منعافقت و عصبیعت

سب سے پہلے پاکستانی معاشرے میں با عزت رہنے کیلئےآپ کو ایک عظیم قسم کا حسب و نسب چاھئے ھےاگر نہیں ھے تو آپ کمی کمین ھیں۔اور اگر آپ اعلی واولی حسب ونسب کے داعی ھیں تو آپ کوایک عدد شجرہ نسب کا بندو بست کر نا پڑے گا۔اب آپ پاکستانی معا شرے میں باعزت ھیں۔یہ تو ھویئں شروعات۔ اب آپ اگر تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیں تو سونے پہ سوھاگا تمام شرائط پوری ھویئں۔اب جنا ب آپ کے پاس گند کرنے کا سرٹیفیکیٹ آگیا ھے۔لیکن اب آپ کو یہ احساس ستائے گا کہ آپ خوش نہیں ھو۔اب کس بات پر خوشی محسوس نہیں کر رھے یہ آپ کا ترازو ھی آپ کو بتا سکتا ھے۔ کہ ھر بندے کا خوشیوں کو تولنے کا اپنا اپنا پیمانہ ھوتا ھے۔لیکن جو میں نے عموما دیکھا یا محسوس کیا ھے وہ اسطرع ھے کہ بندہ پاکستانی کو یہ احساس ھوتا ھے اور اللہ کاشکر گذار ھوتا ھے کہ اللہ نے اسے اشراف المخلوق بنایا۔ لیکن پھر اپنے آس پاس دیکھتا ھے کہ انسانی شکل وصورت کے کیڑے مکوڑے جو ھیں وہ بھی اشرف المخلوق ھونے کادَعْویٰ کر رھے ھیں بندہ اعلی کو بڑی کوفت ھوتی ھے۔اب اس حال میں آپ کس طرح خوش رہ سکتے ھیں جی!یہ تو ھوا بھت بڑا پنگا۔ اب آپ نکلتے ھیں اپنے جیسے اشرف المخلوق کی تلاش میں اگر آپ مالدار ھیں یا آپ کے باپ دادا کافی حرام کی کمائی آپ کیلئے چھو ڑ گئے ھیں پھر تو کوئی مسئلہ ھی نھیں ھے۔اگر آپ نے خود ھی کوئی جھگاڑ لگایا ھے توپھر تھوڑی سی آپ کو محنت کرنی پڑےگئی۔سب سے پہلے تو آپ مذہب کو دیکھیئں کیونکہ آپ ماشا اللہ مسلمان ھیں۔مذہب میں آپ کو کئی طرح کی گروہ بندی نظر آئے گی گھبرایئں مت!شیعہ، سنی،اہلیحدیث بریلوی دیو بندی ان کے علاوہ وہ بھی ھیں جو باھر والے ھیں اور انکے علاوہ بھی بہت سارے ھوں گئے۔آپ کویہ دیکھنا ھے کہ آپکا مفاد کس میں ھے جھاں پر آپ انسان نما کیڑے مکوڑوں سے دور اشرف المخلوقات میں خوش رہ سکیں!اب آپ کو اپنی پسند کی جگہ مل گئی!لیکن آپ کو کچھ عرصے کے بعد آپکا فرقہ یا گروہ دوسروں سے دبتا ھوا محسوس ھوگا!دوسرے جو انسان نما کیڑے مکوڑے ھیں جی!ان کی ایسی کی تیسی!اب آپ اپنے جیسے اشرف المخلوقات کو جینے کا حق دیں۔انسان نما کیڑے مکوڑوں کو کئی جینے کا حق نہیں ھے۔شاید انکا خالق کوئی اور ھی اللہ ھے۔جس کو آپ نہیں جانتے!لیکن خیال رکھئے گا گوروں کی بات اور ھے وہ تو وہ ھیں جی !ڈالر والے جو ھوئے!انکے سامنے بےشک رام رام کر لیں کو ئی حرج نہیں ھو گا ھو سکے توان کو اسلام کی اعلی تعلیمات کابتا کر مسلمان کر لیں فائدہ ھی ھو گا ! باقی کالے کیڑے مکوڑوں کو آپ معاف مت کرنا کلاشنکوف سے یا راکٹ لانچر سے جیسے بھی ھو صفایا کردیں۔میرے خیال میں آپ اسطرح خوشی محسوس کر سکتے ھیں اور مطمعین زندگی گذار سکتے ھیں۔اگر مذھب میں جانا تھوڑا ساآپ کیلئے مشکل ھے تو آپ سیاست میں چلے جایئں۔ بس جناب اب تو آپ کی بلے ھی بلے ھے بس آوے ھی آوے!سیاست تو جناب بڑا ھی منعافع بخش پیشہ ھے۔ایک توآپ پہلے ھی اعلی خاندان والے ھیں ۔سیاست میں آنے کے بعد آپ مشہور بھی ھونگئے اور آپ کی آنے والی نسلیں بھی عیش کریں گئی انسان نما کیڑے مکوڑوں سے بھی دور خوش وخرم زندگی گذاریں گئی۔آپ کیلئے دعا کریں گئی اس سے آپ کی آخرت بھی سنورےگی۔موجاں ھی موجاں جناب!!سیاست میں اگر آپ آیئں تو آنکھیں کھلی رکھئے گا۔اگر آپ بلوچی ھیں تو بلوچی قوم کیلئے علیحدہ ملک کا نعرہ لگایئں۔مسلمان نما کیڑے مکوڑوں کا جیسے بھی ھو سکے صفایا کرنا مت بھولیں کیونکہ آپ اعلی نسل کے ھیں یہ آپ کا حق ھے۔ اگر سندھی ھیں تو سندو دیش کا نعرہ لگایئں پنجابی ھیں تو پھر تو کوئی مسئلہ ھی نھیں ھے جی!یہ ھیں ھی کمی کمیں کیڑے مکوڑے انکا تو آٹا دال پانی جو ھو سکے بند کر کےانکا صفا یا کریں۔باقی رہ گیا سرحد والے یہ روکھی سوکھی کھا نے والے کیڑے مکوڑے نہ جا نے بھو کے رہ کے بھی یہ کیسے سکون سے رہ رھے ھیں ڈرون حملے بھی کروا کے دیکھ لئے عجیب انسان نما گدھے ھیں۔ بس جناب یہ گدھے ھیں تو ایک ھی جیسے بھوکے ننگےان سے مفا د لینے کا ایک ھی طریقہ ھے۔ان کو لسانی تفریق پر لگا دو۔پھر دیکھو تما شا دور سے کیونکہ کیڑے مکوڑوں کا تماشاقریب سے دیکھنےسے آپ کا دھرم بھرشٹ ھو نے کا خطرہ ھے اس لئے قریب نہیں جانا !!اس کے بعد بھی کوئی مسئلہ نھیں ھے۔آپ کو بھت سارے ایسے ایشو ملیں گئے جس سے آپ کی اشرف المخلوق والی حس تسکین محسوس کرے گی۔یہ پاکستان بڑا زرخیز ھے اعلی نسل کے لوگوں کوخوش رکھنے کے معا ملے میں آپکو کوئی شک ھے تو ایک عام کیڑے مکوڑے سے پوچھ لیں چاھے وہ بلوچی ھو سندھی ھو پنجابی ھو سرحدی ھو اسکا بھی اپنے متعلق دَعْویٰ ھے کہ وہ دوسروں سے اعلی وارفع ھے۔میری تو جنا ب کیا بات ھے میں تو بہت ھی اعلی ھوں۔میں اس دنیا کا بندہ تھوڑی ھوں میں تو مریخ کی مخلوق ھوں۔ سب کی ایسی کی تیسی!!ہ
منعافقت و عصبیعت منعافقت و عصبیعت Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 9:07 PM Rating: 5

8 تبصرے:

Jafar کہا...

یاسر صاحب، بلاگستان میں خوش آمدید
خاور صاحب کا رنگ لئے ہوئے یہ تحریر سوچنے پر مجبور کرتی ہوئی اور آئینہ دکھاتی ہوئی ہے
اور آخر میں‌ای رسمی فقرہ کہ امید ہے آپ اردو بلاگستان میں اچھا اضافہ ثابت ہوں گے

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جعفر صاحب خوش آمدید کھنے کا شکریہ آپکا۔ شاید ھم جاپان والے ایک جیسے دل جلے ھیں کہ ھماری سوچیں ایک جیسی ھیں۔خاورصاحب میرے سینئر ھیں ان سے انشا اللہ کچھ سیکھیں گئے۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

يہ سب کچھ بتانے ميں آپ نے اتنی دير کيوں کی ؟ اگر بيس بائيس سال پہلے بتا ديتے تو ہم بھی کچھ فائدہ اُٹھا ليتے ان زرين مشوروں سے ۔ اب تو ستر سال کے ہو چکے باقی دن تھوڑے رہ گئے ہيں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

محترمی و مکرمی بزرگوار افتخار صاحب اللہ آپکو بہت بہت صحت مندانہ لمبی عمر دے۔بیس بائیس سال آپ کے ھم عمرھمارے ابا جی کے بچے پالنے میں گزر گئے فرصت نہ ملی ۔اس لئے معزرت قبل کریں۔

پھپھے کٹنی کہا...

بالکل چاچا جی کے بلاگ کا گمان ہو رہا ہے آپ ان کے ساتھ ہی رہتے ہيں کيا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں جی آپ کے چاچاجی میرے سسرال کے علاقے کے ھیں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں جی آپ کے چاچاجی میرے سسرال کے علاقے کے ھیں

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی بہت زیادہ منقسم قوم ہے. خاص طور پر اس میں علاقائیت، لسانیت اور صوبائیت کی تقسیم بہت واضح ہے. لیکن کبھی کبھی میں دین اسلام کی برکتوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ کس طرح اس نے بہت سارے مختلف زبانیں بولنے والوں اور مختلف طبقاتی پس منظر رکھنے والوں کی اس طرح سے ذہنی اور نفسیاتی ہم آہنگی کی ہے کہ آج میں خود کو بہت سارے" اپنوں" میں اجنبی محسوس کرتا ہوں اور بہت سارے "غیروں" سے اپنایت محسوس ہوتی ہے. یہ کمال دین کا ہی ہے اور اس کلمہ کا ہے جو ہمیں ایک لڑی میں پرو دیتا ہے... معاشرے میں ایک طرف تقسیم ہے تو دوسری طرف ایک ہم آہنگی کا عمل بھی نہایت خاموشی کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے الله سبحانه تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ عمل بہت زیادہ اور تیز تر ہو جائے.

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.