تو دنیا کے تمام معاشروں کے پوجاپاٹ کروانے والوں کا رونا ھے۔کوئی نئی بات کریں۔حضرت بھکشو کی سوئی تو پورے پونے نو بجے پراٹکی ھوئی تھی۔کہنے لگے کہ میرا مسئلہ یہ ھے کہ ساری دنیاکامعاشی زوال و علم طب کی ترقی اور نئی نسل کی مذہب سے دوری کی وجہ سےمیری دکانداری ماندی چل رھی ھے۔کچھ پریشان ھوں۔

ھم نے پوچھا۔ بھکشو صاحب نئی نسل کی مذہب سے دوری تو سمجھ میں آئی لیکن یہ علم طب کی ترقی دنیاکامعاشی زوال اور زوال دوکانداری کاگٹھ جوڑ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔بکھشو صاحب کے مطابق معاشی حالات خراب ھونے سے بڈھے بڈھیاں اب کفایت شعاری کرتے ھیں نذارنے کا مال کم دیتے ھیں۔اور علم طب میں ترقی کی وجہ سے جیتے بھی بڑا لمبا لمبا ھیں۔بابے مائیاں مر کے نہ دیں تو ھم جیئں کیسے آخر اخراجات بھی نکالنے ھیں۔اور جوان نسل کو دھرم سے دلچسپی ھی نہیں ھے۔پوجا پاٹ کرتے ھی نہیں ھیں کہ نذرنیاز دیں۔اس سے پہلے بھی یہ ھم سے مشورہ کر چکے تھے کہ اگر میں مسلمان ھو کر مسجد بنائوں تو تمارا کیا خیال ھے کہ پاکستانی میرے پاس نماز پڑھنے آئیں گئے کہ نہیں؟میرے اس وقت کان کھڑے ھو گئے تھے کہ دال میں کچھ کالا ھے۔کہ ھمیں کچھ قیافہ شناسی کا دعوی بھی ھے۔اس وقت میں نے جو وجہ پوچھی تھی اس کا جواب بھکشوصاحب نے یہ دے کر مجھے مطمعئن کر دیا تھا کہ پاکستانیوں کو مسجد مل جائے گئی اورمجھے دوکان۔میں نے اس وقت ان سے یہ کہ کر انھیں ٹال دیا تھا کہ پاکستانی کنجوس ھوتے ھیں آپ کو کچھ نہیں دیں گئے۔اس لئے خوامخواہ خرچہ مت کرو۔اس وقت ھمارے پاس ایک مولوی قتل الدین بیٹھے ھوئے تھے۔انہوں نے ہمیں لتاڑنا شروع کر دیا۔کہ یہ کیا تم نے کر دیا۔ایک بندہ مسلمان بھی ھو رھا ھے اور مسجد بھی بنانے کی بات کر رھا ھے اور تم نے اسے راہ راست پر آنے ھی نہ دیا؟کیسے ظالم ھو تم!!خوف خدا ھی نہیں تمہیں!!ہ
تو جناب ھم اللہ میاں سے کیا ڈرتے !!مولوی قتل الدین صاحب سے ڈر گئے کہ کہیں یہ ھمارے واجب القتل ھو نے کا فتوی ہی نہ دے دیں !!وہ دن اور آج۔۔۔۔۔۔ھماری سوئی اٹک گئی پورے پونےنو بجے پر!!! ہ
ہمیں یہ سمجھ نہیں آرھی کہ بھکشو صاحب سچے کھرے اپنے دین کے پجاری یا ھمارے مولوی قتل الدین صاحب!!ھم نے تو صرف اتنی سی کوشش کی تھی کہ بھکشو صاحب کو صحیح اور اصلی بزنس کا مشورہ دیں کہ مسجد اور دوکانداری میں فرق ھو تا ھے!!کل کلاں بزنس نہ ھو اور بھکشو صاحب کردیں دوکان بند۔اور مسلمان کریں جلاو گھیراو!!ھو گیا نا پنگاجی !!اس پنگے سے بچنے کیلئے ھم نے مولوی قتل الدین صاحب کو کر دیا ناراض۔اب ھماری سوئی جو اٹک گئی پونے نو بجے پر اس کی گتھی کو کون سلجھائے!!ھم صحیح تھے یا بھکشو صاحب یا پھر مولوی قتل الدین!! ہ
پجاری پجاری Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 11:30 PM Rating: 5

8 تبصرے:

Saad کہا...

ہاہاہا بہت خوب خواہ مخواۃ صاحب۔
اب اگلی بار جب آپ بھکشو صاحب کو ملیں تو اس کو کہیں کہ اسلام قبول کر کے ایک مزار بنا کے مجاور بن کے بیٹھ جائے۔
اس کے بعد آپ کو معلوم ہی ہے کتنی کمائی ہے اس بزنس میں

Saad کہا...

یہ مہربانی کر کے اپنے بلاگ سے جاپانی غائب کریں بہت کنفیوز کرتی ہے یہ

پھپھے کٹنی کہا...

معاشی بحران کے اس دور ميں ميں تو خود سوچ رہی ہوں تعويز گنڈے کا کاروبار شروع کر دوں دل تو کرتا ہے ادھر ہی شروع کر دوں مگر پوليس سے ڈر لگتا ہے

محمد سعد کہا...

اگر یہ صرف اپنی دکان داری کے لیے مسلمان ہونے کا سوچ رہا ہے تو اللہ کو اس کے مسلمان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلکہ ایسے میں یہ مسلمان ہو کر بڑے فساد کا باعث بنے گا۔
اسے اسلام کی طرف ضرور بلانا چاہیے کہ یہ ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے لیکن اللہ اور رسول کی محبت والے راستے سے۔ دکانداری والے راستے سے نقصان ہی نظر آتا ہے، فائدہ کسی کا بھی نہیں۔
اس سے مجھے یاد آیا۔ وہاں تبلیغی جماعتوں والے بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

سعد صاحب یہاں جاپان میں تبلیغی جماعت والے ھیں ۔اور ماشااللہ ان لوگوں کافی کام کیا ھے۔مساجد بنانے تک۔باقی اللہ ھی اللہ ھے۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاپانی کو ھٹانا چاھتا ھوں لیکن میرے بس سے باہر ھے۔یعنی میں تو کمبل کو چھوڑنا چاہتاھوں۔لیکن کمبل مجھے ھی نہیں چھوڑتا

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پھپے کٹنی آپ ڈریں مت پو لیس کو رشوت میں دے دوں گا۔آپ شروع کریں۔ میرا حصہ مت بھولئے گا

Saad کہا...

go to draft.blogger.com

click on Settings > Formatting > Language > English

Hope it would work for you!

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.