فلسفہ زندگی

۲۰۰۸کی بات ھےکہ ساری دنیا میں کاروباری حالات خراب ھوگئےکچھ سمجھ نہ آرھی تھی کہ کیا کریں کوئی خاص مصروفیات نہ تھیں جاپان میں ایسی بری عادت پڑھ گئی کہ غیر متحرک رہنا ھمارے بس سے باھر تھا۔ذھن میں آیا کہ کاروبار کے سلسلہ میں جب بھی نیوزی لینڈ گئے ھمیشہ یہ سو چا کہ کبھی فرصت نصیب ھوئی تو اس خوبصورت ملک میں روز مرہ کی زندگی گذار کر دیکھیں گئےتو اس وقت کیوں نہ؟یہ سوچا اور تین ماہ کیلئے نیوزی لینڈ چلدئےدن میں سکول میں انگلش کلاسیں لیتے تھے اور اس کے بعد آوارہ گردی کرتے تھے ان لمحات میں زندگی کے متعلق بھی سو چتے تھے کہ زندگی ھے کیا؟ کل بچے تھے آج جوان کل بوڑھے ھوں گے یا عالم جوانی میں گزر جائیں گئے اور کبھی کبھی زندگی سے اکتاھٹ بھی محسوس ھوتی تھی۔جیسے ایک گھیسا پٹا شعر ھے صبح ھوتی ھے شام ھو تی ھے زندگی یہوں ھی تمام ھوتی ھے۔یہوں ھی دن گذر رھے تھے کہ ایک دن میں آوکلینڈ کے باغ میں بیٹھا موسم کا لطف لے رھا تھا کہ ایک گندی حالت کے پٹھے پرانے کپڑوں میں ملبو س ایک بھوڑے نے مجھ سے ایک ڈالر مانگا۔میں نے ان سے پوچھا ایک ڈالر کا کیا کرو گئے؟انہوں نے جواب دیا بئیر لوں گا میں نے کہا وہ تو ایک ڈالر میں نہیں آئے گا۔بوڑھے نے کہا اورں سےبھی مانگوں گا جب بہت سے جمع ھوںگے تو لے لوں گا۔اب مجھے یاد آیا کہ میں تو مسلمان ھوں اور یہ جتانے کا موقع ھے میں نے بوڑھے سے کہا بابا ھم ھیں مسلماں اور شراب ھم پیتے ھیں نہ پلاتے کہ اس سے ذندگی ھو تی ھے تباہ جیسے تماری ھے اس وقت تباہ اور بیڑا غرق جیسے بحرالکاھل میں۔ بابا جی تپ گئے اور مجھے سنایئں گندی گندی گالیاں اور مستقل مزاجی ایسی کے گالیاں دینے کے بعد پوچھنے لگے ایک ڈالر دو گئے یا جأوں؟ میں نے بابا جی سے کھا باباجی گالیاں تو دے لیں آپ نے یہ بتائیں کہ آپ ھو بھی ضعیف العمر آپ نے اتنی لمبی عمر میں گند ھی کیوں کیا؟آپ کے پاس چانس تھا آپ اچھی زندگی بھی تو گذار سکتے تھے؟فلاحی الاونس بھی شراب میں بھا دیتے ھو اور ھر کسی سے ایک ایک آنا بھی مانگتےھو نہ دے تو گندی گندی گالیاں دیتے ھو کتنے گندے بابے ھو آپ؟شرم نہیں آتی آپ کو؟بابا جی نے میرا منہ دیکھا اور خاموشی سے میرے پاس بیٹھ گئے۔میں سمجھا کہ میں بابا جی سے جیت گیا۔ باباجی بولے ننھے منے یہ بتا تو نے اپنی ننھی منی زندگی میں کیا کھایا کیا پیا؟میں نے سر کھجایا اور بولا بابا جی یہ ھی سجھنے کے لئے اس باغ میں بیٹھا بلبلوں کی چہکار سن رھا ھوں۔لیکن آپ سے ایک ڈالر تو نہیں مانگا۔بابا جی شروع ھوگئے بڑا لمبا قصہ تھا۔قصہ مختصر ان کے ھو تے تھے دو بیٹے اور ایک عدد بیوی ویسی ھی جیسی ھماری ھوتی ھے۔تینوں مر گئے۔بابا جی کے پاس ایک عدد فارم اور چند خنزیر بھڑیں اورمرغیاں رہ گئیں۔بابا جی تھے مالدار جوانی میں اب بھی شراب چھوڑدیں تو گذارہ اچھا ھو سکتا تھا۔اخر میں بابا جی بولے اپنے ھاتھ کو دیکھو اس میں ھیں پانچ انگلیاں سیدھے ھاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع اور انگھوٹھے تک گنو یہ ھوئی پانچ ٹھیک۔چھوٹی انگلی ھوئی پیدائش کی ساتھ والی ھئی بچپنے کی درمیانی ھوئی جوانی کی انگوٹھے سے پہلی ھوئی بڑھاپے کی اور انگوٹھا ھوا موت کا۔ یہ ھے زندگی۔۔۔باباجی کچھ دیر خاموش رھے میں نے بھی نہ چھیڑاباباجی کچھ دیر بعد بولے پیدائش ھو گئی ھماری بچپنا گذر گیااب ھے جوانی تم ھو جوان اور میں اپنے آپ کوبوڑھا سمجھتا نھیں ھوں۔ یعنی کہ ھم ھیں اس وقت زندگی کی درمیانی انگلی پر باقی رہ گیا بڑھاپا اور موت جس کے متعلق ھمیں کوئی پتہ نھیں ھے کہ بڑھاپے تک جیئں گئے یا پہلے ھی موت آجائے گی۔تو ینگ مین ھم ھیں اس وقت حال میں یعنی جوانی میں اس حال میں اپنی پسند کی زندگی گذارنا اور خوش رھنا ھمارا حق ھےجیسے چاہیں جیئں اگر اس حال میں خوش نہیں رہ سکتے تو ھاتھ کا بنائو مکا اور شیشے کے سامنے کھڑے ھو جاو اور درمینانی انگلی کھڑی کر کے دیکھ لو۔جب بابا جی جانے لگے تو میں نے اپنی خوشی سے انے دس ڈالر دئے۔اگر آپ اپنے حال سے خوش نہیں ھیں تو یہ تجربہ کر کے دیکھئے گارنٹی ھے کہ کامیاب رھے گا(-!-)
فلسفہ زندگی فلسفہ زندگی Reviewed by یاسر خوامخواہ جاپانی on 1:13 PM Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.